Book Name:Faizan e Tajveed

قرآنِ مجید کودرست پڑھنے میں معاون اہم کتاب

 

فیضانِ تجوید

 

 

 

پیش کش

 

مجلس اَلْمَدِ   یْنَۃُ الْعِلْمِیۃ   (دعوتِ اسلامی )

 

(شعبۂ درسی کتب(

 

ناشر

 

مکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

’’یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ !مجھے میرے مُرشد کا منظورِ نظر بنا دے ‘‘ کے اڑتیس حُرُوف کی نسبت سے طلبہ کے لیے پڑھنے کی 38 نیتیں

فرمانِ مصطفیٰ    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ’’ اچھی نیّت بندے کو جنَّت میں داخِل کر دیتی ہے ۔ ‘‘

  (الجامع الصغیر، ص۵۵۷، الحدیث۹۳۲۶، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

 دو مَدَنی پھول :

 {1}  بغیر اچھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا ۔

{2}جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ ۔

(۱) رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس نیت سے پڑھوں گا کہ مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ(۲) تعظیمِ علم کے لئے صاف سُتھرے کپڑے پہنوں گا ۔ (۳) تعظیمِ علم اور سُنّت  پر عمل کے لئے خُوشبو کا استعمال کروں گا ۔ ( ۴) درجہ میں جانے سے پہلے وُضُو کروں گا ۔ (۵) درجہ کی طرف جاتے ہوئے ہر قدم پر’’طالب علم‘‘ کی فضیلت پاؤں گا ۔ (۶) نگاہیں جُھکا کر رکھوں گا ۔ (۷)راستے میں ملنے والے اسلامی بھائیوں کوسلام کروں گا ۔ (۸) موقع ملاتو نیکی کی دعوت پیش کروں گا ۔ (۹) درجہ میں داخل ہوتے وقت سلام کروں گا ۔ (۱۰) دورانِ پڑھائی اگر کوئی میری جگہ پر بیٹھ چکا تو نرمی کے ساتھ وہاں سے اُٹھنے کی درخواست کروں گا ۔ (۱۱)جان بوجھ کر اَمْرد کے قُرب میں نہیں بیٹھوں گا ۔ (۱۲)درجہ میں بیٹھنے کی وجہ سے نیک صحبت کے فضائل حاصل کرنے اور صحبت کے حُقوق پورے کرنے کی کوشش کروں گا ۔ (۱۳)دینی کُتُب اور درس کی جگہ کا ادب کروں گا ۔ (۱۴)سبق شروع کرنے سے پہلے دُرودِپاک اور دُعا پڑھوں گا ۔ (۱۵)اُستاد صاحب کی بات توجہ سے سُنوں گا ۔  (۱۶) اگر کوئی بات سمجھ نہ آئی تو پوچھ لوں گا ۔ (۱۷) فضول اور بے محل سوالات کر کے اپنے ساتھی اوراُستادکو کوفت میں مبتلاء نہیں کروں گا ۔ (۱۸) قلّتِ فہم پر صبر اور کثرتِ فہم پر شکر کروں گا اور تکبر سے بچوں گا ۔ (۱۹)اگر اُستاد صاحب یا ناظم صاحب نے ڈانٹ دیا تو خاموش رہ کر صبر کروں گا ۔ (۲۰)ایک اُستاد صاحب کی کمزوریاں دوسرے اُستادصاحب کو بتاکر انہیں آپس کی رنجش میں مبتلاء نہیں کروں گا ۔ (۲۱)جائز سفارش کرنے کاموقع ملاتو ضرور کروں گا ۔ (۲۲)تعلیمی جدول پر عمل کروں گا ۔ (۲۳)اگر مجھے کسی کی شکایت کی وجہ سے کوئی سزا ملی تو میں اس سے بدلہ لینے کے لیے موقع کی تلاش میں نہیں رہوں گا ۔ (۲۴) ساتھی طلبہ کی کسی بات پر غُصّہ آنے کی صورت میں غُصّہ پی کر اس کی فضیلت کو حاصل کروں گا ۔ (۲۵) پورے بدن کا قفلِ مدینہ لگاؤں گا ۔ ( یعنی ہر ہر عضوکو خلافِ شرع استعمال سے بچاؤں گا) (۲۶) بلا اجازت کسی کی کتاب یا کاپی یا قلم وغیرہ استعمال نہیں کروں گا ۔ (۲۷) اگر سبق یاد کرنے کے دوران کوئی بات سمجھ میں نہ آئی تو اپنے سے ( بظاہر) کمزور یا عمر میں چھوٹے اسلامی بھائی سے پوچھنے سے شرم محسوس نہیں کروں گا ۔ (۲۸) اور اگر مجھ سے کسی نے سبق کے بارے میں کچھ دریافت کیا توحتّی المقدور احسن انداز میں سمجھانے کی کوشش کرکے مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کے فضائل پاؤں گا ۔ (۲۹) اگر مجھ سے نادانستہ طور پر کسی کی



Total Pages: 47

Go To