Book Name:Rasail e Madani Bahar

اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ،  اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ، اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ

مقبول جہاں بھرمیں ہودعوتِ اسلامی

صدْقہ تجھے اے ربِّ غفّارمدینے کا

اچھاخواب بیان کر دینا چاہئے

        حضرتِ سیّدنا ابوسعید خُدرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ میں نے سیِّدُالْمُرسَلین، خاتَمُ النَّبِیِّین، جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ’’اچھاخواب اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ہے جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس کو چاہئے کہ اس پر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی حمد کرے اور کسی کے سامنے اس کو بیان کر دے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے جب کوئی ایسا خواب دیکھے تو اس کے شر سے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی پناہ مانگے اور اس خواب کو کسی کے سامنے ذکرنہ کرے۔ بے شک یہ خواب اس کو کچھ نقصان نہ پہنچائے گا۔

(صحیح البخاری ج۴، ص۴۲۳، الحدیث ۷۰۴۵دارالکتب العلمیہ بیروت)

عُلَمَاء وصُلَحَاء کی خواب میں زیارت کرنا خیرکی دلیل ہے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خواب میں بزرگانِ دین کی زیارت ہونا نہایت سعادت مندی کا باعث ہے چنانچہ عَارِف بِاللّٰہ ، نَاصِحُ الْاُمَّہ حضرت علامہ مولانا اِمام عبدُالغَنِی بن اسماعیل نابُلُسِی حنفی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :  خواب میں عالمِ باعمل اور اولیائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہ السّلام کی زیارت کرنا سعادت مندی اور دینی درستگی کا باعث ہے، نیز اسکی برکت سے زائر (یعنی زیارت کرنے والا) خیرو طاعت کے کاموں کے ساتھ ساتھ حصولِ علمِ دین کی توفیق بھی پاتا ہے کیونکہ علماء روئے زمین پر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے خیرخواہ ہیں ۔ (تَعطِیرُ الانام فِی تَعبِیرِالمنام ص۳۲۵ دارالخیر بیروت)

       اگر بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی سیرتِ مطہرہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں کئی ایسے واقعات ملتے ہیں کہ یہ مقدس ہستیاں اپنے متعلقین ومریدین اور   مُحِبِّیْن کو بالمشافہ اپنے ملفوظات سے نوازنے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات انہیں خواب میں بھی اپنے ملفوظات سے نوازتے اور کچھ حکم یانصیحت فرماتے ہیں ۔  جب کسی خوش نصیب پر خواب میں کرم ہوتا تو وہ اُن کے ان ملفوظات پر عمل کی بھی کوشش کرتا۔ جیسا کہ سرکارِاعلٰی حضرت، اِمامِ اَہْلِسُنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت پروانۂ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِدین و مِلَّت، حامیِٔ سنّت، ماحِیٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِطریقت، باعثِ خَیْروبَرَکت، حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمدرَضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں کہ :  ’’حرمین شریفین میں ایک ایسا شخص مقیم تھا جسے حضرت غوث الاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم) کی کلاہ مبارک تبرکاً سلسلہ وار اپنے آباء و اجدادسے ملی ہوئی تھی جس کی برکت سے وہ شخص حرمین شریفین کے نواح میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور شہرت کی بلندیوں پر فائز تھا ایک رات حضرت غوث الاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم) کو اپنے سامنے موجود پایا جو فرما رہے تھے کہ’’یہ کلاہ خلیفہ ابوالقاسم اکبرآبادی (عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی) تک پہنچا دو۔‘‘ حضرت غوث ِاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم) کا یہ فرمان سن کر اس شخص کے دل میں آیاکہ اس بزرگ کی تخصیص لازماً کوئی سبب رکھتی ہے، چنانچہ امتحان کی نیت سے کلاہ مبارک کے ساتھ ایک قیمتی جبہ بھی شامل کرلیا اور پوچھ گچھ کرتے حضرت خلیفہ(رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ) کی خدمت میں جا پہنچا اور ان سے کہا کہ یہ دونوں تبرک حضرت غوثِ اعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم) کے ہیں اور انھوں نے مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ یہ تبرکات ابوالقاسم اکبرآبادی (عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی) کو دے دو! یہ کہہ کر تبرکات ان کے سامنے رکھ دیے۔ خلیفہ ابوالقاسم (رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ) نے تبرکات قبول فرما کر انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ اس شخص نے کہا :  ’’یہ تبرک ایک بہت بڑے بزرگ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں لہٰذا اس شکریے میں ایک بڑی دعوت کا انتظام کر کے رؤسائے شہر کو مدعو کیجئے، حضرت خلیفہ (رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ) نے فرمایا :  ’’کل تشریف لانا ہم کافی سارا طعام تیار کرائیں گے آپ جس جس کو چاہیں بلا لیجئے۔ دوسرے روز علی الصباح وہ درویش رؤسائے شہرکے ساتھ آیادعوت تناول کی اور فاتحہ پڑھی۔ فراغت کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آپ تو متوکل ہیں ظاہری سامان کچھ بھی نہیں رکھتے، اس قدر طعام کہاں سے مہیا فرمایا ہے؟ فرمایا :  ’’اُس قیمتی جبے کوبیچ کر ضروری اشیاء خریدی ہیں ۔‘‘یہ سن کروہ شخص چیخ اٹھا کہ میں نے اس فقیر کو اہل اللّٰہ سمجھا تھا مگر یہ تومَکّار ثابت ہوا، ایسے تبرکات کی قدر اس نے نہ پہچانی۔ آپ نے فرمایا :  ’’چپ رہو جو چیز تبرک تھی وہ میں نے محفوظ کر لی ہے اور جو سامانِ امتحان تھا ہم نے اسے بیچ کردعوتِ شکرانہ کا انتظام کر ڈالا۔‘‘ یہ سن کر وہ شخص متنبہ ہو گیا اور اس نے تمام اہلِ مجلس پر ساری حقیقت حال کھول دی جس پر سب نے کہا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تبرک اپنے مستحق تک پہنچ گیا۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ ج ۲۱، ص ۴۰۹ )

        اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام نہ صرف اپنی ظاہری حیات میں بلکہ بسا اوقات وِصالِ مبارک کے بعد بھی خواب میں تشریف لا کر رہنمائی فرماتے ہیں جیساکہ سَیِّدُنا ابُوالْحَسَن عَلِی بن ابراہیم عَلَیہ رَحمَۃُاللّٰہِ الْعَظِیم فرماتے ہیں میں نے ایک بار مصر سے بغداد سفر کیا تاکہ وہاں موجود ولی اللّٰہ سے ایک مسئلے کا حل دریافت کر سکوں ۔ بغداد پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ان کاتو وصال ہو چکا  ہے میں نے ان کی قبر کے بارے میں دریافت کیا اور وہاں حاضر ہو گیا ، قبر پر ختم پڑھا اور سو گیا۔ جوں ہی سویا خواب میں وہی صاحبِ مزار تشریف لے آئے، میں نے عرض کی حضور !میں مصر سے آپ کی بارگاہ میں صرف اس لئے حاضر ہو اتھا کہ  آپ سے مسئلہ دریافت کر سکوں ۔ آپ نے خواب ہی میں نہ صرف میرے مسئلے کا حل ارشاد فرما دیا بلکہ پانچ اور مسئلے بھی سمجھا دیے۔

(جامع کراماتِ اولیاء ج ۲ ص ۳۱۵ مرکز اہلسنّت برکاتِ رضا ہند)

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہخوفِ خدا و عشقِ رسول، جذبہ اتباعِ قراٰن وسنّت، عَفْوو درگزر، صَبروشکر، عاجزی وانکساری، سادگی و اخلاص، حسنِ اخلاق، دنیاسے بے رغبتی، حفاظت ایمان کی فکر، فروغِ علمِ دین اور خیر خواہیٔ مسلمین جیسی صفات میں یادگارِاسلاف ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہبارہا اپنے مریدین و متعلقین اور مُحِبِّیْن اسلامی بھائیوں کے خواب میں آ کر انہیں اپنے ملفوظات ونصائح سے نوازتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کو خواب میں کوئی حکم ارشاد فرمائیں تو وہ اسلامی بھائی اس خواب پر عمل کی بھی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اچھے خواب پر عمل کرنا بہتر ہوتا ہے۔ جیساکہ اعلٰی حضرت عَلَیہ رَحْمَۃُربِّ العِزَّت فتاویٰ رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں :  ’’اچھے خواب پر عمل خوب



Total Pages: 81

Go To