Book Name:Rasail e Madani Bahar

        یقینا راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں سفر کرنا بڑی سعادت مندی ہے کیونکہ مَدَنی قافلوں کی برکت سے پنج وقتہ نمازکی پابندی کے ساتھ ساتھ نوافل کی پابندی کی سعادت بھی نصیب ہوتی ہے۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وَسَلَّم کی نہ صرف سنّتیں  سیکھنے کو ملتی ہیں بلکہ علمِ دین حاصل کرنے کا موقع بھی میسر آتا ہے۔ علمِ دین کے لیے سفر کے بے شمار فضائل ہیں ہمارے اسلاف علمِ دین کے حصول کی خاطر دور دراز شہروں کا سفر کیا کرتے تھے۔ احادیثِ مبارکہ میں علمِ دین کے لیے سفر کے کیسے فضائل ہیں اس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ  نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے قدم علم کی طلب میں گرد آلود ہوں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس کے جسم کو دوزخ پر حرام فرما دے گا اور اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کریں گے، اگر علم کی طلب میں مر گیا تو شہید ہوا ۔ اس کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہو گی اور اس کی قبر تاحدِ نظر وسیع کر دی جائے گی۔ اس کے پڑوس میں دائیں بائیں آگے پیچھے چالیس چالیس قبریں نور سے معمور کر دی جائیں گی۔ (تفسیر کبیر ج 1 ص 408 دار احیاء التراث العربی، بیروت)

        مَدَنی قافلوں میں سفر کی برکت سے اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   اپنے سابقہ طرزِ زندگی پر غور و فکر کا موقع ملے گا اور دل حُسنِ عاقبت کے لئے بے چین ہو جائے گا جس کے نتیجے میں گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ توبہ کی توفیق بھی ملے گی۔ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سفر کرنے والے کتنے نوجوان فحش کلامی اور فضول گوئی کی عادات سے تائب ہو کر دُرُودِپاک کے عادی بن گئے۔   

 تلاوتِ قراٰن، حمدِالٰہی اور نعتِ ِرسول کتنوں کا وردِ زباں بن چکا ہے۔ اِحترامِ مسلم کاجذبہ ملا، دنیاوی مال و دولت کی ہوس سے جان چھوٹی اور نیکیوں کی طرف دل مائل ہونے لگا۔

       اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سفر سے جہاں اُخروی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں بے شمار دنیوی برکات بھی سمیٹنے کو ملتی ہیں کئی بیمار شفا پاتے ، پریشان حال خوش حال ہو جاتے ۔ بے روز گار، روز گار پاتے بے عمل سنتوں پر عمل کا جذبہ پاتے ہیں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  مدنی قافلوں کی متعدد بہاریں ہیں جن کا رسالہ حصہ اوّل ’’شرابی، مؤذن کیسے بنا؟‘‘ شائع ہو چکا ہے اب حصّہ دوم ’’عَجِیبُ الخِلقَت بَچّی ‘‘کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے جبکہ سینکڑوں بہاریں ترتیب کے مرحلے میں ہیں ۔

        اللّٰہ  تَعَالٰی ہمیں ’’اپنی اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ امیرِاہلسنّت         مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)

۱۳ربیع الغوث۱۴۳۳ ھ بمطابق 07مارچ 2012 ء   

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز تالیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ میں حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوہُریرہ  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنہ سے مروی ہے کہ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِ مکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے کچھ سَیّاح (یعنی سیر کرنے والے ) فرشتے ہیں ، جب وہ مَحافِلِ ذکر کے پاس سے گزرتے ہیں تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں :  (یہاں ) بیٹھو۔ جب ذاکرین (یعنی ذِکر کرنے والے) دُعا مانگتے ہیں تو فرشتے اُن کی دُعا پر اٰمین (یعنی ’’ایسا ہی ہو‘‘)  کہتے ہیں ۔ جب وہ نبی  پر دُرُود بھیجتے ہیں تو وہ فرشتے بھی ان کے ساتھ مل کر دُرُود بھیجتے ہیں حتی کہ وہمُنتَشِر (یعنی اِدھر اُدھر) ہوجاتے ہیں ، پھر فرشتے ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ اِن خوش نصیبوں کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ مغفرت کے ساتھ واپس جا رہے ہیں ۔      (جَمْعُ الْجَوامِع ج۳ص۱۲۵حدیث۷۷۵۰ )

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(1)عجیبُ الْخِلْقَتْ بَچّی

       راجہ جنگ (ضلع قصور، پنجاب، پاکستان) کے نواحی گاؤں جونیکے میں مُقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے : ۱۴۲۵ ھ بمطابق 2005ء میں میرے گھرعجیبُ الْخِلْقَتمدنی مُنّیکی پیدائش ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر اس کی ٹانگ حسبِ فطرت گھٹنے کی جگہ سے پیچھے کی جانب مُڑنے کے بجائے آگے کی طرف مُڑتی تھی۔ یہ عجیب معاملہ دیکھ کر میں بہت پریشان ہوا ۔یقینا ایک باپ ہی وہ درد محسوس کر سکتا ہے کہ جب میں اپنی ننھی منی بیٹی کو اس حالت میں دیکھتا تومجھ پر کیا گزرتی؟ علاج کی غرض سے میں اپنی مدنی مُنّی کوچِلڈرن اَسپتال لے گیا۔ چَیک اَپ کرنے کے بعد ڈاکٹرنے ٹانگ پر پَلَسْتر چڑھا دیا تاکہ ٹانگ حسبِ فطرت کام کرنا شروع کر دے۔ کچھ دنوں کے بعد پَلَسْتراتارا گیا تو ٹانگ میں تھوڑا سا فرق محسوس ہوا لیکن مکمل درست نہ ہوئی۔ ڈاکٹرنے بتایاکہ اگر ابھی اس مرض سے نجات نہ ملی تو عمر زیادہ ہو جانے پر اس کا آپریشن کرناپڑے گا۔ کچھ دنوں بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  میں دعوتِ اسلامی کے راہِ خدا میں سفر کرنے والے مدنی قافلے کا مسافر بنا۔ مدنی قافلے میں شریکعاشقانِ رسول کی صحبت میں رہ کر اپنی مدنی مُنّی کی شِفایابی کے لئے خوب دعائیں کیں ۔ جب مدنی قافلے کی برکتیں دامن میں سمیٹے واپس گھر لوٹا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  کیا دیکھتا ہوں کہ مدنی قافلے میں مانگی جانے والی دعاؤں کی بدولت میری مدنی منّی صحت یاب ہو چکی تھی۔

 اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

 



Total Pages: 81

Go To