Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

نبی کے جسم اَطہر پر نجاست ڈال دیتے تھے

تمسخر کرتا تھا کوئی تو کوئی پتھر اُٹھاتا تھا

کوئی توحید پر ہنستا تھا تو کوئی منہ چڑاتا تھا

قریشی مرد اُٹھ کر راہ میں آوازے کستے تھے

یہ ناپاکی کے چھرے چار جانب سے برستے تھے

کلامِ حق کو سُن کر کوئی کہتا تھا یہ شاعر ہے

کوئی کہتا تھا کاہن ہے کوئی کہتا تھا ساحر ہے

مگر وہ منبع حلم و حیا خاموش رہتا تھا

دعائے خیر کرتا تھا جفا وظلم سہتا تھا

اعلانِ نُبُوَّت کے بعد نوسال تک میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مکّۂ مکرَّمہ زَادَہَا  اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں لوگوں میں نیکی کی دعوت دیتے رہے مگر بہت تھوڑے افراد نے دعوت ِاسلام کو قبول کیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیارے پیارے صَحابہ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر کُفّارِ ناہنجارکے ظلم وجَورکازور بڑھتا جا رہا تھا۔ ان ناگُفتہ بِہ حالات میں بالآخِر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ طائِف تشریف لے گئے اور پہلے پہل بَنُو ثَقیف کے تین سرداروں کو اسلام کا پیغام پہنچایا۔

 افسوس!ان نادانوں نے حُسنِ اخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور ، محبوبِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری پیاری باتیں سن کر بجائے سرِ تسلیم خم کرنے کے نہایت ہی سَرکشی کا مُظَاہَرہ کیا  مگرمیرے پیارے آقا میٹھے میٹھے مصطَفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اب بھی ہمّت نہ ہاری اور دوسرے لوگوں کی طرف تشریف لائے اور انہیں دعوتِ اسلام پیش کی مگر ان ظالموں نے صرف اُول فُول بکنے ہی پر اِکتِفا نہ کی بلکہ اَوباش لڑکوں کو بھی پیچھے لگا دیاجنہوں نے آہ!آہ! صد ہزار آہ! میرے میٹھے میٹھے آقا ، رحمتِ عالمیان آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جسمِ مبارَک پر سنگباری شروع کر دی جس سے جسمِ نازنین زخمی ہوگیااور اِس قَدَر خون شریف بہا کہ نعلینِ مُبارَکَین خون مبارَک سے بھرگئیں۔ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بے قرار ہوکر بیٹھ جاتے توکُفّارِ جفاکار بازو تھا م کر اٹھا دیتے ، جب پھر چلنے لگتے تو دوبارہ پتَّھر برساتے اورساتھ ساتھ ہنستے جاتے۔     

بڑھے اَنبوہ در اَنبوہ پتّھر لے کے بَیگانے

لگے مینہ پتّھروں کا رَحمتِ عالم پہ برسانے

وہ اَبرِ لُطف جس کے سائے کو گلشن ترستے تھے

یہاں طائِف میں اس کے جسم پر پتّھر برستے تھے

جگہ دیتے تھے جن کو حامِلانِ عرش آنکھوں پر

وہ نعلینِ مبارَک ہائے خوں سے بھرگئیں یکسر

حُضور اس جَورسے جب چُورہو کر بیٹھ جاتے تھے

شَقی آتے تھے بازو تھام کر اُوپر اٹھاتے تھے

قربان جائیے!سیِّدُالْمُبَلِّغِین ، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرکہ اِتنا ستائے جانے کے باوُجُود بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنی ذات کے لیے غصہ نہیں آتا اور نہ ہی اپنے دشمن کی بربادی وہلاکت کی آرزو ہے۔ اگر کوئی آرزو ہے تو فَقط یہی کہ اسلام کا بول بالا ہو ، اسلام کی روشنی پھیلے اور لوگ خدائے وحدہٗ لاشریک  کی بارگاہ میں جھک جائیں ۔ سیِّدُ الثَّقَلَین ، رحمتِ دارَین ، شَہَنْشاہِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عادتِ شریفہ تھی کہ ہر سال موسمِ حج میں تمام قبائلِ عرب کو جو مکّۂ معظّمہ زَادَہَا  اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً  اور نواحِ مکَّہ زَادَہَا  اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً  میں موجود ہوتے دعوتِ اسلام دیا کرتے تھے ۔ اِسی غَرَض سے ان کے میلوں میں بھی تشریف لے جایا کرتے۔

سرکا ر ِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں کے ڈیروں پر جاکر تبلیغ فرماتے مگر کوئی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے تعاون کرنے میں آگے نہ بڑھتا ، عرب کے ان سب قبائل کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعوتِ اسلام دی مگر کوئی ایمان نہ لایا ، ابو لہب لعین ہر جگہ ساتھ جاتا ، جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہیں بیان  فرماتے تو وہ برابر سے کہتا : اس کا کہنا نہ مانو ، یہ بڑا دروغ گو (یعنی جھوٹا) ، دین سے پِھرا ہو ا ہے۔ (والعیاذ باللہ)۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کو اپنے دین اوراپنے رسُول کا اعزاز منظور تھا ، اس لیے نبوت کے گیارھویں سال ماہِ رجبُ المرَجَّب میں جب آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حسبِ عادت مِنیٰ شریف میں عُقْبَہ کے نزدیک قبیلہ خَزْرَج کے چھ آدمیوں کو اسلام کی دعوت دی تو وہ ایمان لے آئے ۔

انہوں نے مدینہ پاک پُہَنچ کر اپنے بھائی بندوں کو اسلام کی دعوت دی ، آئندہ سال بارہ مرد ایّامِ حج میں مکہ معظمہ زَادَہَا  اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً آئے اور انہوں نے عقبہ کے مُتَّصِل نبی مُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہاتھ پر عورَتوں کی طرح بیعت  کی کہ ہم  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے ، چوری نہ کریں گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ



Total Pages: 10

Go To