Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رِعَاءَ الشَّاءِ یَتَطَاوَلُونَ فِی الْبُنْيَانِ یعنی قیامت کی نشانیوں   میں   سے چند نشانیاں   یہ ہیں   کہ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور ننگے پاؤں   چلنے والے بڑی بڑی عمارتوں   میں   فخر کریں   گے۔ ‘‘ 

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اس کے بعد وہ شخص چلا گیا ،  میں   وہیں   ٹھہرا رہا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھ سے استفسار فرمایا:  ’’ یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ یعنی اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوالات کرنے والا شخص کون تھا؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:  ’’ اَللہُ وَرَسُولُہُ اَعْلَمُ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بہتر جانتے ہیں  ۔ ‘‘   ارشاد فرمایا:   ’’ فَاِنَّہُ جِبْرِیْلُ اَتَاكُمْ یُعَلِّمُكُمْ دِیْنَكُمْ یعنی یہ جبریل امین تھے جو تمہارے پاس تمہیں   دین سکھانے آئے تھے۔ ‘‘  ([1])

(3) رسول اللہ نے تمام حالات کی خبر دے دی:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں   نے حضرت امیر المومنین عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ فرماتے سنا کہ :   ’’ قَامَ فِیْنَاالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَاَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتّٰی دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ مَنَازِلَهُمْ وَاَھْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ یعنی ایک بار رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہمارے درمیان ایک جگہ کھڑے ہوئے اور آپ نے مخلوق کی پیدائش سے ہرچیز کی خبر دینا شروع کی یہاں   تک کہ جنتیوں   کے جنت میں   جانے اور جہنمیوں   کے جہنم میں   جانے کی خبر تک دے دی۔ ‘‘   مزید فرماتے ہیں  :   ’’ حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَہُ وَنَسِیُہُ مَنْ نَسِیَہ ُیعنی ہم میں   سے جس نے یاد رکھا سو اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا سو وہ بھول گیا۔ ‘‘  ([2])

(4)چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر بھی شکر:

حضرت سيدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہِ عالیشان ميں   حاضر ہو کر عرض کی:   ’’ يا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! ميں   نے فلاں   کو شکر ادا کرتے ديکھا وہ کہہ رہا تھاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اسےدودينار عطافرمائے ہيں  ۔ ‘‘   توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمايا:  ’’ مگر ميں   نے فلاں   کو ایک سے سو کے درمیان عطا فرمائے اس نے نہ شکر ادا کيا نہ ہی يہ بات کسی سےکہی ،  تم ميں   سےکوئی شخص ميرے پاس اپنی حاجت بغل ميں   دبا کر نکلتا ہے حالانکہ وہ آگ ہوتی ہے۔ ‘‘   ميں   نے عرض کی :  ’’ يارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  انہيں   کيوں   عطا فرماتے ہيں  ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ مانگنے سے باز نہیں   آتےاور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ ميں   بخل کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘   ([3])

(5)رسول اللہپانچ چیزوں   سے پناہ مانگتے:

حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ كَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَ سُوءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَۃِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ یعنی نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پانچ چیزوں   سے پناہ مانگا کرتے تھے:  (۱)بزدلی سے(۲) بخل سے(۳) بڑھاپے کی وجہ سے عقل کے فساد سے (۴) دل کے فتنےسے(یعنی شیطانی وساوس اور گناہوں   کے خیالات وغیرہ) اور (۵)عذاب قبر سے۔ ‘‘  ([4])

(6)اللہ کی قسم اٹھاؤ یا خاموش ہو جاؤ:

ایک بار حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سواری پر سوار تھے اور اپنے والد کی قسم اٹھارہے تھے تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اللہَ یَنْھَاكُمْ اَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ اَوْ لِیَسْكُتْ یعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تم اپنے آباء کی قسم اٹھاؤ تو جب کبھی قسم اٹھانی ہوتو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھاؤ یا خاموش ہو جاؤ۔ ‘‘  ([5])

(7)جنت کے آٹھوں   دروازے کھول دیے جاتے ہیں  :

حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر جہنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّاُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اِلَّا فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ اَيِّهَا شَاءَ یعنی جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے ،  پھر کلمہ شہادت پڑھے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں   دروازے کھول دیے جاتے ہیں   جس سے چاہے داخل ہو۔ ‘‘  ([6])

(8)مسجد بنانے والے کے لیے جنت میں   گھر:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سراقہ عدوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ:   ’’ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللّٰهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِیعنی جس نے اس لیے مسجد بنائی کہ اس میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کیا جائے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے جنت میں   ایک گھر تیار فرمادے گا۔ ‘‘  ([7])

 



[1]     مسلم ،  کتاب الایمان ،  بیان الایمان والاسلام والاحسان ،  ص۲۱ ،  حدیث: ۱۔

[2]     بخاری ، کتاب بدء الخلق ،  باب ماجاء فی قول اﷲ وھو الذی یبدء الخلق۔۔۔ الخ ، ج۲ ،  ص۳۷۵ ،  حدیث: ۳۱۹۲۔

[3]     صحیح ابن حبان ،  کتاب الزکاۃ ،  ذکر الاخبار۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۱۷۴ ،  حدیث: ۳۴۰۵۔

[4]     ابو داود ،  کتاب الوتر ،  باب فی الاستعاذۃ ،  ج۲ ،  ص۱۲۸ ،  حدیث: ۱۵۳۹۔

[5]     ابو داود ،  کتاب الایمان والنذور ،  باب فی کراھیۃ الحلف بالاباء ،  ج۳ ،  ص۳۰۰ ،  حدیث: ۳۲۴۹۔

[6]     ابن ماجہ ،  کتاب الطھارۃ وسننھا ،  باب ما یقال بعد الوضوء ،  ج۱ ،  ص۲۷۳ ،  حدیث: ۴۷۰۔

[7]     ابن ماجہ ،  کتاب المساجد والجماعات ،  باب من بنی للہ مسجدا ،  ج۱ ،  ص۴۰۷ ،  حدیث: ۷۳۵۔



Total Pages: 349

Go To