Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

اور دشمن جو جنگ کے دوران قید کرلیے گئے ان کے حقوق کی لسٹ بہت لمبی ہے:  مثلا ان کو مارا پیٹا نہ جائے،  کسی زخمی قیدی کو قتل نہ کیا جائے،  کسی لاش کو چیرا یا پھاڑا نہ جائے،  دشمنوں کی لاشوں کو بغیر کسی حیل و حجت کے واپس کیا جائے۔ ([1])

 مندرجہ بالا حقائق سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام ظلم ،   ناانصافی اور بربریت کی ہر گز اجازت نہیں دیتا بلکہ اخلاقِ حسنہ،  انصاف،  برداشت اور امن کی دعوت دیتا ہے۔

          جنگ وجدال کے داغ سے بہت دور رہتے ہوئے اسلام دستورِ حیات ہے اور یہ دین قوموں ،  نسلوں اور قبیلوں کی حدود سے بہت آگے ہے،  اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (۱۳)   (پ۲۶،  الحجرات: ۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللّٰہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللّٰہ جاننے والا خبردار ہے۔

انسانیت بے چین ہے اور دہشت گردی کے کینسرمیں پھنس چکی ہے،  کچھ افراد اور حکومتیں اس دہشت گردی کو مضبوط  (promote)  کر رہے ہیں ،  اِن حالات اور اندھیروں میں اسلام کی روشنی کام آئے گی اور اسلام ہی میں مستقبل کے امن کی امید کی جاسکتی ہے۔

سوال:  کیا مسلمان دہشت گرد ہیں ؟

جواب:  بدقسمتی سے بعض لوگوں نے اسلام کو دہشت گردی کا مترادف سمجھ لیا ہے،  دہشت گردی سے بہت دور اسلام امن پسند دین ہے،  اس کے قوانین مسلمانوں کو امن پسند رہنے ،  امن کی ترغیب دینے اور دنیا بھر میں انصاف کو قائم کرنے کی تعلیم دیتے ہیں ،  اسلام دہشت گردی کو بالکل پسند نہیں کرتا جیسا کہ آج کل غلط طور پر سمجھا جارہا ہے،  اپنے سیاسی یا مذہبی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جہازوں کو اغواء کرنا ،  لوگوں کو یرغمال بنالینا،  لوگوں کو مارنا پیٹنا اور بے قصور لوگوں کو قتل کرنا یہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے کہ اپنے مقاصد کو ان ذرائع سے حاصل کیا جائے،  نہ یہ مسئلوں کا حل ہے اور نہ ہی یہ اسلام پھیلانے کا طریقہ ہے۔

سوال دراصل یہ ہونا چاہیے کہ کیا اسلام دہشت گردی کی ترغیب دیتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ بالکل نہیں ،  اسلام مکمل طور پر ہر طرح کی دہشت گردی کو منع کرتا ہے،  یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر مذہب میں کچھ گمراہ افراد ہوتے ہیں ،  یک جانب نہ ہوتے ہوئے اور انصاف کا دامن تھامے ہو ئے یہ دیکھنا چاہیے کہ کسی مذہب کی تعلیمات کیا ہیں ؟ کیونکہ تعلیمات ہی معیار ہیں جن کے ذریعے سے یہ پرکھا جاتا ہے کہ اس مذہب کے ماننے والے بعض افراد کے اعمال درست ہیں یا غلط ہیں ۔

یہ بالکل ناانصافی ہے کہ اسلام کو چند غلط کام کرنے والے گمراہ اور جاہل لوگوں کے عمل سے جانچا جائے،  درحقیقت اسلام جس بات کی تعلیم دیتا ہے وہ ایک اور چیز ہے اور بعض مسلمانوں کے آج کے دور میں غلط اعمال دوسری چیز ہیں ،  اسلام کے ساتھ انصاف اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ ہم اسلام کی حقیقی تعلیمات کو مانیں جو کہ واضح طور پر قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بیان کردی گئی ہیں ۔

اسلام امن والا دین ہے جس میں انسان اپنی خواہشات کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا میں فنا کردیتا ہے،  اسلام امن کی ترغیب دیتا ہے لیکن ساتھ ہی ظلم و بربریت کے خلاف لڑنے کی بھی دعوت دیتا ہے،  ظلم کے خلاف لڑائی میں کبھی ہتھیاروں کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور کبھی طاقت



[1]    الزرقانی علی المواھب ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ۲ / ۳۲۴  و مسند احمد ، ۱ / ۶۴۳ ، حدیث : ۲۷۲۸



Total Pages: 55

Go To