Book Name:Rasail e Madani Bahar

       ایک مرتبہ عید الفطر کے روز فیض دین عطاری   نمازِ عشاء باجماعت ادا کرکے جونہی فارغ ہوئے، اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی ، چکرا کر گر پڑے اور قے ہو گئی ۔ اس وقت موجودنمازیوں اور مؤذن صاحب نے آگے بڑھ کر انہیں اُٹھایا اورفوراً ہسپتال پہنچایا۔ مؤذن صاحب کا کہنا ہے کہ جب مَیں نے فیض دین عطاری سے آنکھیں کھولنے کوکہاتو انہوں نے جواب دیا کہ’’ اب یہ آنکھیں نہیں کھلیں گی‘‘ پھر بلند آواز سے یہ شعر پڑھنے لگے :

؎میں وہ سُنّی ہوں جمیلِ قادری مرنے کے بعد

میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام

       ڈاکٹروں نے ہاتھوں ہاتھ لیامگر طبیعت زیادہ بگڑتی دیکھ کر انہوں نے حیدرآباد لے جانے کا مشورہ دیا، حیدرآباد سول ہسپتال میں انہیں داخل کرادیا گیا، مؤذن صاحب کا کہنا ہے کہ فیض دین عطاری وہاں بھی اس شعر کی تکرار کر رہے تھے :  

؎ میں وہ سُنّی ہوں جمیلِ قادری مرنے کے بعد

میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام

        اچانک فرمانے لگے :  ’’میرے پیرو مرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مکتوبات و تبرکات میری قبر میں رکھ دینا‘‘ پھر بلند آواز سیکلمہ طیبہ پڑھنے لگے اور بالآخر کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ   پڑھتے پڑھتے ان کا طائرِ روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر گیا۔

      عید کے دوسرے روز نمازِ عشاء کے بعدمدینہ مسجد ناگے شاہ روڈ پر فیض دین عطاری کی میت جب نمازِ جنازہ کے لیے لائی گئی تواس قدرہجوم تھاکہ روڈپر تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔ہر طرف سبزسبز عماموں کی بہاریں تھیں ، بڑا ہی روح پرور منظر تھا، جونہی کسی جانب سے’’ اُذْکُرُوْا اللّٰہ‘‘ کی صدا بلند ہوتی تو ہزاروں لوگ مل کر اللّٰہ، اللّٰہ کا ذِکر شروع کردیتے ، کبھی’’ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب‘‘ کی صدا پر دُرُود و سلام کے نعروں سے فضا گونجنے لگتی۔ نمازِجنازہ میں شریک اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ ہم نے شہداد پور کی تاریخ میں اتناجمِ غفیر کسی جنازے میں نہیں دیکھا۔ جب فیض دین عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری کا آخری دِیدار کرایا گیا تو لوگ پروانہ وار ٹوٹ پڑے۔ جنازے میں شریک ہر آنکھ ان کی جدائی پراشکبارتھی۔ فیض دین عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری کے ماتھے پر ’’داغِ سجدہ‘‘ جگمگارہاتھانیز چہرے پر مسکراہٹ ایسے کھیل رہی تھی گویا ابھی اُٹھ کر بیٹھ جائیں گے۔ بالآخر مرحوم کو ان کی وصیت کے مطابق سبز عمامہ شریف سجا کر ناگے شاہ بخاری قبرستان میں عزیزوں کی آہوں اور دُرُودو سلام کی صداؤں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ بعدِ تدفین ایک اسلامی بھائی نے جب بارگاہِ رِسالت میں یہ استغاثہ پیش کیا     ؎    

اے سبز گنبد والے منظور دُعا کرنا

جب وقتِ نزع آئے دِیدار عطا کرنا

      تو قبرستان میں موجود تقریباً تمام لوگ ہچکیاں لے لے کررو رہے تھے۔ قبرستان سے واپسی پرلوگ آپس میں کچھ اِس قسم کی گفتگوکرتے ہوئے پائے گئے :  ’’دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی کی بَرَکت سے ایک غریب پکوڑے بیچنے والے کے بیٹے کا جنازہ ایسی شان سے اُٹھا کہ کسی نے اپنے خواب میں بھی نہ دیکھا ہو گا‘‘۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  جنازے میں لوگوں کی اِتنی کثیر تعداد اس سے پہلے کبھی شہداد پور کی تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آئی ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

نسبت کی بہاریں

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ، تِل کو گلاب کے پھول میں رکھ دیجئے تو اُس کی صحبت میں رہ کر گلابی ہو جائے گا ۔ اِسی طرح تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول اور دامنِ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے وابَستہ ہو کر عاشِقانِ رسُول کی صحبت میں رہنے والابے وَقعت پتّھر بھی اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   اور اس کے رسُول َّصَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی مہربانی سے انمول ہیرا بن جاتا، خوب جگمگاتا اور بسا اوقات ایسی شان سے پَیکِ اَجَل کو لَبَّیْک کہتا ہے کہ دیکھنے سننے والا اس پر رَشک کرتا اور اپنے لیے ایسی ہی موت کی آرزو کرنے لگتا ہے۔ماضی قریب میں عاشقانِ رسُول کی دنیا سے ایمان افروز رخصتی اور بعدِ دفن دیکھی جانے والی عنایتوں کے بَہُت سے سچے واقعات ہیں ، جن میں سے کم وبیش54 واقعات، 5 رسائل :  نسبت کی بہاریں (حصہ1) بنام’’قبر کھل گئی ‘‘، نسبت کی بہاریں (حصہ 2) بنام ’’حیرت انگیز حادثہ ‘‘، نسبت کی بہاریں (حصہ 3) بنام ’مردہ بول اُٹھا ‘‘ نسبت کی بہاریں (حصہ4)بنام ’مدینے کا مسافر ‘‘اور نسبت کی بہاریں (حصہ 5) بنام ’’صلوٰۃ وسلام کی عاشقہ ‘‘میں شائع ہوچکے ہیں ۔اب رِسالہ نسبت کی بہاریں (حصہ 6)میں مزید 8 واقعات ’’کفن کی سلامتی ‘‘ کے نام سے پیش کئے جارہے ہیں ۔ بَہُت سے واقعات ابھی ترتیب کے مرحلے میں ہیں ۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   ان کے مطالعے سے جہاں اِیمان کو مضبوطی نصیب ہوگی وہیں اپنے عقائد کے بارے میں شش وپنج میں رہنے والوں کو بھی سیدھا راستہ دِکھائی دے گا کیونکہ کلمۂ پاک پڑھتے ہوئے ، اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   اور رسُول   صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کا ذکرِپاک کرتے ہوئے ، نیک عمل کرتے ہوئے اِنتقال کرنا اور بعدِ دفن قبرسے خوشبو کا آنا ، کسی وجہ سے قبر کھل گئی تو کفن سلامت ملنا ،  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اِن اسلامی بھائیوں اور بہنوں کے عقائد کے صحیح ہونے کی مضبوط دلیل ہے۔

 



Total Pages: 81

Go To