Book Name:Murday ki Bebasi

 

چالیس دن تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوگی اگر اُس نے توبہ کرلی تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اُس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ پھر اگر تیسری بارشراب پی لی تو پھر چالیس دنوں تک اُس کی نمازقبول نہیں ہوگی اگر اُس نے توبہ کرلی تو  اللہ تعالٰی اُس کی توبہ قبول فرمائے گا۔پھر اگر چوتھی مرتبہ اُس نے شراب پی لی تو پھر چالیس دِنوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اب اگر اُس نے توبہ کرلی تو اُس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور اُسے نہر خبال (یعنی دوزخیوں کی پیپ کی نہر)سے پلائے گا ۔( تِرمِذی  ج۳ ص۳۴۱ حدیث۱۸۶۹)

شیرِخدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شراب سے نفرت

        امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضٰی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم شراب سے نفر ت کا اِظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اگر کسی کنویں میں شراب کا ایک قطرہ گر جائے اور اُس پر منارہ تعمیر کیا جائے تومیں اُس منارے پر اذان نہ دوں ، اگر کسی دریا میں شراب کا ایک قطرہ گرجائے پھر وہ دریا خشک ہو جائے اور وہاں گھاس اُگ آئے تواُس گھاس پر میں اپنے جانور نہ چراؤں۔‘‘     (روحُ الْبیان ج۱ ص۳۴۰)

 ظالِم والِد ین کی بھی اطاعت

      ماں باپ کی نا فرمانی کرنے والوں کو گھبراکر توبہ کرلینی اور والدَین سے معافی مانگ کر ان کو راضی کرلینا چاہئے۔ورنہ کہیں کے نہ رہیں گے۔ سرکارِ نامدار،مکے مدینے کے تاجدار، محبوبِ پروَردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ عالی نشان ہے : جس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے ماں باپ کا فرمانبردار ہے ، اُس کیلئے صبح ہی کو جنّت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور

 



Total Pages: 28

Go To