Book Name:Rasail e Madani Bahar

خداعَزَّوَجَلَّکی قسم ! مَدنی قافلے کے آخری دن خواب میں  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہتشریف لے آئے اور میں نے عقیدت واحترام کے ساتھ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی پیاری پیاری آنکھوں کو خُوب چوما ۔جب بیدار ہوا تو خواب کا واقعہ یاد کر کے اپنی خوش نصیبی پرنازاں ہونے لگا ، مگربیداری میں آنکھیں چومنے کی تڑپ ابھی باقی تھی ، لہٰذا مَدَنی قافلے میں سفر کے بعد میں ایک بار پھر بابُ المدینہ (کراچی ) جا پہنچا اور  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس طرح کی تحریر پیش کی : ’’ میں نے آپ کی مبارک آنکھوں کو چومنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر آپ نے مجھے 30دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کا فرمایا تھا ، اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّمیں مَدَنی قافلے میں سفر کرچُکا ہوں ، اب مجھے نواز دیجئے ۔‘‘ یہ پڑھ کر  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مبارک لبوں پر بے ساخۃ مسکراہٹ پھیل گئی ، قریب بُلا کر میرے کان میں فرمایا : ’’ خواب میں چُوم تو لیا !‘‘  آپ  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے کشف (یعنی دل کی بات جان لینے پر)پر میرا یقین اور پختہ ہوگیاکیونکہ میں نے خواب کا اس وقت تک کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔میں والہانہ انداز میں عرض گزار ہوا : ’’ یا مُرشِدی! میں نے سفر خواب میں تو نہیں کیا !‘‘ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے شفقت بھرے انداز میں فرمایا : ’’ اِسی پر کام چلالیجئے ۔‘‘ مگر میں بے تابانہ اصرار کرتا رہا ۔ میری بے تابی دیکھتے ہوئے پیر ومُرشِدنے اپنا روشن چہرہمیرے سامنے کردیا اور میں دیوانہ وار آپ کی آنکھوں اور پیشانی کو عقیدت واحترام کے ساتھ چُومنے کی سعادت پانے لگا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دعوتِ اسلامی کے وابستگان پر اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا کرم

         اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ     امیرِ اہلسنّت   دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اوردعوتِ اسلامی کے وابستگان پراللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا خاص کرم ہے کہ  دعوتِ اسلامی دن بدن ترقّی کی منازل طے کرتی چلی جارہی ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رحمتوں ، میٹھے میٹھے مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عنایتوں ، صحابۂ کِرام رضی  اللّٰہ تعالٰی عنہمکی برکتوں ، اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام کی نسبتوں ، علماء ومشا ئخِ اہلسنّت دامت فُیوضُہم کی شَفقتوں اورامیرِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی شب و روز کوششوں کے نتیجے میں بابُ المدینہ کراچی سے اُٹھنے والی سنّتوں بھری تحریک دعوتِ اسلامی کا مَدَنی پیغام دیکھتے ہی دیکھتے بابُ الاسلام(سندھ)، پنجاب ، سرحد، کشمیر ، بلوچستان اور پھرملک سے باہَر ہند، بنگلہ دیش، عرب امارات، سی لنکا، برطانیہ، آسٹر یلیا ، کوریا، جنوبی افریقہ یہاں تک کہ(تادمِ تحریر) دُنیا کے 148سے زائد ممالک میں پہنچ گیا اور آگے کُوچ جاری ہے۔اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحسَانِہٖ ۔جن سے اصلاحِ امّت کا کام لیا جاتاہے اُن کے ذریعے   بعض اوقات ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّکی عنایات سے ایمان افروزکَرِشمات کابھی ظُہُور ہوتا ہے مثلاً مریضوں کو شفا ملنا ، بے اولادوں کو اولاد نصیب ہوجانا ، آسیب زدوں کا شریر جنّات سے خلاصی پانا، وغیر ہ ۔ وقتاً فوقتاً  بذریعۂ مکتوب یازَبانی مختلف قسم کی ایمان افروزمَدَنی بہاریں موصول ہوتی رہتی ہیں ۔ ایسی ہی29 ’’مَدَنی بہاریں ‘‘ سلسلہ : ’’ ایمان افروز بِشارتیں ‘‘ کے نام سے حصّہ اوّل ’’سر کار کا پیغام عطار کے نام‘‘ اور حصّہ دُوُم’’مخالفت محبت میں کیسے بدلی؟‘‘میں شائع کی جاچکی ہیں اورحصّہ سِوُّم ’’چمکتی آنکھوں والے بُزُرگ‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے جس کی ابتدائی بہار امید ہے آپ پڑھ چکے ہوں گے ۔ چمکتی آنکھوں والے بُزُرگوں کے مزید ایمان افروز واقعات پڑھنے کے لئے ورق گردانی شروع فرما دیجئے۔ (ان مَدَنی بہاروں کی انفرادیت یہ ہے کہ اس سے متعلقین اسلامی بھائیوں سے راقم الحروف نے براہ راست ملاقات کی سعادت پاکر ان مدنی بہاروں کی تصدیقات حاصل کی ہیں )

