Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

صبروتحمل سے کام لیتے اس ضمن میں حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْغَفَّار کے صبروتحمل کی حکایت ملاحظہ کیجیے چنانچہ تذکرۃ الاولیا میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ  الْغَفَّار  نے کسی یہودی کے مکان کے قریب کرائے پر مکان لے لیا اور آپ کاحُجرہ یہودی کے دروازے سے مُتَّصِل تھا ۔ چُنانچہ یہودی نے دشمنی میں ایک ایسا پر نالہ بنوایا جس کے ذریعے پوری گندگی آپ رَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ کے مکان پر ڈالتا رہتا اور آپ رَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ  کی نماز کی جگہ ناپاک ہو جایا کرتی اور بہت عرصہ تک وہ یہ عمل کرتا رہا لیکن آپ رَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ نے شکایت نہیں کی۔ ایک دن اس یہودی نے خود ہی آپ رَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ سے عرض کی کہ میرے پَرنالے کی وجہ سے آپ (رَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ) كو کوئی تکلیف تونہیں۔ آپرَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : پرنالہ سے جو غَلاظت گرتی ہے اس کو جھاڑو لیکر روزانہ دھو ڈالتا ہوں ، اس لیے مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ یہودی نے عرض کی کہ آپرَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہکو اِتنی اَذِیَّت برداشت کرنے کے بعد بھی کبھی غُصّہ نہیں آیا ؟فرمایا : خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ  جو لوگ غصہ پر قابو پالیتے ہیں نہ صرف ان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں بلکہ انہیں ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہ سن کر یہودی نے عرض کی کہ یقیناً آپ رَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ کا  مَذہب بَہُت عُمدہ ہے کیونکہ اس میں دشمنوں کی اَذِیَّتوں پر صبر کرنے کو اچّھا کہا گیا ہے اورآج میں سچّے دل سے اسلا م قَبول کرتا ہوں ۔ ([1]) اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی ان پر رحمت  ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ فیضانِ اولیاکے صدقے تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ عاشقانِ رسول کی نیکی کی دعوت ، حسنِ اخلاق اور مِلنساری سے بھی متاثر ہو کر سینکڑوں کفار دولتِ اسلام سے مالامال ہوکر سنتوں بھری زندگی گزار رہے ہیں جس کی خبریں وقتاً فوقتاً اندرونِ ملک و بیرونِ ممالک سے موصول ہوتی رہتی ہیں۔ اس ضمن میں ایک مدنی بہار ملاحظہ کیجیےچنانچہ

صوبہ بلوچستان کے علاقے بیلہ(ضلع لسبیلا)کے رہائش پذیر ایک نو مسلم اسلامی بھائی کی داستان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیشِ خدمت ہے : دینِ اسلام کی پُرنور فضاؤں میں آنے سے قبل میری زندگی کے’’ انمول ہیرے ‘‘ کفر و شرک کی تاریک وادیوں میں ضائع ہو رہے تھے۔ خدائے رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّ  کی   شانِ بے نیازی پہ قربان کہ جس نے مجھ نکمّے اور کھوٹے انسان  کو اسلام کی دولت عطا فرمائی۔ میرے  قبولِ اسلام کا سبب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک مبلغ اسلامی بھائی بنے۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن میری ملاقات اس سبز عمامہ سجائے  مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہو گئی۔ وہ اسلامی بھائی مجھے جانتے نہیں تھے ، دورانِ گفتگو جب میں نے اپنا غیرمسلم ہونا ظاہر کیا تو ان کا رنگ ایک دم پھیکا پڑ گیا ، ان کے چہرے پر غم کے آثار نمایاں تھے۔ اس اسلامی بھائی نے نہایت درد بھرے انداز میں اسلام کی عظمت ، اس کے نمایاں پہلو اور مساوات کے بارے میں بتایا کہ اسلام میں کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے یہ میرے بہت بڑے خیر خواہ ہیں ، ان کے دلکش اور لجاجت بھرے انداز نے میرا دل مُوہ لیا۔ ان کی پُر تاثیر گفتگو سے میں بے حد متأثر ہوا کیونکہ آج تک اس انداز میں اسلام کے متعلق کسی نے نہیں سمجھایا تھا نیز اُن کے حُسنِ اخلاق اور ملنساری کے انداز نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ نجات اِسی راستے پر چلنے میں ہے چنانچہ میں نے اسی اسلامی بھائی کے ہاتھ پر ۱۹ جمادی الاخریٰ ۱۴۲۷ ھ بمطابق 12 جولائی 2006 کو کَلِمَۂ طَیِّبَہلَا اِلٰہَ اِلَّا  اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ “ پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔

 میری خوش نصیبی کہ اسلام قبول کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد دعوتِ اسلامی کے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ ایک اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کی بدولت مجھے بھی بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔ اجتماع میں لاکھوں لاکھ عمامے اور داڑھی والے اسلامی بھائیوں کو دیکھ کر دل میں اسلام کی عظمت اور دعوتِ اسلامی کی محبت گھر کر گئی۔ ذکر و دعا اور تصورِ مدینہ نے مجھے ایک پُرکیف روحانیت سے سرشار کر دیا۔ اجتماع کے اختتام پرایک ذمہ دار اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کی بدولت راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے ہمراہ 12 دن کے مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مدنی قافلے کی جہاں دیگر بے شمار برکتیں نصیب ہوئیں وہیں دینِ اسلام کے بہت سارے بنیادی مسائل سیکھنے کا بھی موقع ہاتھ آیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوں اور سنّتوں بھری زندگی گزار رہا ہوں۔  

مُبَلِّغین  کے لیے10مدنی پھول

عرض :  کُفَّارکواسلام کی طرف راغب کرنے اور انہیں نیکی کی دعوت دینے کے لیے مبلِّغ کا کن صِفات سے مُتَّصِفْ ہونا ضروری ہے اس بارے میں کچھ مدنی پھول ارشاد فرمادیجیے۔

ارشاد :  کُفَّارکواسلام کی طرف راغب کرنے اور انہیں مُؤثر طور پرنیکی کی دعوت دینے کےلیے مُبَلِّغین کے  10مدنی پھول ملاحظہ کیجیے :

٭        اِیمانِ مُحکم و یقینِ کامِل : دینِ اسلام کہ مبلغ  جس  کی طرف لوگوں  کو دعوت دے رہا ہے اُس پرخود اس کا ایمان اتنا پختہ اوریقین ایسا مُحکَم (مضبوط) ہو کہ اس میں ذرّہ



[1]    تَذکِرةُ الاولِیا ، ص۵۱



Total Pages: 10

Go To