Book Name:Rasail e Madani Bahar

امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہخود تھے ۔دوسری شخصیتوں کو مَیں پہچان نہ سکا، دونوں نے سبز عمامہ شریف کا تاج سجا رکھا تھا۔ مجھے تسلی دینے کے ساتھ دُعا کی اور فرمایا :  بیٹا گھبراؤ مت اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  طبیعت بہتر ہو جائے گی۔ صبح  محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری کی طبیعت کافی بہتر تھی اور آہستہ آہستہ طبیعت کافی سنبھل گئی ۔ امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی شفقت اور دُعاؤں کی برکتوں سے متأثر ہو کر محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری سمیت تمام گھر والے پندرہویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخِ طریقت ، امیر اَہلسنّت، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مُرید ہو کر ’’ عطاری ‘‘بن گئے اور دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت بھی کرنے لگے۔

       ڈاکٹروں کے مطابق بھائی چند دنوں کے ہی مہمان تھے، مگر  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کم و بیش ایک سال تک کافی بہتر حالت میں رہے پھر چند دن کے بعد طبیعت زیادہ خراب ہونے پر دوبارہ ہسپتال میں داخِل کردیا گیا۔ 3دسمبر ہفتے  کی رات محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری کی طبیعت بَہُت خراب ہونے لگی۔ والدہ اور دیگر گھر کے افراد رونے لگے تو ایک ولی ٔکامل کے دامن سے وابستہ ہونے کی بَرَکت سے شکوہ کرنے کے بجائے بھائی گھروالوں کو تسلّی دیتے ہوئے کہنے لگے :  میرے لئے دُعا کرو، محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری بار بار توبہ کرتے ، یااللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  !مجھے معاف کردے، یااللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  !مجھے معاف کردے ، میرے گناہ بخش دے پھر جب یٰسین شریف پڑھی گئی تو فرمایا :  تلاوت جاری رکھو مجھے بَہُت سکون مل رہا ہے۔

       پھر بڑے غور سے تلاوتِ قرآن سنتے رہے، رات کم و بیش 12 بجے میرے بھائی محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری بلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ کا وِرد کرنے لگے اور وِرد کرتے کرتے ان کی روح قفسِ عُنصری سے پر واز کر گئی۔ (اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ     )

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

کفن سلامت جسم بھی محفوظ

       ان کے چھوٹے بھائی کے حلفیہ بیان کا خلاصہ ہے، کہ میرے چچا کا بروز پیر شریف ۲۵ صَفَرُ الْمُظَفَّر ۱۴۲۸ھ(15.03.2007) کو انتقال ہوا ۔ تدفین بعدِ مغرب کی گئی۔دوسرے دن رات خواب میں بھائی  محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری نظر آئے اور فرمایا : ’’قبرستان جاکر گورکن سے پوچھو، اس نے کیا دیکھا ہے؟ ‘‘ مَیں بروز بدھ صبح کم و بیش  00: 11 بجے گورکن کے

پاس پَہُنچا اور ساری بات بتائی تو وہ حیرانگی سے بولا : یہ بات ابھی تک مَیں نے کسی کو نہیں بتائی ہے ، ہوا یوں کہ جب میں نے آپ کے چچاجان کی قبرکھودنا شروع کی تواچانک برابر میں آپ کے بھائی کی قبر کی دیوار گر پڑی ، میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تدفین کے کم و بیش ایک سال بعد بھی آپ کے بھائی کا نہ صرف کفن سلامت تھا بلکہ جسم بھی محفوظ تھا اور خوشگوار خوشبوپھیلی ہوئی تھی۔البتّہ چہرے کی جانب کفن پَر خون کے دھبے تھے، اس پَر میں نے گورکن کی تصدیق کی واقعی ایک سال قبل جب بھائی  محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری کی تدفین ہوئی اس وقت چہرے کی جانب کفن پَر خون کے دھبے تھے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(2) عاشقِ رسُول کا جنازہ

     باب الاسلام( سندھ)  شہداد پور کے ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہتقریباً 13 یا 14  برس کی عمرکے ایک اسلامی بھائی فیض دین (جو اُس وقت دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک نہیں تھے) لوہار گھٹی جامع مسجد (شہداد پور )کے قریب درزی کے پاس کام سیکھتے تھے۔ انہیں کرکٹ کھیلنے کا جنون کی حدتک شوق تھا، یہی وجہ تھی کہ ان کا شمار شہر کے اچھے کھلاڑیوں میں ہوتا  

تھا، خوش قسمتی سے ایک دِن ان کی ملاقات سبزسبزعمامہ سجائے سفیدلباس میں ملبوس ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہو گئی۔ اس مبلّغِ دعوتِ اسلامی نے دورانِ گفتگو انفرادی کوشش کرتے ہوئے عشاء کی نمازکے بعد مسجد میں لگنے والے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت دی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  انہوں نے اس دعوت پر لَبَّیک کہتے ہوئے باقاعدگی کے ساتھ مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت شروع کر دی ۔ مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی بَرَکت سے قرآنِ پاک تجوید کے ساتھ سیکھنے کے علاوہ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے بھی عادی بن گئے۔ اِسی اَثنا میں وہ شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت  ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے سرکارِ بغداد حضور غوثِ پاک  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال کر قادری عطاری ہو گئے۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہوتے ہی ان کی زندگی میں مدنی اِنقلاب برپا ہونا شروع ہو گیا، دیکھتے ہی دیکھتے چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی شریف سج گئی ۔چندہی روز میں  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  وہ مکمل طور پر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے لگے۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے ان کی تقدیر بدل کر رکھ دی، درزی بننے والے شخص کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے  امامت کا مصلّٰی عطا فرما کر لوگوں کی اِصلاح کرنے والا بنا دیا۔

       فیض دین عطاری تقریباً 14سال تک غوثیہ مسجد (شہداد پور) میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔وہ اپنے پیرو مرشِد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بے اِنتہا محبت کرتے تھے ، ان کے اِرشادات پر حتَّی الامکان عمل کرنے کی کوشش فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ان کے حُسنِ اَخلاق اورنیکی کی دعوت سے متأثر ہو کر بڑی تعداد میں لوگ دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے لگے۔

 



Total Pages: 81

Go To