            اللّٰہ  تَعَالٰی ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی اِنعامات پر عمل کرنے اور مَدَنی قافِلوں کا مسافِر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃ  کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ امیرِ اَہلسنّت   (مد ظلہ العالی)   مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی) 

۱۹صفر المظفر ۱۴۳۲ ھ، 25جنوری   2011ء 

(3) چمکتی آنکھوں والے مُحسِن

        غالباًیہ 2008 ء کی بات ہے راقم الحروف کوٹلی ( کشمیر) مَدَنی مشورہ کیلئے حاضر تھا ، بعدِ نماز عصر دوران ملاقات ایک اسلامی بھائی نے حلفیہ(یعنی قسم کھا کر) بتایا کہ میرے والد صا حب کیمیکل کے ذریعے پالش کا کام کرتے تھے۔ایک دن میرے ڈیڑھ سالہ بھتیجے نے کیمیکل کے گرے ہوئے ذرّات اٹھا کر کھالئے ۔ جس کے باعث اس کی خوراک کی نالی میں زخم ہوگئے اور نالی سُکڑجانے کے باعث خوراک حتّٰی کہ دودھ بھی حلق سے نہ اُترتا تھا صرف پانی پر گزارہ تھا۔ کم و بیش ایک سال علاج کیلئے ڈاکٹروں کے علاوہ کئی عاملین سے بھی رابِطہ کیا لاکھوں روپے خرچ کئے مگر افاقہ نہ ہوا۔ایک ڈاکٹر جو امریکہ سے ڈگریاں حاصل کرکے آیا تھا اس نے تسلّی دی کہ میں آپریشن کرتا ہوں ، اُمّید ہے یہ ٹھیک ہوجائے گامگر اس کیلئے آپ کو تقریباً 10لاکھ روپے خرچ کرنا ہونگے، باہمی مشورے سے ہاں کردی گئی کہ چاہے مکان بیچنا پڑے ہم علاج کروائیں گے۔ابھی باقاعدہ علاج شروع بھی نہ ہوا تھا کہ بچے کی حالت مزیدبگڑ گئی حتّٰی کہ حلق سے پانی بھی اترنا بند ہوگیا۔ یہ دیکھ کر اُس ڈاکٹر نے بھی معذِرت کرلی اور کہا :  اب اِس کا علاج بیرونِ ممالک میں بھی نہیں ہے ، صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ بچّہ چند دنوں کا مہمان ہے۔ میں اِسی پریشانی کے عالم میں رات کو ایک مسجد میں پہنچا اور صحن میں کھڑا ہوکر مشغولِ دعا ہوگیا، اِسی مسجد میں تبلیغ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع بھی ہوتا تھا۔مجھے یوں محسوس ہوا کہ مسجد میں کچھ لوگ موجود ہیں ، شاید دعوتِ اسلامی والوں کا مدنی قافِلہ آیا ہوا تھا، اچانک مسجد کے اندر سے ایک نوجوان عاشقِ رسول سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے سنّتوں بھرے سفید لباس میں ملبوس نگاہیں نیچی کئے نمودار ہوئے ، اُن کے چہرے پر عبادت کا نور نمایاں تھا۔ قریب آکر سلام کے بعد مجھ سے نام پوچھا ، میں نے نام بتایا تو فرمانے لگے :  آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں



Total Pages: 81

Go To