Book Name:Rasail e Madani Bahar

ایک بار شرکت کرنے میں کیا حرج ہے! لہٰذا ایک دن میں بھی اجتماع میں شریک ہو گیا۔ جب وہاں کے روح پرور مناظر دیکھے تو دل کوبڑی فرحت ملی خصوصاً اجتماع کے بعداسلامی بھائیوں کی آپس میں ملاقات کے انداز نے تو مجھے حیران کر دیا کہ نہ توآپس میں کوئی جان پہچان، نہ ہی کوئی رشتہ داری اس کے باوجود ایک دوسرے سے کیسے پرجوش انداز میں مسکرا کر مصافحہ و معانقہ کر رہے ہیں اس کا مجھ پر گہرا اثر پڑا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں پابندی سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے لگااور امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہوکرآپ کی نگاہِ فیض اثر سے نہ صرف گناہوں بھری زندگی سے تائب ہو گیا بلکہ ۱۴۱۹ ھ بمطابق 1999ء میں اپنے والدین سے اجازت لے کرپنجاب سے باب المدینہ (کراچی ) آگیا اور دعوتِ اسلامی کے تعلیمی

   

 ادارے ’’جامعۃ المدینہ‘‘ میں داخلہ لے کرحصولِ علمِ دین میں مشغول ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  شوال المکرم ۱۴۲۷ ھ بمطابق نومبر 2006 ء میں عالم کورس مکمل کرلیااور میری خوش نصیبی کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے مبارک ہاتھوں سے میرے سرپردستارِفضیلت سجائی۔ اس وقت میں دیگر مدنی کاموں کے ساتھ ساتھ جامعۃ المدینہ میں تدریسی خدمات بھی سرانجام دے رہا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(10)گانوں کی سی ڈیزنذرِآتش کردیں

       مرکزالاولیاء (لاہور)کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکا خلاصہ ہے :   دعوتِ اسلامی سے وابستگی سے قبل میں تقریباً 22سال تک گناہوں بھری زندگی بسر کرتا رہا۔ ۱۴۲۸ ھ بمطابق 2007  ء میں مجھے سرکاری محکمے کی طرف سے ٹریننگ کے لیے باب المدینہ(کراچی)بھیج دیا گیا۔ٹرینگ سینٹرمیں ایک دن ایک اسلامی بھائی میرے پاس تشریف لائے اورنرمی کے ساتھ مجھے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ(محلہ سوداگران پرانی سبزی منڈی) میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی اور مجھے اپنے ساتھ فیضانِ مدینہ لے گئے مجھے وہاں ایساروحانی سکون ملاکہ اس کے بعد میں وقتاً فوقتاً فیضانِ مدینہ جاتا رہا۔ دن گزرتے چلے گئے اور وہ دن بھی آئے کہ رمضان المبارک کابابَرَکت مہینہ اپنی برکتیں لٹاتاہوارخصت ہورہاتھاہمیں عیدکی چھٹیاں مل چکی تھیں اور 27 رمضان المبارک کومجھے گھرکے لیے روانہ ہونا تھا، گھر جانے سے ایک دن پہلے میں عالمی مَدَنی مرکزفیضانِ مدینہ میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا۔میری زندگی کی وہ سب سے مبارک شب تھی کیونکہ اس شب مجھے پہلی مرتبہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکادیدارنصیب ہوا اورجب میں نے ان کاخوفِ خدا اورعشق مصطفیٰ سے لبریزبیان سناتومیری آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو گیا اورمجھ پرایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ میں نے اُسی دن اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اوراگلے دن گھر پہنچتے ہی فلموں ، گانوں کی سی ڈیز اور کیسٹوں کو نذرِآتش کر دیا اور اسکی جگہ اپنے کمپیوٹر میں امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بیانات اورنعتیں محفوظ کر لیں ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میں نے چہرے پر داڑھی اورسرپرسبز عمامہ کا تاج سجا لیا۔ تادمِ تحریرمیں خودبھی دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوں اورمیرے گھر والے بھی سنّتوں کے سانچے میں ڈھل کر نہ صرف صوم و صلوٰۃ کے پابندبن گئے ہیں بلکہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ       امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مریدوں میں بھی شامل ہو گئے ہیں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(11)امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کاتبَرُّ ک

       واہ کینٹ(پنجاب)میں مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے :  میں اپنے علاقے کی مشہورمارکیٹ میں ایک دوکان پر کام کیا کرتا تھا عورتوں سے بے جا اختلاط کی وجہ سے گناہوں میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بدنگاہی کرنا، برے دوستوں کی صحبت میں رہنا اور فلمیں ڈرامے دیکھنا میرا شوق تھا، نمازوں سے اس قدرغافل کہ صرف عیدکی نماز پڑھتا الغرض میں غفلت سے بھرپورزندگی گزاررہاتھا۔ایک روزمیں یونہی بیٹھا ہوا تھاکہ مجھے ایک اسلامی بھائی ملے جن کاتعلق مدینۃ الاولیاء (ملتان )سے تھاوہ ہمارے شہرمیں ملازمت کے سلسلے میں آئے تھے، ان کے لیے یہ علاقہ اجنبی تھا اس لیے انھوں نے مجھ سے ایک مقام کاپتاپوچھامیں نے ان کی رہنمائی کی اور یوں ہماراباہم تعارف ہو گیا۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کے بارے میں پوچھا، میں ان کی رہنمائی کرتے ہوئے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں لے گیا۔ یوں میں نے اجتماع میں ہونے والے سنّتوں بھرا بیان سننے کی سعادت حاصل کی اور پھر اجتماع کے آخر میں ہونے والے ذکرو دعا نے تومیرے دل کی کیفیت ہی بدل دی اورمجھ پر بہت گہرا اثر ہوا۔ اس روحانی ماحول کی بَرَکت سے میں نے اسی وقت نیت کی کہ سب برے کام چھوڑ دوں گا لیکن جب گھرواپس آیا تو بدستور گناہوں میں مشغول ہو گیا۔ جب آئندہ جمعرات کا دن آیاتووہی اسلامی بھائی مجھے اجتما ع میں شرکت کی دعوت دینے کے لئے تشریف لائے ان کی ملنساری سے میں پہلے ہی متأثر تھا چنانچہ انکارنہ کرسکا اور ایک مرتبہ پھر ان کی دعوت پراجتماع میں شریک ہو گیا۔ اس کے بعدوہ ہر ہفتے انفرادی کوشش کر کے مجھے اجتماع میں لے جاتے، ان کی انفرادی کوشش اور اجتماع کی برکات سے میرے اندرتبدیلی آنے لگی۔ ایک بار ہفتہ واراجتماع میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بیان کرنے تشریف لائے۔ بیان کے اختتام پر انہوں نے شرکائے اجتماع کو امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا مرید ہونے کی ترغیب دلائی تومیں بھی مرید ہو گیا اور ہاتھوں ہاتھ داڑھی شریف رکھنے کی نیت بھی کر لی ۔جب رحمتوں سے لبریز ماہِ رمضان المبارک تشریف لایا تو میں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے سنتوں بھرے اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔اسی اعتکاف کے دوران



Total Pages: 81

Go To