Book Name:Bemar Abid

الحَنّان کی خدمت میں شکایت کی کہ ’’ میں داڑھ کے درد کی وجہ سے ساری رات  سو نہ سکا ۔    ‘‘  اس بات کو میں نے تین باردُہرایا۔    اِس پر اُنہوں نے فرمایا:   تم نے ایک ہی رات میں ہونے والے اپنے دَرد کی اتنی زِیادہ شکایت کر ڈالی!  حالانکہ میری آنکھ کو ضائِع ہوئے تیس برس ہو چکے ہیں ،   (اگر چِہ دیکھنے والوں کو معلوم ہو مگر اپنی زَبان سے )  میں نے کبھی کسی سے اِس کی شکایت نہیں کی!  (اِحیاء العُلوم  ج ۴ص ۱۶۴) اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  

اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

بیمار کے لئے تحفہ

       سرورِ عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: جب کوئی بندہ بیمار ہوجاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے کہ جاکر دیکھو میرا بندہ کیا کہتا ہے۔    بیمار اگراللہ تَعَالٰیکی حمد وثنا کرتا  (مَثَلاً اَلْحَمْدُ للہکہتا ) ہے تو فرشتےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں جاکر اس کا قَول عرض کرتے ہیں اور  اللہ عَزَّ وَجَلَّ خوب جانتا ہے ۔    ارشادِ الٰہی ہوتا ہے :   ’’اگر میں نے اِس بندے کو اس بیماری میں موت دے دی تو اسے جنّت میں داخل کروں گا اور اگر صحّت عطا کی تو اسے پہلے سے بھی بہتر گوشت اور خون دو ں گا اور اس کے گناہ کومُعاف کردوں گا۔  ‘‘  (موطّا امام مالک ج۲ص ۴۲۹حدیث ۱۷۹۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 ’’فضلِ رب‘‘  کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے بیماری کے فضائل پر5 فرامِینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:

 {۱}  بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے کو بیماری میں مبتلا فرماتا رہتاہے یہاں تک کہ اس کا ہر گناہ مٹادیتا ہے۔    (اَلْمُستَدرَک ج۱ص ۶۶۹حدیث ۱۳۲۶)

 {۲}  جب مومن بیمارہوتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے گناہوں سے ایسا پاک کردیتا ہے جیسے بھٹّی لوہے کے زنگ کو صاف کردیتی ہے ۔        (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب  ج۴ ص ۱۴۶ حدیث ۴۲)

 {۳} جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی مسلمان کو جسمانی تکلیف میں مبتلا کرتا ہے تو فرشتے سے فرماتا ہے:  ’’ جو نیک عمل یہ تندرستی کی حا لت میں کیا کرتا تھا اس کے لئے وُہی لکھو ۔   ‘‘ پھراگراللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے شفا عطا فرماتاہے تو اس کے  (گناہ )  دھل جاتے ہیں اور وہ پاک ہوجاتا ہے اور اگر اس کی موت آجائے تواس کی مغفرت فرمادی جاتی ہے اور اس پر رحم کیا جاتا ہے۔    (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۴ ص ۲۹۷حدیث ۱۲۵۰۵)

 {۴} مریض کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے درخت کے پتّے جھڑتے ہیں ۔    (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب  ج ۴ ص ۱۴۸ حدیث ۵۶)

 {۵}  اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے:   جب اپنے بندے کی آنکھیں لے لوں پھر وہ صبر کرے،  تو آنکھوں کے بدلے اسے جنّت دوں گا۔    (بُخاری ج۴ص۶ حدیث ۵۶۵۳)

بغیر بیمار ہوئے وفات

   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں ایک شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے کہا :    ’’یہ کتنا خوش نصیب ہے کہ بیمارہوئے بِغیر ہی فوت ہو گیا ۔   ‘‘ تو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’ تم پر افسوس ہے!  کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کسی بیماری میں مبتلا فرماتا تو اس کے گناہ مٹادیتا۔   ‘‘ (موطّا امام مالک ج ۲ص ۴۳۰حدیث ۱۸۰۱)

ایک رات کے بخار کا ثواب

 



Total Pages: 20

Go To