Book Name:Rasail e Madani Bahar

(7)میراتن من دھن دعوتِ اسلامی پرقربان

        جَلالپور جَٹَّاں (ضلع گجرات، پاکستان)کے محلہ کشمیرنگرکے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں دین سے بہت دورتھا۔ جس کے سبب نیک اعمال کرنے سے بھی محروم تھا۔ مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مذہبی لوگوں سے تو دور بھاگتا تھا۔ زندگی کے شب وروز یوں بداعمالیوں میں بسر ہو رہے تھے، نہ نیکیاں کرنے کا جذبہ تھا نہ ہی گناہوں سے بچنے کا ذہن۔ سیاہ راتوں کی طرح میری گناہوں بھری زندگی میں نیکیوں کا اُجالا کچھ اس طرح ہوا کہ ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کا مدنی کام دھیرے دھیرے بڑھنے لگا۔ مدنی ماحول سے منسلک سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے اسلامی بھائی مجھ سے ملتے اور بڑے ہی شفقت بھرے انداز میں انفرادی کوشش کرتے۔ اصلاح ِ امّت کے جذبے سے سرشار اسلامی بھائیوں کی مسلسل انفرادی کوشش آخر کار رنگ لائی اور شاید پہلی مرتبہ میں حقیقی معنوں میں اپنی آخرت کے لئے فکر مند ہوا۔ ایک بار جب ایک اسلامی بھائی نے حسب ِمعمول مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی تو میں انکار نہ کر سکا اور گناہوں کا بوجھ اُٹھائے اجتماع میں شریک ہوا۔ وہاں میں نے مبلغِ دعوتِ اسلامی کا بیان سُنا جو بڑا دلنشیں اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللّٰہ کی صداؤں اور رقّت انگیز دُعا نے مجھے بہت متأثر کیا۔ اجتماع میں موجود نوجوان اسلامی بھائیوں کے چہروں کی نورانیت، حیاء سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنّت کے مطابق سفید لباس اور سر پر سبز سبز عمامہ اور زُلفیں ، بقدرِ ضرورت گفتگو کا باادب انداز خوش اخلاقی اور ملنساری دیکھ کر میں بہت متأثر ہوا اور مجھے قلبی سکون ملا۔ میں حیران تھا کہ آج کے اس پرفتن دور میں ایسا پاکیزہ ماحول بھی ہے جہاں نوجوانوں کی ایسی اصلاح ہوتی ہے۔ یوں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول نے میرا دل جیت لیا اور میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہو گیا۔ نمازوں کی پابندی شروع کر دی، مدنی کاموں میں حصہ لینے لگا۔ چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجالی۔ عمامہ شریف کے تاج سے ’’سرسبز‘‘ ہو گیا۔ اب میں تقریباً آٹھ سال سے یورپ میں مقیم ہوں مگر’’ اس گناہوں بھرے ماحول‘‘ میں بھی سنّتوں پر عمل کرنے کی سعادت پا رہا ہوں ۔ اگر مجھے کوئی ساری دنیا کی دولت بھی دیکر مدنی ماحول چھڑوانا چاہے گاتو اِنْ شَآءَاللہ عَزّوَجَلَّ  پھر بھی ایسے بابرکت مشکبار مدنی ماحول سے دوری اختیار نہیں کروں گا کہ جس نے مجھے ایمان کی حفاظت، نیک اعمال کرنے کا جذبہ اور عشقِ رسول میں تڑپنے کا قرینہ دیا۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8)سُنّتوں کا دیوانہ

