Book Name:Rasail e Madani Bahar

؟ اگرچہ میں بہت زیادہ پریشان تھا مگر دعوت اسلامی سے کوئی خاص متأثّر نہیں تھالہٰذارُوکھے پن سے جواب دیا :  آپ اپنا کام کیجئے میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس نہیں ہے۔حیرت انگیز طور پر وہ ناراض ہونے کے بجائے مسکرادئیے اور فرمانے لگے : آپ مسئلہ تو بتا ئیے شاید میں آپ کے کام آسکوں ۔ ان کے شفقت بھرے انداز کودیکھتے ہوئے میں نے سارا معاملہ عرض کردیا کہ ’’میرے بھتیجے کو ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، اُس کے حَلَق سے پانی تک نہیں اتررہا ہے ، شا ید آج اس کی آخِری رات ہو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میری آواز بھرّا گئی۔ میری یہ بات سن کر وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئے اور ان کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک پیدا ہوئی جس کے باعث میں نے ان کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں (اُن کی آنکھوں کی چمک شاید میں زندگی بھرنہ بھول سکوں ) ، پھر انہوں نے فرمایا :  بھائی! آپ گھر جائیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  صبح آپ کا بھتیجا کھانا کھائے گا۔ یہ فرما کروہ پلٹے اور مسجد میں داخل ہوگئے۔ میں نے ان کی بات کو خاص اہمیت نہ دی کیونکہ جو بچہ ایک عرصے سے دودھ تک نہیں پی سکاوہ کھانا کیسے کھا سکتا تھا؟ گھر پہنچا تو بچے کی حالت جوں کی توں تھی، لگتا تھا بس اب دم نکلنے ہی والا ہے ، اِسی کشمکش میں پوری رات گزرگئی۔ بعدِ فجر اسکی تکلیف واذیّت دیکھ کر میں رو پڑا اور گھر سے باہر نکل کر قریب ہی نہر کے کنارے جابیٹھا۔ کچھ دیر بعد جب گھر پہنچاتو یہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا کہ میری والدہ بچے کو اُبلے ہوئے چاول کھلارہی تھی اور وہ مزے سے کھارہا تھا، آج اس بات کوکم وبیش 10 سال گزرچکے ہیں ۔اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میرابھتیجا بالکل صحیح ہے، میں ان سبز عمامے والے عاشقِ رسول کی تلاش میں مختلف شہروں میں پہنچا مگر آج تک پتانہ چلا کہ وہ چمکتی آنکھوں والے کون تھے؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4) چمکتی آنکھوں والا مسافر

        غالباً2007ء میں راقم الحروف مدینۃ الاولیاء(ملتان شریف)میں مدنی مشورے کے سلسلے میں حاضر تھا ، وہاں پر ایک اسلامی بھائی نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی حلفیہ (یعنی قسم کھا کر)سنایا اور تحریر بھی د ی جس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے :

