Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

اردن میں عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک خاصی تعداد آباد ہے۔

٭افریقہ کی ایسٹ کوسٹ  (مشرقی ساحل سمندر) پر اسلام پھیلا لیکن اس علاقے میں کبھی مسلمانوں کی کوئی فوج داخل نہیں ہوئی۔

٭ آج کے دور میں سب سے زیادہ پھیلنے والا دین امریکہ،  یورپ اور افریقہ میں اسلام ہے،  آج اُن ملکوں میں مسلمانوں کے ہاتھ میں کون سی تلوار ہے؟ یہ وہی سچ کی تلوار ہے جس نے ہمیشہ دل پر وار کرکے دل کی دنیا کو بدلا ہے،  آج بھی اسی کی برکت سے اسلام پھیل رہا ہے۔

          اسلامی قانون اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے،  یہی وجہ ہے کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہیں مسلمان ملکوں میں بڑے امن اور آزادی کے ساتھ اپنا کام کررہی ہیں ۔

          اسلامی قانون اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ غیر مسلم اپنے پَرسنل مذہبی معاملوں میں اپنی کورٹ قائم کرسکتے ہیں ،  مثلاً فیملی لاء کے معاملات جس کو وہ خود اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق ڈیزائن کرتے ہیں ،  اسلامی ممالک کے اندر سب شہریوں کے جان و مال کی بہت بڑی قدر ہے،  چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ،  لہٰذا یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام تلوار اور طاقت کے زور سے نہیں پھیلا۔

اگر اسلام تلوار سے پھیلا ہوتا تو ہندوستان میں مسلمانوں نے تقریبا ًہزار سال تک حکومت کی تو اتنے لمبے عرصے میں تو وہاں کوئی بھی غیر مسلم نہ بچتا لیکن وہاں اب بھی غیر مسلموں کی اکثریت ہے اور مسلمان اقلیت میں ہیں

 امریکہ اورکینیڈا میں تقریبا ًنو ملین مسلمان ہیں ان پر کون سی تلوار چلی ہے؟

سوال:  قرآن کہتا ہے کہ مسلمان جہاں کہیں غیر مسلم کو پائیں اُسے قتل کردیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام قتل و غارت،  خون بہانا اور بربریت کی ترغیب دیتا ہے؟

جواب:  قرآنِ پاک کی کچھ آیات ایسی ہیں کہ جن کا حوالہ غلط طور پر دیا جاتا ہے یا سیاق و سباق کی وضاحت کیے بغیر اُن کو پیش کیا جاتا ہے اور یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اسلام مسلمانوں کو قتل و غارت کی تعلیم دیتا ہے اور اس بات پر اُکساتا ہے کہ ہر وہ شخص جو دائرۂ اسلام میں نہیں ہے وہ جہاں بھی ملے اسے قتل کر ڈالو۔

          وہ آیت جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ مشرکین جہاں بھی ملیں ان کو قتل کردو،  اس کا صحیح معنی اور محل سمجھنا بہت ضروری ہے اور پوری سورت کا مطالعہ کرنا ناگزیرہے۔

          واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان امن کا معاہدہ ہوچکا تھا،  مشرکین نے اس معاہدے کو توڑ دیا،  اُنہیں چار مہینے کا وقت دیا گیا کہ وہ اس معاہدے کی طرف واپس لوٹ آئیں ورنہ ان کے خلاف جنگ کی جائے گی،  پوری آیت یہ ہے:

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍۚ-فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۵)   (پ۱۰،  التوبۃ: ۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو بے شک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیت میں اُن مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے جنہوں نے مشرکین سے معاہدہ کیا تھا اور مشرکین نے اس معاہدے کو توڑ دیا ،  کوئی بھی کھلے



Total Pages: 55

Go To