Book Name:Betay ki Wasiyat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بیٹے کی وصیت([1])

درود شریف کی فضیلت

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  400 صَفحات پر مشتمل شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّارقادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ 1پر ہے : حضرتِ سَیِّدُنا اُبَی بن کَعْبرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے عرض کی کہ میں(سارے وِرد، وظیفے ، دُعائیں چھوڑ دوں گااور)اپنا سارا وقت دُرُود خوانی میں صَرف کرونگا ۔ تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : ’’یہ تُمہاری فِکروں کودُور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تُمہارے گُناہ مُعاف کر دئیے جائیں گے ۔ ‘‘([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                     صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نَدامت کے سبب مَغْفرت

اىکبُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہىں کہ مىں اىک بار نِصْف رات گزر جانے کے بعدجنگل کى طر ف نکل کھڑا ہوا، راستے مىں مىں نے دىکھا کہ چار آدمى اىک جنازہ اُٹھائے جارہے ہىں، مىں سمجھا کہ شاىد اُنہوں نے اسے قتل کىا ہے اور لاش ٹھکانے لگانے کے لىے کہىں لے جارہے ہىں ۔ جب وہ  مىرے نزدىک آئے تو مىں نے ہمت کرکے ان سے پوچھا : ’’اللہعَزَّ  وَجَلَّ کا جوحق تم پر ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے مىرے سوال کاجواب دو!کىا تم نے خو داسے قتل کىا ہے ىا کسى اور نے ؟اور اب تم اسے ٹھکانے لگانے کے لىے کہاں لے جارہے ہو؟‘‘اُنہوں نے جواب دىا کہ نہ تو ہم نے اسے قتل کىا ہے اورنہ ہى ىہ مقتول  ہے بلکہ ہم مزدور ہىں اور اس کى ماں نے ہمىں مَزدورى دىنى ہے ، وہ اس  کى قبر کے پاس ہمارا اِنتظار کررہى ہے ، آؤ !تم بھى ہمارے ساتھ آجاؤ ۔ مىں تجسس کى وجہ سے ان کے ساتھ ہولىا، ہم قبرستان میں پہنچے تو میں نے دیکھا کہ تازہ کُھدی ہوئی قبر کے پاس واقعی اىک بوڑھى خاتون کھڑى تھیں ۔ مىں ان کے قرىب گىا اور پوچھا : ’’ اما ں جان! آپ اپنے بىٹے کے جنازے کو دن کے وقت ىہاں کىوں نہىں لائىں تا  کہ اور لوگ بھى اس کے کفن دفن مىں شرىک ہوجاتے ۔ ؟‘‘اُنہوں نے کہا : ’’ىہ جنازہ مىرے لَخْتِ جِگر کا ہے ، مىرا ىہ بىٹا شرابى اور گنہگار تھا، ہر وقت شراب کے نشے اور گُناہ کے دَلْدَل مىں پھنسا رہتا تھا ۔ جب اس کى موت کا وقت قرىب آىا تو اس نے مجھے بلا کر تىن چىزوں کى وَصِىَّت کى :

1   جب مىں مرجاؤں تو مىرى گردن مىں رسى ڈال کر گھر کے اِرْدْگرد گھسیٹنا اور لوگوں کو کہنا کہ گنہگاروں اورنافرمانوں کى ىہى سزا ہوتى ہے ۔

2      مجھے رات کے وَقت دفن کرنا کىونکہ دن کے وقت جو بھى مىرے جنازے کو دىکھے گا مجھے لعن طَعن کرے گا ۔

3      جب مجھے قبر مىں رکھنے لگو تو مىرے ساتھ اپنا اىک سفىد بال بھى رکھ دىنا کىونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سفىد بالوں سے حىا فرماتا ہے ، ہوسکتا ہے  کہ وہ مجھے اس کى وجہ سے عذاب نہ دے ۔

جب ىہ فوت ہوگىا تو اس کى پہلى وَصیَّت کے مطابق میں نے اس کے گلے مىں رسى ڈالى اور اسے گھسیٹنے لگى تو ہاتِف ِغىبى سے آواز آئى : ’’اے بُڑھىا!اسے ىوں مت گھسىٹو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے اپنے گناہوں پر شرمندگى (ىعنى توبہ) کى وجہ سے مُعاف فرمادىا ہے ۔ ‘‘وہ بُزرگ فرماتے ہیں : ’’جب مىں نے اس عورت کى ىہ بات سنى تو مىں اس جنازے کے پاس گىا ، نمازِ جنازہ پڑھی پھر اسے قبر مىں دفن کردىا ۔ میں نے اس کى ماں کے سر کا ایک سفىد بال بھى اس کے ساتھ قبر مىں رکھ دىا ۔ اس کام سے فارغ ہو کر جب ہم اس  کى قبر کو بند کرنے لگے تو اس کے جسم مىں حرکت پىدا ہوئى اور اس نے اپنا ہاتھ کفن  سے باہر نکال کر بلند کىا اور آنکھىں کھول دىں ۔ مىں ىہ دىکھ کر گھبرا گىا لىکن اس نے مجھے مُخاطَب کرکے مُسکراتے ہوئے کہا : ’’اے شىخ!ہماراربّ عَزَّ  وَجَلَّ بڑا غفورورحىم ہے ، وہ نىکى کرنے والوں  کوبھى بخش دىتا ہے اور گنہگاروں کوبھى

 معاف فرمادىتا ہے ۔ ‘‘ ىہ کہہ کر اس نے ہمىشہ کے لىے آنکھىں بند کرلىں پھر ہم سب نے مل کر اس کى قبر کو بند کردىا اور اس پر مٹى دُرُست کرکے واپس آگئے ۔ ‘‘([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                     صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

گناہوں کا احساس پیدا کیجئے !

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حکایت میں ایک شرابی اور انتہائی پاپی شخص پراللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے رَحم و کرم کا تذکرہ ہے جس سے رحمتِ خُداوندی کی وُسعت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر گُناہوں کی دَلْدَل میں پھنسا ہوا کوئی شخص سَنْجِیدگی سے اپنا اِحْتِساب کرے اور اللہعَزَّ  وَجَلَّ  سے  اپنی خطاؤں کی معافی مانگے تو وہ غفور و رحیم عَزَّ  وَجَلَّ ضرور اس پر اپنے رَحْم و کرم کی بارش فرماتا ہے ۔ مذکورہ حکایت میں اگرچہ اس نوجوان کی توبہ کا واضح تذکرہ موجود نہیں مگر مرتے دم اس نے اپنی ماں کو جو وَصیَّتیں کیں ان سے پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے گُناہوں پرسَخْت نادِم تھا



[1]     مبلغ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شوری حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان۳رمضان المبارک ۱۴۲۹؁ھ بمطابق4ستمبر2008؁ ء بروز جمعرات عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں فرمایا ۔ ضروری ترمیم و اضافے کے بعد۲۵ذوالقعدة الحرام ۱۴۳۴؁ھ بمطابق 2اکتوبر2013؁ ء کو تحریری صورت میں پیش کیاجارہا ہے ۔ (شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیۃ)

[2]     ترمذی ، کتاب صفةالقيامة ، ۲۳-باب ، ۴ / ۲۰۷، حدیث۲۴۶۵

[3]     توبہ کی روایات وحکایات، ص۷۳



Total Pages: 10

Go To