Book Name:Rasail e Madani Bahar

اپنے ایک انتہائی ماڈَرن دوست کے ساتھ اِس نیّت سے چل پڑا کہ اِجتماع میں شرکت بھی کر لیں گے اور (مَعَاذَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ)واپسی پرمارکیٹ سے نئی فلم کی ویڈیو کیسٹ بھی لیتے آئیں گے۔اُن دنوں تین روزہ اِجتماع بدھ، جمعرات اور جمعہ ہوا کرتا تھا ۔ بدھ اور جمعرات کا دن تواِجتماع گاہ میں گھومنے پھرنے اور سونے میں گزرا ۔ رات کو  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بیان کے بعد اسلامی بھائیوں کی درخواست پر جب آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اِجتماعی بیعت کروائی تو میرا دوست بھی ’’عطّاری ‘‘ بن گیا مگر میں شیطانی وسوسوں کے باعث تجدیدِبیعت سے محروم رہااورکرامت دیکھنے کا ہی خواہش مندرہا۔اگلے دن صبح تقریباً 10 بجے میں نے اپنے دوست کی یاد دہانی کے لئے جب اس سے یہ پوچھا کہ اجتماع سے واپسی پر اپنے ساتھ کیا لے کر جائیں گے؟تو میرے وہ ماڈَرن دوست جو رات ہی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ہاتھ پَر توبہ کرکے ’’ عطّاری ‘‘ بنے تھے ، بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔میں پریشان ہوگیا کہ اِنہیں کیا ہو ا ہے؟ اِفاقہ ہونے پر انہوں نے کہا :  ’’خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم! میں نے آج سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دِیدار کا شربت پیا ہے۔‘‘میں نے خوشی اور حیرت کے ملے جُلے جذبات میں سوال کیا : ’’ کیا دیکھا؟ ‘‘ انہوں نے جو کچھ بتایا اُس میں یہ بھی تھا کہ سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمتشریف فرما ہیں ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہشفقت سے میری پیٹھ سہلا رہے ہیں اور میں پیارے پیارے آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا دیدار کر رہا ہوں ۔ پھر مجھے اُوپر اٹھالیا گیااور جنت کا خوبصورت و حسین دروازہ دکھایا گیا، جس میں ہیرے جواہرات جَڑے ہوئے تھے۔ دروازے کے باہَر دونوں طرف کھجور کے بڑے بڑے دو درخت تھے، اس کے بعد مجھے دوزخ کا خوفناک دروازہ دکھایا گیااورایک آواز سنائی دی : ’’اب تمہاری مرضی کہ نیک اَعمال کرکے جنت میں چلے جاؤیا گناہوں بھری زندَگی بسر کرکے دوزخ میں !‘‘ اس کے بعد مجھے زمین پر اُتار دیا گیا۔‘‘یہ بتا کر وہ پھر رونے لگے۔ یہ سب سن کر میرادل اُداس ہو گیاکہ ’’اس طرح کا معاملہ دیکھنے کی خواہش تومیں نے کی تھی، آخر مجھ پر کرم کیوں نہیں ہوا!‘‘

        اِنہی کیفیات میں نمازِ جُمعہ کا وقت ہوگیا ۔میں دورانِ نماز کچھ اس طرح کی بُری سوچوں میں گم تھا کہ’’ (مَعَاذَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ)گھر جا کر بس فلمیں دیکھنی ہیں ، مجھے کوئی کمال تو نظر آیا نہیں ، واقعی اب وہ پیر کامل کہاں !‘‘جیسے ہی میں نماز سے فارغ ہوا تومیرے دوست نے میرا بازو تھامااور پُراَسرار انداز میں فرمانے لگے : ’’کیا تمہیں نماز پڑھنی نہیں آتی! کیا نَماز میں یوں سوچتے ہیں کہ گھر جا کر فلمیں دیکھوں گا، اب وہ پیرِ کامل کہاں جو کرامات دکھا سکیں !‘‘یہ سُن کر میں دم بخود رہ گیا کہ اِنہیں کیسے پتہ چلا کہ میں نماز میں کیا سوچ رہا ہوں ؟ تھوڑی دیر بعد وہ مجھ سے کہنے لگے : ’’چلو کھانا کھا کر آتے ہیں ۔‘‘ میں ساتھ چل پڑا۔ انہوں نے صرف دو یا تین لقمے کھائے اور ہاتھ روک لیا۔میں نے مزید کھانے کے لئے کہا تو فرمانے لگے : ہمارے لئے کوئی مَسئَلہ نہیں ، ہم کھائیں نہ کھائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔پھرفرمایا : ’’ چلو!حضرت صاحب( یعنی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ)   سے ملاقات کرواتا ہوں ۔ ‘‘ مگر چند قدم چلنے کے بعدفرمانے لگے : ’’ مُرشِد منع فرما رہے ہیں کہ میں ابھی مصروف ہوں ۔‘‘ اُس وقت اُن کی آنکھیں حیرت انگیز طور پر ایسی چمک رہی تھیں کہ میں نظریں نہیں ملا پارہا تھابس حیران و پریشان ساتھ ساتھ گھوم رہا تھا۔ پھر فرمانے لگے :  ’’چلو !تمہاری ملاقات35 اولیاء کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ السَّلَام سے کراؤں جو اس وقت اجتماع گاہ میں تشریف فرما ہیں ۔‘‘میری حالت عجیب ہو رہی تھی کہ یاخدا عَزَّوَجَلَّ ! یہ کیا معاملہ ہے؟ اب مجھے اُن سے تھوڑا تھوڑا ڈر بھی لگنے لگا تھا۔ پھر اِجتماع گاہ میں الگ الگ جگہ پر بیٹھے ہوئے 35 حضرات سے یہ کہہ کر ملاقات کروائی کہ یہ اللّٰہ  کے ولی ہیں ، وہ تمام میرے اِس دوست پر نظر پڑتے ہی عقیدت کے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور گلے ملتے، اُن سب کی آنکھوں میں بھی ایک عجیب چمک تھی جو واضح طور پر محسوس کی جاسکتی تھی، وہ تمام حضرات سبزسبز عمامے اور سفید لباس میں ملبوس عام اسلامی بھائیوں کے ہمراہ اپنے اپنے حلقوں میں موجود تھے اور ان کے چہروں پر سنّت کے مطابق داڑھیاں سجی ہوئی تھیں ۔

       میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میرے وہ دوست جب چاہتے سورج کی طرف بلاتکلُّف مزے سے دیکھنے لگتے ، حالانکہ اُس وقت دن کے کم و بیش  30: 3  کا وقت تھا اور سورج آب و تاب سے چمک رہا تھا، یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ان کے ساتھ میرا اَندازِ گفتگو مؤدِّبانہ ہوچکا تھا ، میں نے عرض کی : ’’ آپ بار بار سورج کی طرف کس طرح دیکھ لیتے ہیں جب کہ مجھ سے تو اسکی تَپِش بھی بر داشت نہیں ہو رہی ہے!‘‘ اُنہوں نے جواب دیا : ’’ سورج کی روشنی ہماری آنکھوں کی چمک کے سامنے کچھ نہیں ہے، ہم سورج کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے چاندکو۔‘‘پھر کہنے لگے : ’’کیاآپ میرا ساتھ دیں گے کہ میں جب اور جہاں بلاؤں آپ وہاں چلے آئیں اوردعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دُھومیں مچائیں ۔‘‘میں نے دل میں سوچا کہ ابھی اسکول سے کچھ دیر لیٹ ہو جاؤں توبابو جی(یعنی والد صاحب) ڈانٹتے ہیں ، مَدَنی کام کے لئے گھر سے باہر رہا تو شاید وہ مجھے گھر سے ہی نکال دیں ۔ اس بات کا میرے دل میں آنا تھا کہ وہ جھٹ سے بولے :  ’’تمہارے بابو جی تمہیں کچھ نہیں کہیں گے ۔‘‘ یہ سُن کر میرے بدن میں ایک بار پھر سنسنی کی لہر دوڑ گئی کہ انہوں نے اچانک میرے دل کی بات کیسے جان لی؟ ہم گفتگو کرتے کرتے اجتماع گاہ کی دوسری جانب پہنچ چکے تھے ، وہ میرا ہاتھ پکڑ کرفرمانے لگے :  ’’آپ تھک گئے ہوں گے، چلئے! اب اُڑ کر اپنی جگہ واپس پہنچتے ہیں ۔‘‘ میں نے ڈر کے مارے اپناہاتھ چھڑا لیا اور بھرّائی ہوئی آواز میں عرض کی : ’’ مجھے جانے دیجئے بھائی! یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے اورآپ کیسی عجیب وغریب باتیں کر رہے ہیں ؟‘‘مجھے پَریشان دیکھ کرکہنے لگے :  ’’ تمہیں حضرت صاحب( یعنی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ) کی کرامت دیکھنی تھی نا!پہلے اُن کے مریدوں اور غلاموں کے معاملات تو دیکھ لو!‘‘یہ سن کر میں رو پڑا اور معافی مانگتے ہوئے کہاکہ میں نے  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو اپنا سچا پیر مانا ۔ مجھے نادِم دیکھ کر فرمانے لگے : ’’مجھیحضرت صاحب( یعنی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ) نے(رُوحانی طور پر) حکم دیاتھا کہ ان کو جا کر اطمینان دلاؤ ۔‘‘پھر وہ مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمانے لگے : ’’میرے بھائی!تم اپنے شب و روز اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی رضا میں بَسَر کرو، اپنے دل میں پیرو مُرشِد کی محبت بڑھاؤ، انکی اِطاعت اپنے اوپر لازِم کر لو، جس دن پِیر ومُرشِد تم سے راضی ہو گئے اور خصوصی توجُّہ فرمادی تو اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ  تمہارا باطن سنور کر نگینہ بن جائے گا۔‘‘   

        مِیر پور خاص کے اسلامی بھائی نے مزید بتایا :  سنّتوں بھرے اجتماع سے واپسی پر میرے اُس دوست کا دل دنیا سے ایسا اُچاٹ ہوا کہ کم و بیش30دن ایک طرح سے گھر میں بند ہوگئے ،



Total Pages: 81

Go To