Book Name:Rasail e Madani Bahar

کرتا ۔شادیوں میں ناچ گانے کا شوقین تھا۔ ظلمت ِعصیاں (گناہوں کی تاریکی) سے نکلنے کا سبب یہ ہوا کہ ہماری دوکان کے سامنے چند اسلامی بھائی  فیضانِ سنّت سے چوک درس دیا کرتے تھے۔ کبھی کبھار میں بھی رسمی طورپر اس میں شرکت کرلیتا تھا۔وہ بار بار مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دیتے مگر میں ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیتا۔ ایک روز اُن کی منت سماجت پر میں نے اجتماع میں شرکت کی ہامی بھر لی اور میں اجتماع میں حاضر ہو گیا۔ جب وہاں پہنچا تو اجتماع میں ہونے والے بیان، ذکر، نعت اور رقت انگیز دعا نے مجھے متاثر کردیا، اس کے بعد میری زندگی یکسر بدل گئی۔ چرس ، شراب نوشی اور ناچ گانوں سے توبہ کرلی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مدنی ماحول کی برکت سے پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرنے والا بن گیا۔ مجھ جیسے گناہوں میں لتھڑے ہوئے شخص نے مدنی قافلوں میں سفر کی برکت سے دین کے اہم مسائل بھی سیکھ لئے اور پیارے آقاصلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّت (داڑھی شریف) بھی سجالی۔ مدنی ماحول کی برکت سے میرے بُرے عقیدے کی بھی اصلاح ہوگئی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  چوک درس اورمدنی قافلہ کی برکت سے مجھ جیسا ناچ رنگ کا دلدادہ اور چرس اور شراب کا عادی سنّتوں کا پیکر بن گیا۔ تادمِ تحریر اطراف گاؤں اور خصوصی اسلامی بھائیوں میں مدنی کاموں کی دھومیں مچارہاہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(13)حسرت بھری نگاہیں

       باب المدینہ (کراچی) کے مشہور علاقے لیاری کے محلے نیو کلری (جمعہ بلوچ روڈ) میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے :  میں ایک ماڈرن نوجوان تھا اور جنرل اسٹور پر کام کرتا تھا۔ یہاں بیٹھ کردن کا اکثر حصہ بلند آواز میں گانے سنا کرتا اور بدنگاہی کیا کرتا۔ حالت یہ تھی کہ اپنی عزت کا پاس تھا نہ دوسرے کی تکلیف کا احساس، بس اپنی موج مستی میں مگن اپنے نامہ ٔ اعمال کو سیاہ کرنے میں مصروف تھا۔ ہمارے جنرل اسٹور کے سامنے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی چوک درس دیا کرتے تھے۔ وہ میرے پاس آکر بڑی محبت اور نرمی سے گانے بند کرنے کی التجا کرتے ۔میں آواز تو بند کر دیتا لیکن مجھے ناگوار گزرتا۔ یونہی وقت تیز رفتاری سے گزر رہا تھا کہ ایک روز میں اور میرے دوست بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے اچانک دل میں اک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے یار! ہم کتنے غافل ہیں ، گناہوں کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں ، کبھی سدھرنے کا نہیں سوچا، کبھی نیکیوں کا ذہن نہیں بنا۔ اسی اثناء میں ہماری نظر سبز سبز عماموں والے عاشقان رسول اسلامی بھائیوں پر پڑی جو چوک درس دے رہے تھے۔ میں ان اسلامی بھائیوں کی طرف حسرت بھری نگاہ ڈالی اور اپنے دوست کو کہنے لگا :  بھائی! انھیں بھی تو دیکھو ہماری طرح جوان ہیں یقینا ہماری طرح ان کی خواہشیں بھی ہونگی لیکن انھوں نے سب کچھ دین پر قربان کرکے آخرت کا سامان کرنے کو ترجیح دی ہے اور ایک ہم ہیں کہ اپنی جوانی گناہوں میں کاٹ دی۔ احساسِ ندامت سے دل غمگین ہوگیا ۔چوک درس کا انداز دل پر چوٹ کر گیا اسلامی بھائیوں سے ملاقات کی ان کی طرح نیک تمنا کا اظہار کیا۔ جس سے وہ بہت خوش ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی ۔اجتما ع اور دعوتِ اسلامی کے دیگر مدنی کاموں میں شرکت کرنے لگا اور آہستہ آہستہ مدنی ماحول سے منسلک ہوگیا ۔ نماز روزے اور سنّتوں کا پابند ہوگیا بدنگاہی اور گانے باجوں سے توبہ کرلی دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں مصروف ہو گیا۔

اللّٰہ    عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)فلموں کاشیدائی

        حیدر آباد (باب الاسلام، سندھ) کے علاقے لطیف آبادکی ایوب کالونی میں رہائشی اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہـ :  میں ایک کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ فلموں کا بھی شیدائی تھا۔ میری بدقسمتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمعۃُالمبارک جوکہ مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے، اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے نیک بندے اس روز کی خوب خوب برکتیں حاصل کرتے ہیں لیکن ایک میں ان مبارک گھڑیوں میں بھی کسی پکنک پوائنٹ، سنیما کی گیلری، یا ریسٹورنٹ کی رونق بنا ہوتا۔ اسی طرز زندگی کو مقصدِ حیات سمجھ بیٹھا تھا۔ ان کاموں میں تو پیش پیش تھا لیکن علم دین سے بالکل کورا تھا۔ مجھے غسل کے فرائض تک معلوم نہ تھے۔ میری عصیاں بھری زندگی میں بہار آنے کا سبب یہ ہوا کہ ہمارے علاقہ میں مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی ہم جیسے بگڑے ہوئے نوجوانوں کی اصلاح کے لئے چوک درس دیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ ہمارے پاس آئے اور محبت بھرے انداز میں کہنے لگے :  ’’آپ بھی درس میں شرکت فرما لیں ۔ ‘‘ میرے دوست توانھیں دیکھ کربھاگ گئے لیکن میں نے توجہ سے ان کی بات سنی اور درس میں شریک ہوگیا۔ یوں سنّتوں بھرے درس میں شرکت کرنا میرا معمول بن گیا۔ روز بروز میرے اندر تبدیلی آنے لگی۔ اسلامی بھائیوں کا طرزِ زندگی دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا۔ اسلامی بھائیوں کی صحبت کی برکت سے میں مدرسۃالمدینہ بالغان میں بھی شرکت کرنے لگا۔پھر آہستہ آہستہ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی ترکیب بن گئی، فلموں ڈراموں سے توبہ کرلی ، جو وقت کرکٹ کھیلنے میں برباد کرتا تھا اُسے مدنی کام میں صرف کرنے لگا۔ یہاں تک کے میں اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کا جذبہ لیے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  علاقائی مشاورت کے خادم (نگران) اور مدرسۃالمدینہ فیضان مدینہ میں ناظم کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

 



Total Pages: 81

Go To