        ایک مرتبہ مدنی کام کے سلسلے میں مجھے اُگّیضلع مدنی صحرا(مانسہرہ) صوبہ خیبر پختون خواہ)جانا تھا، چنانچہ میں بعدِ نماز عصرراول پنڈی سے بس میں سوار ہوگیا، جب کنڈیکٹر نے کرایہ مانگا تو وہ میری توقع سے بڑھ کر تھا ۔ میں نے کا فی عرصے کے بعد سفر کیا تھا اس لئے اپنے پاس زیادہ رقم نہیں رکھی تھی ، اُس دن میرا روزہ بھی تھا، بہرحال کرایہ دینے کے بعد میرے پاس اتنی رقم بھی نہیں بچی کہ میں افطارکیلئے کچھ سامان لے لوں اور واپسی میں کرایہ دے سکوں ۔میں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں دعا مانگی نیز اپنے پیرو مرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں استغاثہ بھی پیش کیا : ’’ یا مرشد! نظر کرم ہوکہ واپسی کا کرایہ ہے نہ افطار کیلئے سامان۔‘‘میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ بس رُکی اور ایک سفید ریش بزرگ جن کا چہرہ نورانی اور سر پرعمامہ شریف کا تاج سجا ہوا تھا، بس میں سوار ہوئے اور باآوازبلند سلام کرتے ہوئے میرے برابر والی سیٹ پر تشریف فرما ہوگئے اور بڑی اپنائیت کے ساتھ شفقت بھرے لہجے میں گفتگو فرماتے ہوئے ایک لِفافہ مجھے تحفے میں پیش کیا ۔میں نے سُن رکھا تھا کہ دوران سفر کسی سے کوئی چیز وغیرہ نہیں لینی چاہئے، اسی کے پیش نظر میں نے انکار کیامگر ان کی محبت بھرے اِصرار کے باعث بالآخر مجھے وہ لفافہ لینا ہی پڑا، اتنے میں اگلے اسٹاپ پر بس رکی تووہ بزرگ مجھے سلام کر کے فوراً بس سے اتر گئے۔ تحفہ دے کر کچھ ہی دیر میں اگلے اسٹاپ پر اتر جانے سے مجھے تشویش ہوئی اور میں نے بے اختیار لفافہ کھولا تو ششدر رہ گیا کہ اس میں افطاری کا سامان اور کچھ رقم تھی۔میں نے رقم گنی تو حیران رہ گیا کہ اتنی ہی رقم مجھے واپسی کرایہ کے لئے درکار تھی ۔ان بزرگ کی جو بات مجھے اب تک یاد ہے وہ یہ ہے کہ ان کی آنکھیں ایسی چمک دار تھیں کہ میں ان کے چہرے پر نظریں جما نہیں پا رہا تھا۔  

صَلُّو اعَلَی الْحَبِیْب              صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(5) چمکتی آنکھوں والے خیرخواہ

         ۱۳ شعبان المعظم۱۴۲۹ ھ، 22اگست 2008ء بروز منگل بعدِ نمازِ عصر میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ حیدرآباد کے مکتب میں  راقم الحروف  چند اسلامی بھائیوں کے ہمراہ موجود تھا، عطار آباد(جیکب آباد)سے تشریف لائے ہوئے ایک اسلامی بھائی نے اپنے مدنی ماحول میں آنے کا سبب کچھ یوں بیان کیا کہ آج سے کم و بیش17سال قبل میں اپنے چند دوستوں کے ہمراہ فلم دیکھنے جا رہا تھا، راستے میں نماز کا وقت ہوگیا ، ہم لوگ نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں داخل ہو گئے، بعدِ نماز سبز عمامہ پہنے ہوئے ایک عاشقِ رسول نے بیان شروع کر دیا، سنتوں بھرے بیان کا مجھ پرایسا اثر ہوا کہ میں نے فلم دیکھنے کے بجائے گھر کی راہ لی ۔بعد ازاں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں آنا جانا شروع کردیا۔ مجھے عرصہ دراز سے پیرِ کامل کی تلاش تھی مگر کسی سے بھی دل مطمئن نہیں ہو تا تھا، ایک رات سو یا تو خواب میں خود کو وسیع و عریض صحرامیں پایا جس میں ایک خیمہ موجود تھا ، میں اس میں داخل ہو گیا، وہاں مجھے ایک نورانی چہرے والے بزرگ دکھائی دئیے جن کے سر پر  عمامہ شریف کا تاج سجا ہواتھااور جسم سفیدلباس سے مزین تھا، میں نے ملاقات کی سعادت حاصل کی تو ان کی چشمانِ تَر سے بہنے والے آنسوؤں کے چندقطرے میرے ہاتھوں میں گرے، پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ چند روز بعد باب المدینہ (کراچی)شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے لئے علاقے سے روانہ ہونے والے مدنی قافلے میں شامل ہو گیا۔ جب امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ میرے سامنے وہ ہی بزرگ جلوہ فرما تھے جومجھے خواب میں اپنے جلوے  دکھا چکے تھے۔یہ کرامت دیکھ کر اسی وقت آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو کر ’’عطار ی‘‘ بن گیا۔ کچھ ہی عرصے میں پیرِ کامل کی توجہ کی برکت سے چہرے پرداڑھی اور سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجا لیا۔کافی عرصہ عاشقانِ رسول کی صحبت میں دعوتِ اسلامی کے مدنی



Total Pages: 81

Go To