Book Name:Rasail e Madani Bahar

رہاتھا۔ بدمذہبوں کی صحبت کی نحوست کا رنگ اس قدر غالب تھا کہ میں دعوتِ اسلامی کے نام سے بھی چڑتاتھا۔ میرے  شب و روز اسی بغض و عناد میں بسر ہو رہے تھے۔ نمازوں کا تو یہ حال تھا کہ کبھی پڑھ لی تو کبھی چھوڑ دی۔ ایک روز میں اپنے محلہ کی مسجد میں نمازِ مغرب کی ادائیگی کے لیے گیا۔ نماز کے بعد مسجد میں درسِ فیضانِ سنّت ہو رہا تھا۔ میری خوش بختی کہ میں درس میں شریک ہو گیا۔ مبلّغِ دعوتِ اسلامی کے سادہ اور منفرد انداز سے تو میرا روآں روآں لرزنے لگا مگر ابھی بھی غفلت کی خماری مکمل طور پر ختم نہ ہوئی تھی۔ درسِ فیضانِ سنّت کے بعد میں نے اس اسلامی بھائی سے جارحانہ انداز میں بحث مباحثہ شروع کر دیا لیکن مجال ہے کہ ان کے لب و لہجے میں شدت آئی ہو۔ وہ  بڑے پیارے انداز میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکتیں بتانے اور فیوضات سے آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا ذہن دیتے رہے۔ میرا شرکت کا ذہن تو نہ تھا مگر ان اسلامی بھائی کی مستقل انفرادی کوشش کی برکت سے میں نے نیت کر ہی لی۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم سے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو ہی گیا۔ سنتوں بھرے اجتماع میں مبلغِ دعوتِ اسلامی کا بیان پھر ذکراللّٰہ اور آخر میں رقت انگیز دعا نے تو میرے دل کی دنیاہی بدل دی۔ میں نے صدقِ دل سے توبہ کی اور سعادتوں بھری زندگی بسر کرنے کیلئے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مدنی ماحول کی برکت سے نمازوں کاپابند بن گیا۔ میں اب خوب خوب مدنی کاموں کی بہاریں لٹا رہا ہوں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(12) تَبَرُّک  کی برکت

       وزیرآباد (صوبہ پنجاب، پاکستان) کے محلہ لکڑمنڈی کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے یوں تو میں شروع سے ہی نمازوں کا پابند تھا لیکن اچھی صحبت نہ ملنے کے باعث اپنے اندر عملی اعتبار سے بہت کمی پاتا تھا۔ روز بروزبڑھتے ہوئے بے عملی کے سیلاب سے ’’متأثر‘‘ ہو جانے کا خوف لاحق رہنے لگا۔ ایسے میں مجھے اچھے ماحول کی ضرورت تھی جو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم سے دعوتِ اسلامی کی صورت میں نصیب ہو گیا۔ سبب کچھ اس طرح بنا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے درسِ فیضانِ سنّت سننے کی سعادت نصیب ہوئی جس کے پرتاثیر الفاظ کانوں کے راستے دل کی گہرائیوں میں اتر گئے مزید عاشقانِ رسول اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوشش کی برکت سے دعوتِ اسلامی ہی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کی سعادت میسر آئی۔ ایسا پاکیزہ ماحول میں نے اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔ اب تو میری سعادتوں کی معراج کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک مرتبہ عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلے کا مبارک سفر نصیب ہوا  جس کی بے شمار برکتیں نصیب ہوئیں کہ دورانِ قافلہ رات سوتے میں میری قسمت چمک اٹھی۔ کیادیکھتا ہوں کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنا نورانی چہرہ چمکاتے جلوہ افروز ہیں ۔ میں نے آپ کی جانب غور سے دیکھا تو   آپ کچھ تناول فرما رہے تھے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے انتہائی شفقت فرماتے ہوئے اپنے تبرّک کا کچھ حصہ مجھے بھی عطا فرمایا۔ میں نے جونہی لے کر اپنے منہ میں رکھا ایک کیف و سرور کی لہر اٹھی اور اسی اثنامیں بے اختیار میری زبان سے اللّٰہ ، اللّٰہ  کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔ میری آواز سے میرے قریب سوئے ہوئے شرکائے قافلہ اٹھ بیٹھے۔ اتنے میں مجھے بیدار کردیا گیا۔ دیکھا تو وقتِ تہجد تھا۔ میں ابھی تک اللّٰہ ، اللّٰہ کی پاکیزہ صدائیں بلند کئے جا رہاتھا ۔ یہ سب امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی عنایتیں ہیں کہ مجھ پر اس قدر کرم ہوا۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(13)ملاقات کا منفرد انداز

       تحصیل میلسی (پنجاب، پاکستان) میں مقیم اسلامی بھائی اپنے مدنی ماحول میں آنے کا واقعہ کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ جب میں میٹرک میں زیرتعلیم تھا۔ مدنی ماحول سے دوری کے باعث جہاں نماز روزے کی معلومات سے نابلد تھا وہیں عقائدِحَقّہ کے بارے میں بھی کوئی خاص شناسائی نہ تھی اسی وجہ سے بدمذہبوں کے ساتھ بھی میرا اٹھنا بیٹھنا رہتا۔ ایک دن گھر سے کچھ دور واقع مسجد (جہاں دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں کا آنا جانا تھا) میں نماز ادا کرنے گیا۔ جب میں نے وہاں اسلامی بھائیوں کا مسکرا مسکرا کر خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا دیکھا تو متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اس طرح آہستہ آہستہ میں نے عشاء کی نماز وہیں ادا کرنا شروع کر دی۔ ایک دن ایک باعمامہ اسلامی بھائی نے دعوت پیش کی کہ نماز کے بعد فیضانِ سنّت کا درس ہوتا ہے آپ بھی شرکت فرمایا کریں ۔ میں نے درس میں شریک ہونے کی نیت کر لی۔ چونکہ میں سنتیں اور نوافل مسجد کے صحن میں ادا کرتا تھا اس وجہ سے مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ درس تو مسجد کے اندر ہوتا ہے۔ جب میں اس بات سے آگاہ ہوا تو ایک دن درسِ فیضانِ سنّت سننے بیٹھ گیا۔ مجھے درس اس قدر پسند آیا کہ اب تو میں نے روزانہ شرکت کا معمول بنا لیا۔ کچھ عرصے بعد میں نے ملتان کالج میں داخلہ لے لیا میری خوش قسمتی کہ وہاں بھی دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں سے میری ملاقات ہو گئی۔ ایک دن ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے باب المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مدنی قافلہ کورس میں شرکت کا ذہن دیا۔ جب میں امتحان دے کر فارغ ہوا تو مدنی قافلہ کورس کرنے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جا پہنچا۔ مدنی قافلہ کورس کی بھی کیا بات ہے اس نے تو میری سوچ یکسر بدل کر رکھ دی۔ مدنی قافلہ کورس کے دوران ہی ہمارے ڈویژن مشاورت کے نگران  نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے درسِ نظامی (عالم کورس) کرنے کا ذہن دیا۔ میں نے گھر والوں کو راضی کیا اور درسِ نظامی میں داخلہ لے لیا۔ جب میں درجہ ثالثہ (تیسرے سال) میں تھا تو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ترغیب دلانے پر 12 ماہ کے مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر میں بارہ ماہ کے قافلے کا مسافر ہوں ۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)گناہوں کی تاریک وادیاں

 



Total Pages: 81

Go To