Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

کی اس نیکی کی دعوت پر میں نے رضا مندی کا اظہار کیا اور یوں مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگیا۔ وہ مجھے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں لے جانے لگیں ،  وہاں ہونے والے پرسوز بیانات سن کر مجھے نمازوں کی اہمیت اور والدین کے مقام و مرتبے کی حقیقت کا پتہ چلا،  ان اصلاحی بیانات نے میری آنکھیں کھول دیں ،  مجھے زمانۂ سابقہ کی غفلتوں اور بے باکیوں کا شدت سے احساس ہونے لگا اور اس سبب سے عذابِ نار میں جا پڑنے کا اندیشہ مجھے ستانے لگا،  چنانچہ میں نے ایک نئی سنّتوں بھری زندگی گزارنے کا عزمِ صمیم کیا اور اس نیک مقصد کو پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا مدَنی ماحول اختیار کرلیا۔

          مدَنی ماحو ل میں باپردہ اور سنّتوں کی عاشقہ اسلامی بہنوں کی صحبت کا مُیَسّر آئی،  میری زندگی سنورنے لگی،  پنچ وقتہ نمازوں کی توفیق ملنے لگی،  گھر والوں خصوصاً والدین کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے لگی اور ان کی نافرمانی ترک کرکے ان کا ادب واحترام کر نے والی بن گئی۔ میرے اندر آنے والے اس مدَنی انقلاب کو دیکھ کر والدہ بے حد خوش ہوئیں اور مجھے دعاؤں سے نواز نے لگیں ۔ مدنی ماحول اور والدہ کی دعاؤں کی یہ برکت ظاہر ہوئی کہ میرے دل میں علم دین حاصل کرنے کی جستجو پیدا ہوگئی،  میں نے جلد ہی دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے جامعۃُ المدینہ للبنات میں داخلہ لے لیا اور محنت ولگن کے ساتھ علمِ دین حاصل کرنا شروع کردیا،  بعد ازاں اپنی قبر وآخرت کی تیاری کرنے کے ساتھ ساتھ دوسریاسلامی بہنوں کی اصلاح کرنے کا بھی آغاز کردیا۔ یہ تحریر لکھتے وقت آج  ڈویژن مشاورت ذمہ دار کے منصب پر فائز ہوں اور مدنی کاموں میں ترقی و عروج کے لیے کوشاں ہوں ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ ہمیں مرتے دم تک مدَنی ماحول میں استقامت نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                                         صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {6} حیرت انگیز تبدیلی

          بابُ المدینہ  (کراچی)  کے علاقے نیاآباد کی اسلامی بہن اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کا اَحوال کچھ یوں بیان کرتی ہیں کہ دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول جب تک ملا نہ تھامیری زندگی کا کوئی پُرسانِ حال نہ تھا،  حالت یہ تھی کہ نہ تومیں نماز پڑھتی اور نہ ہی قراٰنِ پاک کی تلاوت کر کے اپنے لیے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کرتی،  بس ہروقت غفلت کا شکار رہتی۔ فیشن کرکے بے پردگی کرنا میرا مشغلہ تھا،  بد زبان اتنی تھی کہ بڑوں کی بے ادبی کرنے سے بھی نہ کتراتی تھی۔ عصیاں سے معمور زندگی کے شب و روز بڑی تیزی سے اپنے اختتام کی جانب سے بڑھتے جارہے تھے کہ اس دوران میرے بھاگ جاگ اٹھے اور میری اصلاح کا سامان ہوگیا کہ میری ملاقات دعوتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والی ایک اسلامی بہن سے ہوگئی،  ان کا مجھ سے ملنا محض نیکی کی دعوت کے لئے تھا لہٰذا انہوں نے دینِ اسلام کے حوالے سے گفتگو شروع کردی،  دورانِ گفتگو وہ معاشرے میں پھیلنے والی بداعمالیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ ہمارے اسلاف نے اسلام کی خاطرکتنی قربانیاں دیں مگر افسوس!  آج ہم ان کو نظر انداز کرتے ہوئے احکام ِ اسلام کو پامال کرر رہے ہیں ،  اگر ہم اسی طرح موت سے ہمکنار ہوگئے تو کل قیامت میں اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کیا جواب دیں گے اور کس منہ سے حضور َصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شفاعت طلب کریں گے،  گفتگو کے اختتام پر انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مدَنی ماحول کے بارے میں بتایا اور کہا کہ اگر واقعی ہمیں نیک بننا ہے اور سنّتوں پر عمل کا جذپہ پانا ہے تو دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہونا ہوگا اور سنّتوں بھرے اجتماعات



Total Pages: 12

Go To