Book Name:Rasail e Madani Bahar

        اِنتقال کے کچھ عرصہ بعدبڑے بھائی نے امی جان کو خواب میں سفید لباس میں ملبوس نہایت خوش وخرم دیکھا تو پوچھا :  ’’امی جان ہم آپ کو قبر میں چھوڑ آئے تھے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘‘ فرمانے لگیں : ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  قبر کے سوالات میں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم سے کامیابی نصیب ہوگئی ، اب میری قبر جنت کاباغ بن چکی ہے۔ ‘‘ پھر میرے بڑے بھائی کا نام لے کر ارشاد فرمایا :  ’’بیٹا ! تم کبھی دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول مت چھوڑنا کیونکہ یہ سب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول ہی کی برکتیں ہیں ۔‘‘ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اب ہمارے گھر میں مدنی ماحول بن چکا ہے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

نسبت رنگ لے آئی

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مذکورہ واقعات پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وقتِ موت کلمۂ طیبہ پڑھنے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول اور زمانے کے ولی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دامن سے نسبت رنگ لے آئی اور انہیں آخری وقت کلمہ نصیب ہو گیا۔

مرتے وقت کلمۂ طیبہ پڑھنے کی فضیلت

        اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی قسم! خوش قسمت ہے وہ مسلمان جسے مرتے وقت کلِمۂ طیِّبہ پڑھنے کی سعادت عنایت ہوجائے، چُنانچِہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے مَحْبوب، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ العُیُوب صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے :  

مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلَامِہٖ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ          (سُنَن ابوداوُدج۳ص۲۵۵حدیث۳۱۱۶)

ترجَمہ :  جس کا آخری کلام لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہ (یعنی کَلِمہ طیِّبہ) ہو، وہ جنّت میں داخِل ہو گا۔   

جب دمِ واپسیں ہو یااللہ                                                                                  لب پہ ہو لَآ اِلٰہَ اِلَّا للّٰہ

ہیں مُحمَّد مرے رسُولِ خدا                     مرحبا مرحبا رسُولِ خدا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

عظیم نسبتیں

         مذکورہ بالاواقعات میں جن اسلامی بھائیوں اور بہنوں کی کلمۂ پاک کا وِرد کرتے ہوئے دُنیا سے قابل ِ رشک انداز میں رخصتی کا بیان ہے ، ان خوش نصیبوں میں یہ نسبتیں یکساں دیکھی گئیں کہ یہ تمام اسلامی بہنیں اور بھائی ! .....

        (۱) عقیدۂ توحید و رِسالت کے قائل، (۲)نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کے غلام، (۳)صحابۂ کِرام، اَہلِ بیت اور اولیائے کاملین کے مُحِبّ، (۴)چاروں ائمۂ عِظام کو ماننے والے اور کروڑوں حَنَفیوں کے عظیم پیشوا سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کے مُقَلِّد( یعنی حَنَفی) تھے ، (۵) مسلکِ اعلیٰ حضرت عَلَیہِ الرَّحْمَۃ پر کاربند تھے، (۶) تبلیغِ قرآن وسنت کی غیر سیاسی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ اور زمانے کے ولی شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مرید تھے ۔   

       ان خوش نصیبوں میں مزید یہ نسبتیں بھی یکساں دیکھی گئیں کہ یہ تمام اسلامی بہنیں اور بھائی …! اپنے پیرو مرشد امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مَدَنی تربیت کی بَرَکت سے (1) پنج وقتہ نمازی اور دیگر فرائض و واجبات پر عمل کا ذِہن رکھنے والے تھے، (2) نیکیاں کرکے نیکی کی دعوت پھیلانے اور بُرائیوں سے بچنے کا ذِہن رکھنے کے ساتھ ساتھ برائیوں سے بچانے کی کوشش کرنے والے، (3) دُرُود و سلام محبت سے پڑھنے والے، (4) فاتحہ نیاز بالخُصوص گیارہویں شریف اور بارہویں شریف کا اِہتمام کرنے والے، (5) عیدِ میلادُالنبی صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی خوشی میں جشنِ ولادت کی دُھومیں مچانے والے، (6) چَراغاں اور اجتماعِ ذکرونعت کرنے والے تھے۔

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِن تمام مَذکورہ عقائد سے متعلق  فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی روشنی میں غور فرمائیں ۔

(۱)جس کا آخِر کلام لَا ٓاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ (یعنی کَلِمَۂ طَیِّبَہ)ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (سُنَن ابو داؤد ج ۳ ص ۱۳۲ حدیث ۳۱۱۶ دار احیاء التراث العربی بیروت)

        رسُولِ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان پڑھ کر تو ہرشخص کا حسنِ ظن یہی ہونا چاہئے کہ موت کے وقت اِنتہائی نازک اور مشکل وقت میں مذکورہ عاشقانِ رسُول کا کَلِمَۂ طَیِّبَہ پڑھنا ان عاشقانِ رسُول کے مذکورہ عقائد کے عین شَرِیْعَت کے مطابق ہونے کی دلیل ہے اور اُمّید ہے کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   اور رسُول صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم ان سے راضی ہوں گے اور اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   وہ دُنیا وآخِرت میں کامیاب ہوں گے۔

ہر ذی شُعور اور غیر جانبدار شخص یہی کہے گا کہ یہ تو وہ خوش نصیب ہیں ، جنہوں نے امیرِِاَہلسنّت

Total Pages: 81

Go To