Book Name:Rasail e Madani Bahar

(15)بداخلاق باکرداربن گیا

        ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے قبل بدقسمتی سے میں گناہوں کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا تھا۔ آہ!فیشن پرستی میرا معمول بن چکی تھی۔ بُرے دوستوں کی صحبت نے میرے اَخلاق وکردار کو دیمک کی طرح چاٹ لیاتھا۔’’ آپ جناب‘‘ سے بات کرنا تو سیکھا ہی نہیں تھا۔ آخرکار میرے خزاں رسیدہ گلشن میں بھی بہار آ گئی، ہوا کچھ یوں کہ ہمارے گھرکے قریب تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے حفظ وناظرہ کے شعبہ ’’مدرسۃُالمدینہ‘‘ کا آغاز ہوا اور خوش قسمتی سے میں نے بھی مدرسۃُالمدینہ میں داخلہ لے لیا۔ مدرستہُ المدینہ کے مدنی ماحول کی برکت اور قاری صاحب کی تربیت سے میں نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی، وہاں کے روح پرور مناظر دیکھے تو دل کو بڑی فرحت ملی اسکے بعد سے اجتماع میں شرکت میرا معمول بن گیا جس سے میرے دل میں دین کی محبت بڑھنے لگی اور میں اپنے تمام سابقہ گناہوں اور بری عادات سے تائب ہو کر مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   تادمِ تحریر حلقہ مشاورت کے خادم(نگران)کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کے لیے کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(16)عشقِ مجازی کا نشہ ہرن ہوگیا

       گلزارِطیبہ(سرگودھا، پنجاب )کے مقیم اسلامی بھائی کی تحریرکا خلاصہ ہے :  برے دوستوں کی صحبت، فضول مشاغل اوربدنگاہی کی عادتِ بدکے سبب میں ایک لڑکی کے عشق میں گرفتارہوگیا، دل ودماغ ہروقت اس کے خیالات میں مگن رہتے ۔ معاشرے میں اس سلسلے میں جوگناہ ہوتے ہیں میں بھی ان میں مصروف رہتا جن کی وجہ سے میری عزت خاک میں مل گئی ، لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگے۔ میری ان حرکتوں پر والدین اوردوست احباب بھی نالاں تھے، بارہا سمجھانے کے باوجود مجھ پرکوئی بات اثرنہ کرتی یہاں تک کہ والدین نے مجھ سے بیزاری کا اظہارکرتے ہوئے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی ، مجھ پر تو عشق کابھوت سوار تھا اس لیے ان کی کسی بات کوبھی خاطر میں نہ لاتا حتی کہ میری حرکتوں کے سبب مجھے گھرسے نکال دیاگیا۔میری بہنوں نے رو رو کر والدین سے التجائیں کیں کہ بھائی کوواپس بلالیں ، چنانچہ مجھے گھر واپسی کی اجازت مل گئی۔کچھ دنوں بعد خوش قسمتی سے میری ملاقات ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہوگئی جوکہ ہمارے شہر مشاورت کے ذمہ دارتھے۔ انھوں نے مجھے بڑی شفقت اورمحبت سے ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ان کی انفرادی کوشش کی بَرَکت سے میں ہاتھوں ہاتھ اجتماع کے لئے تیار ہو گیا۔ اجتماع میں ہونے والاسنتوں بھرابیان میری زندگی میں تبدیلی کاسبب بنا۔ خوف ِخدا اور عشقِ مصطفٰی سے لبریز بیان سن کر میری آنکھوں سے ندامت وشرمندگی کا سیلاب آنسوؤں کی صورت میں اُمنڈآیا عشقِ مجازی کانشہ ہرن ہو گیا میں گناہوں بھری زندگی سے تائب ہوکر نیکیوں کے راستے پرگامزن ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اب میں داڑھی مبارکہ اور عمامہ شریف کی سنت پربھی عمل پیرا ہوں اور علاقائی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے سنّتوں کی ترویج و اشاعت میں کوشاں ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے دعوتِ اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول میں استقامت عطافرمائے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

اجتماعات کیا ہیں ؟

       اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ   تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت موقع کی مناسبت سے مختلف اجتماعات ہوتے رہتے ہیں ۔ مثلاً تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرا اجتماع ، صوبائی اجتماع، ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع، مسجد اجتماع، اجتماعِ میلاد، اجتماعِ معراج اور اجتماعِ شبِ برأت، اجتماعِ سحری وغیرہ۔ ان بابرکت اجتماعات میں تلاوت، نعت، بیان، ذکر و دعا اور صلوۃ و سلام کا سلسلہ ہوتا ہے اور یقینایہ سب ذکراللّٰہمیں داخل ہیں لہٰذا سنّتوں بھرے اجتماعات از اول تا آخر ذکراللّٰہ پر ہی مشتمل ہوتے ہیں ۔

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ان سنّتوں بھرے اجتماعات میں ہر جمعرات کو بعد نمازِمغرب ملک وبیرون ملک ہونے والے ’’ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع‘‘ کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے کہ اس میں بے شمار اسلامی بھائی شرکت کرتے، خوب ثواب کماتے اور پریشانی و بیماریوں سے شفا پاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس بابَرَکت اجتماع میں شرکت کرنے والے معاشرے کے انتہائی بگڑے ہوئے افراد کی اصلاح اورا سی طرح کی کئی مَدَنی بہاریں وقوع پذیر ہوتی ہیں کہ جنہیں سن کر دل باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ کہ جنہیں کل تک معاشرے میں کوئی عزت کی نگاہ سے نہ دیکھتا تھا اس اجتماع سے حاصل ہونے والی برکات سے معاشرے میں عزت کی زندگی گزار رہے ہیں ، جو کل تک موسیقی کے دلدادہ تھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی برکت سے نعتِ رسولِ مقبول سننے سنانے والے بن گئے الغرض اسی طرح گاہے گاہے مختلف بہاریں موصول ہوتی رہتی ہیں ان میں سے چند بہاریں قیدِتحریر میں لائی جا رہی ہیں ۔

         ہمیں چاہئیے کہ اِس رِسالے کو پڑھنے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرلیں ، نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عالیشان ہے :   نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہ   یعنی مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، الحدیث :  ۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵)

جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔

        ’’فیضانِ عطار ‘‘کے نو حُروف کی نسبت سے اس رسالے کو پڑھنے کی 9 نیّتیں پیشِ خدمت ہیں :  (۱)ہر بار حَمْد و (۲)صلوٰۃ اور(۳)تعوُّذو (۴)تَسمِیہ سے آغاز کروں گا۔( صفحہ نمبر 4کے اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پر عمل ہوجائے گا)۔ (۵) حتَّی الْوَسْع اِس کا باوُضُو اور (۶)قِبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا (۷)جہاں جہاں ’’اللّٰہ‘‘ کا نام پاک آئے گا  وہاں  عَزَّوَجَلَّ   



Total Pages: 81

Go To