Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

وقتی ثابت ہوتی۔ اولاد کے حصول کی فکر میں زندگی کے شب وروز کٹ رہے تھے کہ با لآخر ہم پر کرم ہوگیا اور ہمارا ویران گلشن اولاد کے خوشنما پھولوں سے مہک اُٹھا،  سبب کچھ یوں بنا کہ گھر میں مدنی چینل دیکھنے کا سلسلہ تھا،  اس پر نشرہونے والے اصلاحی بیانات اور مدنی مذاکروں سے کافی کچھ سیکھنے کوملتا،  عمل کا ذہن بنتا اور احکامِ اسلام کی پیروی میں پنہاں فوائد کا بھی علم ہوتا۔ ایک مرتبہ مدَنی چینل پر دعوت ِاسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات کی برکتوں کا بیان کیا جارہا تھا،  جسے سن کر مجھے اپنے مسئلے کا خیال آیا اور ذہن بنا کہ کیوں نہ ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی جائے،  کیا بعید میری مراد بر آئے اور میری خالی جھولی بھر جائے۔ چنانچہ اولاد کے حصول کے لیے میں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کی نیّت کرلی اور 12 اجتماعات کی بلاناغہ شرکت کی ٹھان لی،  یوں میری اجتماع میں حاضری کی ترکیب بننے لگی،  اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکتوں کا بہت جلد ظہور ہوا اور صرف تین اجتماعات میں شرکت کے بعد ہی میرے ہاں امید کی کرن پھوٹ گئی اور میں امید سے ہوگئی،  یہ دیکھ کر میرے دِل میں دعوتِ اسلامی کی محبت مزید بڑھ گئی اور نیکیوں کی طرف میری سوچ و فکر مائل ہوگئی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی اور اس کے تحت ہونے والے اجتماعات کو ترقی عطافرمائے۔  (آمین)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {5} والدین کی فرمانبردار بن گئی

          بابُ المدینہ  (کراچی ) کے علاقے نیا آباد کی اسلامی بہن اپنی توبہ کے احوال کچھ یوں بیان کرتی ہیں :  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں آنے سے پہلے میں مختلف قسم کے گناہوں کا شکار تھی۔ افسوس نمازیں قضاکرنا میری عادت میں شامل ہوچکا تھا مگر مجھے اس کے ہلاکت خیز انجام کا احساس تک نہ تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ علمِ دین سے دوری تھی جس کے سبب میں نمازیں قضاکرنے کی وعیدوں سے ہی لاعلم تھی۔ مزید والدین کی نافرمان بھی تھی اور ان کے ادب واحترام کی بھی مجھے کوئی پرواہ نہ تھی،  اگر والدہ کبھی کسی کام کا کہتی تو میں حکم عدولی کرتی،  وہ سمجھاتیں تو میں زبان چلاتی اور یوں ان کا دِل دکھا کر میں اپنی آخرت کی بربادی کا سامان کرتی۔ میری ان بے ہودہ عادات کی وجہ سے والدہ بہت پریشان رہتی تھیں اور بعض اوقات میری ان بُری عادات کے سبب ان کی زبان پربددعائیں بھی جاری ہوجاتی تھیں ۔

          کبھی  سوچا نہ تھا کہ میری زندگی کا رخ بدل جائے گا،  میں نمازیں پڑھنے والی اور والدین کی اطاعت کرنے وا لی بن جاؤنگی،  اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی فکر میں لگ جاؤنگی۔ مدَنی انقلاب کا نقطۂ آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ ایک روز مدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بہن سے میری ملاقات ہوگئی۔ اس سے قبل دنیا جہاں کے بے شمار لوگوں سے مل چکی تھی مگر آج ایک الگ ہی طبیعت رکھنے والی اسلامی بہن سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا،  وہ مدَنی برقعے میں ملبوس رہنے والی خوش اخلاق اور ملنسار اسلامی بہن تھیں ،  جن کا اندازِ گفتگوبہت ہی میٹھا تھا اور ان کے چہرے پر سعادت مندی کا اثر نمایا ں تھا۔ انہوں نے سلام کرتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا اور اپنے ملنے کے مقصد سے مجھے آگاہ کیا،  انہوں نے بتا یا کہ ایک سچے مسلمان کو کیسا ہونا چاہئے،  اسلام ہمیں کیا سکھاتا ہے،  کن چیزوں سے بچنے اور کن کاموں کے کرنے کا حکم دیتا ہے،  مجھ پر ان کی باتوں کا بڑا اثر ہوا اور ان کی اس اسلامی تربیت کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں یہ جاننے کا شوق پیدا ہوا، جس پر انہوں نے مجھے مدَنی ماحول کا تعارف کرایا اور مجھے بھی انفرادی کوشش کے ذریعے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کا ذہن دیا،  ان



Total Pages: 12

Go To