Book Name:Yaqeen e Kamil ki Barkatain

جُھوٹا خواب بیان کرنے کا عذاب

عرض: جُھوٹا خواب گڑھ کر بیان کرنا کیسا ہے ؟

ارشاد: جھوٹا خواب گڑھ کر سُنانے والا سخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحْبوب،  دانائے غُیُوب ،  مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جو جُھوٹا خواب بیان کرے اُسے بروزِ قِیامت جَوکے دو دانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائیگی اور وہ ہرگز گانٹھ نہیں لگاپائے گا۔ ‘‘  ([1])

ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: ’’ایک شخص ایسا کلام کرتا ہے جس میں  (یعنی کلام کی قباحت اور اس کے انجام کے بارے میں )  وہ غور و فِکْر نہیں کرتا تو وہاِس بات کے سبب جہنم میں اِس مِقْدار سے بھی زِیادہ گرے گا جس قَدَرمَشْرِق ومَغْرِب کے دَرمِیان فاصِلہ ہے۔ ‘‘   ([2]) ياد ركھیے! خواب سُنانے والے سے قَسَم کا مطالَبہ کرنا شرعاً واجِب نہیں، جو مَعَاذَاللہ عَزَّ وَجَلَّجھوٹاہو گا وہ اپنے اس جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے جُھوٹی قَسم بھی کھالے گا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جھوٹا خواب بیان کرنے اور اس کی تعبیر پوچھنے سے بچنا چاہیے کہ جھوٹے خواب کی بھی اگر تعبیر بیان کر دی جائے تو وہ واقع ہوجاتی ہے ،  اس ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ کیجیے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ہِشام علیہ رَحْمَۃُ  اللہ السَّلَام فرماتے ہیں : ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سِیْرین علیہ رَحمَۃُ  اللہ المُبین سے ایک خواب بیان کیا ،  کہنے لگا: میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک شیشے کا پیالہ ہے،  جس میں پانی بھی موجود ہے ،  وہ پیالہ توٹوٹ گیا ہے ،  مگر پانی جوں کا توں موجود ہے ،  یہ سن کر آپ رحمۃُ  اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر ،   (اور جھوٹ نہ بول )  کیونکہ تو نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا ،  وہ شخص کہنے لگا : سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں آپ رحمۃُ  اللہ تعالٰی علیہ سے ایک خواب بیان کر رہا ہوں اور آپ رحمۃُ  اللہ تعالٰی علیہ فرمارہے ہیں کہ تو نے کوئی خواب نہیں دیکھا ؟ آپ رحمۃُ اللّٰہتعالٰی علیہ نے فرمایا: بلا شبہ یہ جھوٹ ہے لہٰذااس جھوٹ کے نتیجے کا میں ذمہ دار نہیں ہوں،  اگر تو نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے ،  تو تیری بیوی ایک بچہ جنے گی ،  پھر وہ مر جائے گی اور بچہ زندہ رہے گا ۔ اس کے بعد وہ شخص جب آپ رحمۃُ  اللہ تعالٰی علیہ کے پاس سے چلا گیا تو اس نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی قسم!  میں نے تو ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا تھا ،  یہ سن کر کسی نے کہا: لیکن آپ رحمۃُ  اللہ تعالٰی علیہ نے تعبیر تو بیان کر دی ہے ،  حضرتِ سیِّدُنا ہِشام علیہ رَحْمَۃُ  اللہ السَّلَام فرماتے ہیں : اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس شخص کی بیوی نے ایک بچہ جنا ،  پھر وہ مر گئی اور بچہ زندہ رہا۔   ([3])

خواب کو لوگوں سے چُھپاناکیسا؟

عرض: ایسی صورت میں تو یِہی مُناسِب معلوم ہوتاہے کہ لوگوں میں بیان کرنے کے بجائے خواب کو صیغۂ راز میں رکھا جائے۔

ارشاد: یہ مَحض ایک وَسْوَسَہ ہے، اچّھے اور سچے  خواب بیان کرنے اور سننے  میں کوئی مضایقہ نہیں البتہ  خواب دیکھنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنا خواب تعبیر جاننے  والے یا اپنے کسی خیر خواہ کے سامنے ہی  بیان کرے جو اس کے اچھے خواب  کو بری تعبیر  سے نہ بدل دے ۔حضرتِ سَیِّدُنا ابوقتادہ رضی  اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم،  رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَالتَّسْلِیْم کا فرمانِ عظیم ہے : اچھا خواب اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ہے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے تو جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو اپنے پیارے کے سوا کسی سے بیان نہ کرے  اور جب ناپسند بات دیکھے تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگے اور تین بار تھوک دے اور اس کی خبرکسی کو نہ دے تو وہ خواب اسے مضر نہ ہوگا۔ ([4])

اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت عَلَّامَہ ابو الحسن  اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ الْجَلَال فرماتے ہیں: جب کوئی اچھا خواب دیکھے توصرف اسی شخص سے بیان کرے  جو اس سے محبت کرتا ہے اس لیے کہ محبت کرنے والے کو وہ بات بری نہیں لگے گی جو اس کے دوست کو خوش کرنے والی ہے بلکہ وہ اس کی شادمانی پر خوش ہوگا اور اس بات کا حریص نہیں ہوگا کہ وہ اس کے اچھے خواب کی کوئی بُری تعبیر بیان کرے۔ اگراس نے اپنا خواب کسی ایسے شخص سے  بیان کیا جو اس سے محبت نہیں کرتا تو وہ اس خطرے سے محفوظ نہیں ہوگا کہ وہ  (اپنے بغض وعناد اور حسد کی وجہ سے ) اس کے اچھے خواب  کی کوئی  بُری تعبیر بیان کر دے اور وہ اسی کے موافق رونما ہوجائے  جیساکہ

حدیثِ پاک میں ہے: خواب کا ظہور پہلی تعبیر بیان کرنے والے کے مطابق ہوتا ہے۔ ([5])

 



[1]     بخاری،ج۴،ص۴۲۲،حدیث۷۰۴۲

[2]     بخاری ، ج۴،ص ۲۴۱،حدیث۶۴۷۷

[3]     تاریخ  دمشق، ج٥٣،ص٢٣٢

[4]     مُسلِم،ص۱۲۴۲،حدیث۲۲۶۱

[5]     ابنِ ماجہ،ج۴،ص۳۰۵،حدیث۳۹۱۵ شرح ابن بطال،ج۹، ص۵۵۷



Total Pages: 9

Go To