Book Name:Rasail e Madani Bahar

کر گئی اور میں مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ چند ہی دن گزرے ہوں گے کہ ایک روز علی الصبح میری خالہ ہمارے گھر آئیں اور امی کو بتانے لگیں کہ میں نے رات کو خواب میں آپ کے شوہر کو دیکھا، وہ کہہ رہے تھے’’میرے گھرجا کربتادو کہ میں اپنے چھوٹے بیٹے سے بہت خوش ہوں ‘‘ یہ بات سن کر میں بہت خوش ہوا اور عزمِ مصمم کرلیاکہ اب تو میں دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ ماحول میں ہی جیوں اور مروں گا۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ہمیں دین متین پر استقامت کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا ہم پر کس قدر فضل وکرم ہے کہ آج کے اس پرفریب دور میں جہاں ہرطرف نفسانفسی کاعالم ہے، دلوں کی کدورتیں بڑھ گئی ہیں اور مقصودفقط دولت وثروت رہ گیاہے۔ ایسے میں اگرکوئی آ کر جامِ عشق مصطفی پلادے تویہ کرم نہیں تواورکیاہے؟ اَلْحَمْدللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول ہمیں فکرِآخرت، حُبِّ رسول، اتباعِ سنّتِ نبوی ، تقویٰ و پرہیزگاری کا درس دیتا ہے ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ہمیں دعوتِ اسلامی کا وفادارو باشعور مبلغ بنائے۔ آمین۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 (10)مرحبا یا مصطفٰی کے دلکش ترانے

        حافظ آباد (پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لبِ لباب اس طرح ہے کہ 2003 ء کی بات ہے کہ جب میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ربیع النور شریف کے ماہ کی نورانیت نے چہار سُو اُجالا کررکھا تھا۔ ہر گلی کوچے سے مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی کے دلکش ترانے کانوں میں رس گھول رہے تھے۔ دعوتِ اسلامی کے تحت حضور اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے یومِ ولادت کے سلسلہ میں سنتوں بھرے اجتماعِ ذکرو نعت کا اہتمام کیا گیا۔ اجتماع کا سن کر میں بھی اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حاضر ہو گیا۔ سنتوں بھرے اجتماع میں پہنچے مبلغ دعوتِ اسلامی پنجاب ضیائی کے نگران رکنِ پاکستان انتظامی کابینہ نے سنتوں بھرا بیان فرمایا۔ مبلغ دعوتِ اسلامی کے الفاظ تاثیر کا تیر بن کر دل پر ایسے اثر انداز ہوئے کہ یہ گناہوں سے اُچاٹ ہو نے لگا۔ سنتوں بھرے بیان کے بعد مبلغ دعوتِ اسلامی کی پرسوز دعا نے تو میرے دل کی دنیا زیر و زبر کردی۔ شرم و حیا کے مارے آنکھوں کے راستے آنسوؤں کا سیلاب اُمنڈ آیا۔ دل کا زنگ اترا تو دعوتِ اسلامی سے محبت کی کلیاں کھلنے لگیں ۔ میں نے اپنی گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی، اور آئندہ سنتوں بھری زندگی بسر کرنے کا عزم بالجزم کر لیا۔ گھر پہنچا تو میرے انداز و گفتار سوچ و خیال بدل چکے تھے۔ سنتوں بھرے اجتماع کی پاکیزہ فضاؤں نے دل سے دنیا کی محبت اس طرح نکال باہر کی کہ بس اب تو اپنا ایک ہی مقصد تھا کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘۔ اس مقصد کو پانے کے لیے میں نے اجتماعات میں پابندی سے حاضری رکھی اور موقع ملنے پر دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے مختلف سلسلوں میں شامل رہتا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یہ اسی مدنی ماحول کا فیضان ہے کہ آج بفضلہ تعالی ذیلی حلقہ نگران کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچارہا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(11)عاشقِ رسول کی پُر اثر باتیں

        بہاولپور ( پنجاب ، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لبِ لباب ہے کہ مشکبار مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں ایک ماڈرن اور کلین شیوڈ نوجوان تھا۔ بری صحبت کی نحوست نے حال سے بے حال کردیا تھا۔ فلموں  ڈراموں کا نشہ منہ پڑ چکا تھا۔ میری گناہوں بھری زندگی میں مدنی انقلاب کچھ اس طرح برپا ہوا کہ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے ستائیس رمضان المبارک کی مبارک رات دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعِ ذکرو نعت میں شرکت کا ذہن دیا، عاشقِ ر سول اسلامی بھائی کی باتیں دل پر اثر کر گئیں اور میں گناہوں کا بار لیے ستائیسویں رمضان المبارک کے پُربہار اجتماعِ ذکر و نعت میں شریک ہو گیا۔ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  سے بھرپور فکر آخرت میں رنجور مدنی ماحول دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔ اجتماع میں ہونے والے بیان اور ذکرو دُعا نے بدن پر لرزہ طاری کر دیا۔ میں نے اسی وقت گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کامعمول بنا لیاجس کی برکت سے میری زندگی کو مزید چار چاند لگ گئے۔ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی کی بدولت آخرت سنوارنے کے لیے سر پر عمامہ شریف کا تاج اور چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی سجالی۔ یوں مشکبار مدنی ماحول کی برکتو ں سے مجھے سنتوں بھری زندگی نصیب ہوگئی۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(12)شیطانی کاموں سے توبہ

         پنجاب ( پاکستان ) کے شہر گلزار طیبہ( سرگودھا) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے : میں سنّتوں بھری زندگی سے بہت دور گناہوں کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا تھا، روزانہ داڑھی منڈاتا اور اس کے لیے شیو کا مہنگا مہنگا سامان خرید کر لاتا ساری ساری رات کیبل پر فلمیں ڈرامے دیکھتا رہتا۔ آہ! میں نے اپنی انمول زندگی کے پانچ سال انہی شیطانی کاموں میں ضائع کردیئے۔ جس دوکان پر میں کام کرتا تھا اس کا مالک دعوتِ اسلامی کے اجتماع میں شرکت کرتا تھا اور اکثر و بیشتر مجھے بھی اجتماع کی دعوت دیتے مگر میں کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے ٹال دیتا۔ یہاں تک کہ شبِ برأت کی وہ سہانی شام میرے لیے صبح بہاراں بن کر آئی کہ جب ایک اسلامی بھائی نے مجھے اجتماع ذکر و نعت کی دعوت دی جسے میں ٹھکرا نہ سکا۔ اجتماع قبرستان کے قریب کشادہ جگہ میں تھا۔ میں بھی اجتماع کے وسط میں جا پہنچا۔ بیان جاری تھا اور اجتماع گاہ پر ہو کا عالم تھا۔ بیان ایسا رُلا دینے والا کہ میں نے پہلے کبھی نہ سنا۔ جس کا نام ’’بادشاہوں کی ہڈیاں ‘‘ تھا۔ بیان سن کر میں



Total Pages: 81

Go To