Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْہَادِی اس آیتِ مبارکہ کے تحت خزائن العرفان میں فرماتے ہیں : اِس آیت میں یہود ونصاریٰ کے سا تھ دوستی و مُوالات یعنی ان کی مدد کرنا ، ان سے مدد چاہنا ، ان کے سا تھ محبت کے رَوابِط رکھنا ممنوع فرمایا گیا۔ شانِ نُزول : یہ آیت حضرتِ عُبا دہ بن صا مِت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ صحابی اور عبدُ اللہ بن ابی سلول کے حق نا زِل ہو ئی جو منا فقین کا سردار تھا۔ حضرتِ عُبا دہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ یَہود میں میرے بَہُت کثیر التعداد دوست ہیں جو بڑی شوکت و قوت وا لے ہیں اب میں ان کی دوستی سے بیزار ہوں اور  اللہ و رسول کے سوا میرے دل میں اور کسی کی مَحَبَّت کی گنجائش نہیں۔ اس پر عبدُ اللہ بن اُبی نے کہا کہ میں تو یہود کی دوستی سے بیزاری نہیں کر سکتا ۔ مجھے پیش آنے وا لے حَوادِث کا اَندیشہ ہے اور مجھے ان کے سا تھ رسم و را ہ رکھنی ضَروری ہے ۔ حُضُور سیِّدِ عا لم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے فرمایا کہ یہود کی دوستی کا دم بھرنا تیرا ہی کام ہے عُبادہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کا کام نہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ کافر کوئی بھی ہوں ان میں با ہَم کتنے بھی اِختلاف ہوں مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں ، اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدَۃٌ(یعنی کفر ایک ہی قوم ہے)اس میں بہت شِدّت و تا کید ہے کہ مسلمانوں پر یہودو نصاریٰ اور ہر مخالِفِ دینِ اسلام سے علیٰحِدگی اور جُدا رہنا واجب ہے ۔

کُفّار سے  دوستی کی ممانعت پراحادیثِ مبارکہ

عرض : کفّار سے دوستی کی ممانعت پر چنداحادیثِ مبارکہ بھی بیان فرما دیجیے۔

ارشاد : قرآنِ مجید کی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی   کُفَّار سے دوستی وہم نشینی کی سخت مُمانَعَت بیان فرمائی گئی ہے ، اس بارے میں چند احادیثِ مبارکہ  ملاحظہ کیجیے اور کفار سے دوستی کرنے اور ان کی صحبتِ بد سے بچنے کا سامان کیجیے :

٭        حضورِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اُس کا حَشر اسی کے ساتھ ہو گا۔([1])

٭        جومشرک سے یکجاہو اور اس کے ساتھ رہے وہ اسی مشرک کی مانند ہے۔([2])

٭        بُرے مُصاحِب(یعنی سا تھی)سے بچ کہ تو اِسی کے ساتھ پہچاناجائے گا۔([3])

٭        بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے پسندفرمایا اورمیرے لئے اصحاب و اَصہار (یعنی وہ رشتے دار جن سے شادی جائز نہیں)پسندکئے اورعنقریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں براکہے گی اوراِن کی شان گھٹائے گی ، تم اُن کے پاس مت بیٹھنا ، نہ ان کے ساتھ پانی پینا ، نہ کھاناکھانا ، نہ شادی بیاہت کرنا۔([4])

٭        میں قسم کھاکرکہتاہوں کہ جوشخص کسی قوم سے دوستی کرے گا اللہتعالیٰ اسے انہیں کاساتھی بنائے گا۔([5])

٭        ہرقوم کے دوستوں کو اللہتعالیٰ انہیں کے گُروہ میں اُٹھائے گا۔ ([6])

میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  کُفَّار سے دوستی وہم نشینی کی مُمانَعَت پرقرآن و حدیث سے کثیردلائل نَقْل کرنے کے بعدخُلاصۂ  کلام یوں اِرشاد فرماتےہیں : بِالجملہ بلاضَرورتِ شَرعِیَّہ اس اَمرکامرتکِب نہ ہوگا مگر دین میں مداہِن (سُستی کرنے والا۔ بات چُھپانے والا) یاعقل سے مَبائن (عاری) ، سُبْحٰنَ اﷲ! کتنے شرم کی بات ہے کہ آدمی کے ماں باپ کواگرکوئی گالی دے اس کی صورت دیکھنے کوروادار نہ رہے اور خدا و رسول کوبُراکہنے والوں کوایسا یارِ غاربنائے!(اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶))  ([7])( ترجمۂ کنزالایمان : ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔ )رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُونَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (یعنی)تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کی اولاد اور ماں باپ اورتمام آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوں۔  ([8])دلائل کثیرہیں اور گوش شِنْوا (یعنی جو سُن کر کہا  مانے اور عبرت حاصل کرے)کو اِسی قدرکافی ، پھرجونہ مانے سنگدل ہے اور کافر آگ ، آگ کاساتھ جوپتَّھردے گا وہ خود اِتناگرم ہوجائے گا کہ آدمی کو اس سے بچنا چاہئے ، پس اگراہلِ اسلام ان لوگوں (یعنی کفار سے دوستی کرنے والوں) سے اِحتِراز (پرہیز) کریں کچھ بے جا نہ کریں گے۔ ‘‘ ([9])      

 



[1]    مُعْجَمِ اَ وْسَط  ،  ج۵،ص۱۹،حدیث ۶۴۵۰

[2]    اَبُو داوٗد  ، ج۳،ص۱۲۲،حدیث۲۷۸۷

[3]    کَنْزُ الْعُمَّال ،  ج۹،ص۱۹،حدیث ۲۴۸۳۹

[4]    کَنْزُ الْعُمَّال ،  ج۱۱،ص۲۴۱،حدیث ۳۲۴۶۵

[5]    جامِع صغیر ، ص۲۰۷، حدیث ۲۷۴۶

[6]    مُعْجَمِ کَبِیْر ،  ج۳،ص۱۹،حدیث ۲۵۱۹

[7]    پ۲ ، البقرۃ : ۱۵۶

[8]    بُخاری ،  ج۱،ص۱۷،حدیث ۱۵

[9]    فتاویٰ رَضَوِیّہ ، ج۲۴ ، ص۳۱۹



Total Pages: 10

Go To