        مدینۃالاولیائ( ملتان) کی بستی علی والہ کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے :  میں مدنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل مختلف گناہوں میں ملوث تھا۔ فلمیں ، ڈرامے دیکھے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ میرے ایک دوست جو کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ تھے انہوں نے مجھے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی، ان کی دعوت پر لَبَّیْک کہتے ہوئے میں زندگی میں پہلی مرتبہ سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضرہوا، میں وہاں ہونے والے سنّتوں بھرے بیان، ذکرُاللّٰہ ، رقّت انگیز دعا کے دوران شرکائے اجتماع کی آہ وزاری سے بے حد متأثر ہوا۔ میرے دل کی دُنیا زیروزبر ہوگئی۔ میں بھی اپنے گناہوں کو یاد کر کے خوب رویا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  میں نے اُسی اجتماع میں سچے دل سے توبہ کرلی۔  کل تک میں فلموں ڈراموں کاشوقین تھا مگر اب سنّتوں کا دیوانہ بن گیا۔ میں نے سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجالیا، مدنی لباس زیب تن کرلیا، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے حضور غوثِ پاک عَلَیہِ رحمۃُاللّٰہِ الرَّزّاقکا مرید ہونے کی سعادت حاصل کی۔ مجھ پر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کاایساکرم ہوا کہ میں مدرستہ المدینہ میں داخل ہو گیا اور قراٰن پاک کے نور سے اپنے قلب کو منور کرنے لگا۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے کہ جس نے مجھے نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ عطا کردیا۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9)بدمذہبوں کے چُنگل سے نکل آیا

        منڈی بہاؤ الدین(پنجاب، پاکستان)میں چک نمبر3کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ     ہمارا سارا گھرانہ مسلک ِحق اہلسنّت سے تعلق رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے میں اور میرے بھائی ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے کہ جن کی تحریر وتقریر عشقِ مصطفی کی چاشنی سے ناآشنا تھی ۔اولیاء ُاللّٰہ رَحِمَھُمُ اللّٰہ سے نسبت قائم کرنا، اُن کے نزدیک توحید کے مُنافی تھا۔ ایسے بد عقیدہ ماحول میں رہنے کی وجہ سے ہماری آنکھوں پر بھی تعصب کی پٹی بندھ چکی تھی جو ہمیں راہِ حق دیکھنے سے باز رکھے ہوئے تھی، ہم ان کے ساتھ مل کر لوگوں کو دامِ فریب میں پھانستے اوران کے عقائد بگاڑنے میں لگے رہتے۔ میرا چھوٹا بھائی گلزارِطیبہ (سرگودھا) کالج میں زیرِتعلیم تھا خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کالج میں دعوتِ اسلامی کی مجلس شعبہ ٔ تعلیم کے اسلامی بھائیوں نے اُسے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتما ع کی دعوت پیش کی جو کہ اُن دنوں گلزارطیبہ( سرگودھا) کی مرکزی جامع مسجد سید حامد علی شاہ میں ہوتا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ دعوت ِاسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگا۔ جب وہ چھٹیوں میں گھر آیا تو مجھ سے کہنے لگا ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ                                          تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی شب و روز تعلیمِ قراٰن اور احیائے سنّت کے لیے کوشاں ہے اور لوگوں کے دلوں میں عشقِ مصطفی کی شمع فروزاں کر رہی ہے۔ اس کے بانی ولیٔ کامل، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہہیں جو کہ صاحبِ کرامت بزرگ ہیں ۔‘‘ بدمذہبوں کی صحبت کی وجہ سے میرا دل سیاہ ہو چکا تھا ولیٔ کامل کا ذکر سُن کر میں آپے سے باہر ہو گیا اور اُول فول بکنے لگا۔ لیکن بھائی کی باتوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں بدمذہبوں کے افعال واقوال پر غور کرنے لگا تو مجھے اُن میں نہ خوف خدا نظر آیا نہ عشقِ مصطفی بلکہ ایک ہی مقصدتھا کھاؤ پیو جان بناؤ اورخوب بدمذہبی پھیلاؤ۔ ایک دن نجانے انھیں کیا سوجھی مجھے کہنے لگے :  آپ نعت سناؤ۔ میں نے نعت سنانا شروع کی جب میں نے یارسول اللّٰہپڑھا تو سب کے چہرے مُتَغَیَّر (تبدیل)



Total Pages: 81

Go To