Book Name:Rasail e Madani Bahar

کی انفرادی کوشش کی برکت سے مدنی ماحول کے قریب سے قریب تر ہوتا چلاگیا۔ عاشقانِ مصطفی کی صحبت کی برکت سے ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے تربیتی اعتکاف کی سعادت ملی۔ علمِ دین سیکھنے کو ملا، اچھے لوگوں کی صحبت کیاملی دل کی سیاہی دھلنے لگی۔ نماز سے کوسوں دور بھاگنے والا شخص مسجد کی پہلی صف میں تکبیرِاولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے والا بن گیا۔ شراب کی مستی میں مست رہنے والا عشقِ مصطفی میں تڑپنے والا بن گیا۔ مہکے مہکے مدنی ماحول کی پر بہار فضاؤں میں ایسا ذہن بنا کہ میں مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا اور مجھے شراب نوشی اور گناہوں کی دیگر نحوستوں سے نجات مل گئی۔

 اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(5)ہوٹل کی زینت بننے والانوجوان

        حیدرآباد(باب الاسلام، سندھ)کے علاقے لطیف آباد کے یونٹ نمبر 8 بلاک Bکے مقیم اسلامی بھائی اپناواقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ : میں گناہوں میں اس قدر گھراہوا تھا کہ مجھے اپنی زندگی کے بیش قیمت لمحات کے برباد ہونے کا احساس تک نہ تھا حسب معمول اس دن بھی میں ہوٹل میں موجود تھا اور دوسرے لوگوں کی طرح چائے کے بہانے انہماک سے ٹی وی پرچلنے والے فلمی مناظر میں کھویا ہوا تھا کہ اتنے میں سبزسبزعمامہ کا تاج سجائے سنّتوں بھرے لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی حیا سے نگاہیں جھکائے، باوقار انداز میں چلتے ہوئے میرے قریب آئے اورگرمجوشی سے مصافحہ کرنے کے بعد کہنے لگے :  ’’پیارے بھائی باہر چوک درس کی ترکیب ہے۔ آپ چند منٹ عنایت فرما دیں اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ڈھیروں نیکیوں کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔ ‘‘میں ان کی خوش اخلاقی و ملنساری سے متأثر ہو کر ہاتھوں ہاتھ ان کے ساتھ چل پڑا۔ ہوٹل کے باہر ایک اسلامی بھائی فیضانِ سنّت سے درس دے رہے تھے دوسرے اسلامی بھائیوں کی طرح میں بھی درس سننے میں مصروف ہوگیا درس سن کر میرا دل چوٹ کھا گیا، چند لمحوں کے لئے میں سوچ کے گہرے سمندر میں ڈوب گیا اور مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنی زندگی کے’’ انمول ہیروں ‘‘کو یونہی ’’غفلت ‘‘ میں گنوا دیا ، خیر بقیہ گھڑیوں کو غنیمت جانتے ہوئے میں نے صدقِ دل سے توبہ کی اور اسلامی بھائیوں کی صحبت اختیار کر لی جس کی بدولت کبھی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت توکبھی مدنی قافلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سفرنصیب ہونے لگا۔رفتہ رفتہ میں مدنی ماحول کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا گیا بالآخر ہوٹلوں کی زینت بننے والا نوجوان چوک درس کی برکت سے آج اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  عاشقانِ رسول کے ساتھ مسجدمیں رات بسرکرنے والابن گیا۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)معلومات کاخزانہ

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقہ سر جانی ٹاؤن کے سیکٹر A / 7(عبداللّٰہ آباد) میں مقیم اسلامی بھائی اپنی توبہ کے احوال یوں بیان فرماتے ہیں کہ  :  بدقسمتی سے میرا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ تھاجو نیکیوں سے دور گناہوں بھری زندگی گزار رہے تھے اسی صحبتِ بد کی بدولت میں بھی  اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نافرمانی والے کاموں میں لگ گیا ۔ میری زندگی میں مدنی اِنقلاب کچھ اس طرح آیا کہ جس چوک پر ہم سارے دوست جمع ہوکر ٹھٹھا مسخری کیا کرتے تھے اسی چوک پر چند دنوں سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائیوں نے چوک درس دینا شروع کردیا اس درس کی قدر و قیمت اور اہمیت سے ناواقفیت کی بدولت درس شروع ہونے پر ہم سب دوست چوک سے اِدھرادھرکھسک جاتے۔ ایک دن اسلامی بھائی بڑی محبت و پیار کے ساتھ انفرادی کوشش کرتے ہوئے ہمیں درس میں لے ہی گئے۔ جب میں نے ایک دو مرتبہ چوک درس میں شرکت کی تو مجھے دینی معلومات کا وہ خزانہ حاصل ہوا کہ جس سے میں آج تک محروم تھا۔ رفتہ رفتہ میں مدنی ماحول کے رنگ میں رنگتا چلا گیا۔ میں نے اپنے چہرے پر داڑھی مبارک سجانے اور پانچوں نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی نیت کی۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے لگا اور دیگرمدنی کاموں میں حصہ لینے لگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اب میں اپنے اندرکافی تبدیلی محسوس کرتا ہوں ۔ میں نہ صرف نمازی بن گیا ہوں بلکہ سنّتوں پرعمل کرنے کی سعادت بھی پا رہاہوں ۔ اللّٰہ  تَعَالٰی مجھے اس مدنی ماحول سے ہردم وابستہ رہنے کی سعادت نصیب فرمائے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7)گلے کی تکلیف سے نجات

       ڈیرہ غازی خان(پنجاب، پاکستان)کے علاقے وہاڑی کالونی میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے کہ میں سنّتوں سے دور دنیا کی رنگینیوں میں مسرور تھا۔ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کا ایک مدنی قافلہ قریبی شہر سخی سرور سے ہمارے علاقے کی مرکزی جامع مسجد میں آپہنچا، شرکائے قافلہ اسلامی بھائیوں نے بڑی محبت وشفقت سے علاقے والوں پر انفرادی کوشش شروع کردی۔ اسلامی بھائیوں سے ملاقات، ان کے ساتھ گزرے لمحات میری زندگی کاحسین باب بن گئے، تین دن کے بعدجب عاشقانِ رسول سنّتوں کے موتی لٹا کر واپس جانے  لگے تو ہمارے علاقے میں سنّتوں کی بہاریں عام کرنے کے لیے ایک اسلامی بھائی کونگران بنادیا۔چنانچہ ہم نے اپنے علاقہ وہاڑی کالونی  (جسے ہم پیارسے عطاری کالونی کہتے ہیں ) میں درسِ فیضانِ سنّت، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت اور چوک درس کی ترکیب بنائی جس کی برکت سے آہستہ آہستہ کئی اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ ایک روز ہم چھ سات اسلامی بھائی ’’سٹی تھانہ‘‘ کے قریب چوک درس دے



Total Pages: 81

Go To