Book Name:Rasail e Madani Bahar

یہ بیان خاص میرے لئے ہی کیا گیا ہے۔ اپنا فیشن ایبل لباس دیکھ کرشرم سے پانی پانی ہوگیا، غفلت بھری زندگی پر ندامت ہونے لگی میں نے صدق دل سے توبہ کی اور تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کی نیت کرلی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اب تو اَبرِ رحمت کی پھوار نے میری زندگی کو اُجلا کر دیا ہے ، دنیا کی رنگینیوں سے دل اچاٹ ہو گیا ہے اور آخرت سنوار نے کا ذہن بن گیا ہے۔ چوک درس بلاشبہ دعوتِ اسلامی کے دیگرمدنی کاموں کی طرح ایک عظیم مدنی کام ہے جس کی برکت سے نہ جانے کتنوں کی بگڑی بن گئی۔ تادم تحریر ذیلی حلقہ مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کے لئے کوشاں ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ہمیں دین متین پر استقامت عطا فرمائے۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(11)دل کی سختی کا علاج

        مرکز الاولیاء (لاہور) کے علاقے سکیم پورہ نمبر 2 میں مقیم اسلامی بھائی اپنی گناہوں بھری زندگی میں مدنی انقلاب آنے کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں :  میں ایک ماڈرن نوجوان تھا۔ میرا اپنا ویڈیو سینٹر تھا جہاں نہ صرف بدنگاہی و بے حیائی کے مناظر خود دیکھتا بلکہ دوسروں کو دکھانے میں مصروف رہتا ۔ میں گانے سننے کا بہت شوقین تھا۔ میرے دوست بھی میری طرح گناہوں کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہے تھے۔زندگی کے قیمتی لمحات گناہوں کی نذرہوتے جارہے تھے۔میرے ویڈیو سینٹر کے سامنے ایک مبلغ دعوتِ اسلامی وقتاً فوقتاً درسِ فیضانِ سنّتدیا کرتے تھے۔ چوک درس شروع کرنے سے پہلے وہ مجھے اور میرے دوستوں کو اس میں شرکت کی دعوت دیتے۔ ان کا ملنساری اور عاجزی بھرا انداز مجھے اور میرے دوستوں کو چوک درس میں شرکت پر مجبور کردیتا۔ فیضان سنّت کی تحریر کے پر اثر الفاظ ہمارے سخت دلوں پر دستک دیتے چنانچہ درس کے بعد ہم دوست آپس میں اس طرح کی گفتگوکرتے اے کاش! ہم بھی نمازی بن جائیں ، سنّت کے مطابق زندگی گزارنے والے ہوجائیں ۔ مدنی آقا صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحیح معنوں میں غلام بن جائیں اور اپنے نامہ اعمال کو بہتر بنالیں ۔ آخرت کے متعلق بھی بات چیت کرتے لیکن نیکوں کی صحبت حاصل نہ ہونے کے سبب پھر سے اپنی موج مستی اور فلمیں دیکھنے میں مشغول ہو جاتے۔ زندگی کی گاڑی اپنی رفتار سے چل رہی تھی ایک روز میں باڈی بلڈنگ کلب جارہا تھا۔ راستے میں چوک درس دینے والے مبلغ دعوتِ اسلامی سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے محبت بھرے انداز میں کہا :  میٹھے اسلامی بھائی ! ہم علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے لئے نکلے ہوئے ہیں آپ بھی ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں ۔ میں چونکہ دنیا کی رنگینیوں میں  کھویا ہوا ایک اوباش نوجوان تھا نیکیاں کرنے ، آخرت سنوارنے کا ذہن ہی نہیں تھا اس لیے مجھے ان کی یہ بات ناگوار گزاری اور میں نے ناراض ہوتے ہوئے سختی سے کہا :  میں فارغ نہیں ، باڈی بلڈنگ کلب میں جارہا ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے میں اپنی منزل کو چل دیا۔ ایک ہفتے بعد پھر اُن سے سرِ راہ ملاقات ہوگئی ۔ انہوں نے نہایت نرمی سے انفرادی کوشش کرتے ہوئے فرمایا :  ’’پیارے اسلامی بھائی! آپ تھوڑی دیر چوک درس میں شرکت فرمالیں ۔ ‘‘ان کا محبت بھرا انداز دیکھ کر شرمندہ سا ہوگیا اور چوک درس میں شریک ہوگیا۔ سنّتوں بھرے درس کو بغور سنا تو میرا سخت دل نرم پڑ گیا گویا چوک درس میرے لئے دل کی سختی کا علاج ثابت ہوا۔ درس کے بعد ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے نمازوں کی ادائیگی کا ذہن دیا۔ جب میں واپس لوٹا تو مجھے اپنے اندر کچھ تبدیلی محسوس ہوئی۔ ان کی باتیں میرے ذہن کی تختی پر کندہ ہوچکی تھیں ، میں نے رب  تَعَالٰی کی بارگاہ میں دعا کی۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں کمزور و ناتواں ہوں تو مجھے نیکیوں کا جذبہ عطا فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میرے لئے نیکیوں کا راستہ آسان فرما دے۔ چنانچہ میں نمازِ عصر کے وقت مسجد میں حاضر ہوا اور باجماعت نماز ادا کی تو وہاں ایک اور اسلامی بھائی سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے شفقت بھرے انداز میں دعوتِ اسلامی کے مدینۃ الاولیاء (ملتان) میں ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں نے ان کی دعوت قبول کرلی اور بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی پرکیف فضاؤں میں پہنچ گیا۔ پہلے دودن تو یونہی گھومتے پھرتے گزر گئے تیسرے دن ۷رَجَبُ الْمُرجَب ۱۴۲۰ ھ، بمطابق 17 اکتوبر 1999ء بروز اتوار آخری نشست میں جب شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا بیان ’’ گانے باجے کی تباہ کاریاں ‘‘ سنا تو دل خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  سے لرز اٹھا۔ آخر میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے دعاکے وقت فرمایا آنکھیں بند کرکے اپنے گناہوں کو یاد کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو بلند کرلیجیے۔ میں نے حسبِ فرمان آنکھیں بند کرلیں ۔ آنکھوں کا بند ہونا تھا کہ میرے مقدرکا ستارہ چمک اٹھا اچانک مجھے یوں محسوس ہوا کہ کسی انجانے ہاتھ نے میرے جسم کی گندگی و غلاظت کو نکال کر باہر پھینک دیا ہے ۔ نجانے کیا ہوا کہ میرے غبار آلود قلب کی شقاوت(سختی) میں کمی آگئی اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا اک سیلاب امنڈ آیا۔ میں اتنارویا کہ دعا ختم ہوگئی لیکن میرے آنسونہ رکے، کافی دیر روتا رہا۔ میرے تاریک دل میں خوف خدا اور عشق مصطفی کی کلیاں کھل چکی تھیں ، فکرِآخرت کی شمع روشن ہوچکی تھی۔ میں نے صدق دل سے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ ویڈیو سینٹر کے کاروبار کو چھوڑ دیا وہ نوجوان جوکل تک نمازوں سے غافل، گناہوں پر دلیر تھا آج مدنی ماحول کی برکت سے پابندِ صلوٰۃ و سنّت اور نعت خوانی کا شائق بن گیا۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(12) ناچ رنگ اور شراب کا عادی

        ایک اسلامی بھائی کا تحریری بیان بتصرف پیشِ خدمت ہے :  مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں نہ صرف گناہوں کے دلدل میں نہایت بری طرح پھنساہوا تھا بلکہ میرے عقائدبھی درست نہ تھے۔ نمازوں سے اس قدر غافل تھا کہ عید کی نماز پڑھنا بھی نصیب نہ ہوتی۔ رمضان المبارک میں تمام مسلمان روزہ رکھتے مگربدقسمتی سے میں اس سعادت سے محروم تھا۔ دن میں ایک دوکان پر ملازمت کرتا لیکن رات بھر چرس اورشراب کے نشے میں دُھت رہتا۔ ٹی وی پر فلمیں ڈرامے دیکھتااور بدنگاہی کرکے اپنے نامۂ اعمال میں گناہوں کے بوجھ میں اضافہ



Total Pages: 81

Go To