Book Name:Rasail e Madani Bahar

رہتے۔ جبکہ میں بدنصیب کبھی کبھار انہیں غصے میں جھڑک بھی دیتا مگروہ حیرت انگیز طور پر مسکرا دیتے۔ ان کی مسلسل انفرادی کوشش آخر کار رنگ لائی اور ایک روز میں ان کے ہمراہ ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کے لیے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ پرانی سبزی منڈی میں حاضر ہو ہی گیا۔ اجتماع میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا پرسوز بیان سن کر بہت متأثرہوا اور جب رِقّت انگیز دعا شروع ہوئی تومیرے دل کی دنیا ہی بدلنے لگی اپنے کرتوتوں پرندامت سے پانی پانی ہو گیا اور ہاتھوں ہاتھ اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کی اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دستِ بابرکت پر بیعت کر کے سرکارِ غوثِ پاک عَلَیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الرَّزّاق کے مریدوں میں شامل ہوگیا۔ ان اسلامی بھائی کی مزید انفرادی کوشش کی برکت سے چہرے پر پیارے آقا صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری سنّت داڑھی شریف اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج اور بدن پر سنّت کے مطابق مدنی لباس سجالیا اور رفتہ رفتہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ

آج میں 30 دن کے تربیتی اعتکاف کی خوب خوب برکتیں لوٹنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(12)بے نمازی، نمازی بن گیا

        بمبئی(الھند) کے علاقے ساکی ناکہ (خیرانی روڈ) کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کالُبِّ لُبَابْ ہے کہ بچپن ہی سے دینی ماحول سے دوری اور ماڈرن دوستوں کی صحبت کی وجہ سے میرے شب وروزگناہوں میں بسر ہو رہے تھے۔ میں زندگی کے قیمتی لمحات فضولیات میں برباد کر رہا تھا۔ مذہبی لوگوں سے کوسوں دور رہنے کی وجہ سے دین کی طرف بھی کچھ خاص میلان نہ تھا۔ نمازوں کی ادائیگی سے غفلت کا عالم یہ تھا کہ جمعہ کی نماز بھی کبھی کبھار پڑھتا۔ والدین نماز روزے کے بارے میں تاکید کرتے مگر سُنی ان سنی کر دیتا۔ بالآخر میری قسمت کا ستارہ چمکا اور گناہوں بھری زندگی سے نجات کاسبب کچھ اس طرح بنا کہ جب میں کالج میں پہنچا تو یہاں دعوتِ اسلامی کی مجلس شعبۂ تعلیم کے اسلامی بھائیوں سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے پیار بھرے انداز میں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی تو دل نے ان کی دعوت پر لَبَّیْک کہا اور مجھے پہلی بار ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہاں ہر طرف سبزسبز عماموں کی بہاریں دیکھ کر بہت اچھا لگا، اجتماع میں ہونے والے سنّتوں بھرے بیان ، ذکر اللّٰہ سے گونجتی فضاؤں کے روح پرور مناظر دیکھ کر بہت متأثر ہوا، اور رِقَّت انگیز دعا نے تو میرے دل کی دنیا زیر وزبر کردی مجھے مدنی سوچ ملی، ذہن آخرت کی تیاری کی جانب مائل ہوا، اسلامی بھائیوں کے دل موہ لینے والے اپنائیت بھر ے اندازِ ملاقات نے مجھے ان کے قریب کردیا۔ اسلامی بھائیوں کی مسلسل انفرادی کوششوں کی برکت سے چہرے کو پیارے آقا صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی پیاری سنّت داڑھی شریف اور سر کو سبز سبز عمامہ شریف سے سر سبز و شاداب کر لیا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو راہِ حق میں دی گئیں تکالیف کے واقعات سن کردین کی خدمت کا مزید جذبہ ملا اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ     تادمِ تحریر صوبائی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچا نے میں کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد 

(13)سنّتوں پر عمل کاجذبہ مل گیا

        ابوظہبی (عرب امارات) کے اسلامی بھائی نے اپنی زندگی میں پیش آنے والی مدنی بہار تحریراً دی اس کا خلاصہ ہے کہ میں مدنی ماحول میں آنے سے پہلے گناہوں بھری زندگی بسر کر رہا تھا نیکیوں سے دور، گناہوں کے نشے میں ہر وقت مخمور رہتا۔ مَعَاذَاللّٰہ نماز تو کبھی پڑھی ہی نہیں تھی۔ میری زندگی میں نیکیوں کی بہار کچھ یوں آئی کہ ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی کی دعوت پر میں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اجتماع میں تلاوت و نعت کے بعد سنّتوں بھرا بیان ہوا۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی کا عشقِ مصطفی سے سرشار محبتِ رسول پر مبنی بیان سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ بیان کے اختتام پر جب سنّتیں بیان کیں تو میرے دل میں سرکارِمدینہ صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکی پیاری پیاری سنّتوں پر عمل کا جذبہ پیدا ہوا اور میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا۔ میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور آقا صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکی محبت کی نشانی داڑھی شریف سے اپنے چہرے کو منوّر کرنے کی پکی نیّت کر کے سر پر سبز عمامے کا تاج سجا لیا۔ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی برکت سے نمازیں پڑھنا شروع کر دیں ۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میں نیکی کی دعوت کے ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

مدنی قافلوں کی اہمیت

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی ساری دنیا میں نیکی کی دعوت عام کرنے کا عزمِ مُصَمَّم رکھتی ہے۔ اس میں کامیابی پانے کے لیے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے مختلف مدنی کام عطا فرمائے ہیں جن میں وقتاً فوقتاً منعقد کیے جانے والے اجتماعات، نیکی کی دعوت، مدنی حلقے، سنّتوں بھرے مدنی قافلے اور دیگر مدنی کام شامل ہیں ۔ ان سب مدنی کاموں میں مدنی قافلوں کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے بیانات اور مدنی مذاکروں میں کثرت سے 12ماہ 30 دن، 12دن اور 3 دن کے مدنی قافلوں کی بھرپور ترغیب ارشاد فرماتے ہیں ۔ آپ کی پُراثر دعوت پر لَبَّیک کہتے ہوئے بیشمار اسلامی بھائی سنَّتوں کی تربیّت کے لیے ملک بہ ملک، شہربہ شہراورقَریہ بہ قَریہ سفر کر کے علمِ دین حاصل کر کے سنّتوں کی بہاریں لوٹتے رہتے ہیں ۔

 



Total Pages: 81

Go To