Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’ وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ اَنَّهَا النَّخْلَۃُ یعنی میرے دل میں   اس کا جواب آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ،  لیکن میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موجودگی میں   بولنے سے جھجک محسوس کی کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اتنے جلیل القدر صحابہ خاموش ہیں   تو میں   کیوں   بولوں  ؟ ‘‘   سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود ہی جواب ارشاد فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ بعد میں   میں   نے اپنے والد سے اس بات کا اظہار کیا کہ مجھے اس سوال کا جواب آتا تھا لیکن میں   آپ لوگوں   کی وجہ سے نہ بول سکاتو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آئندہ کے لیے میرا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ لَاَنْ تَكُونَ قُلْتَھَا اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ یَكُونَ لِیْ كَذَا وَكَذَا یعنی اے بیٹے! اگر تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے اپنے جواب کا اظہار کردیتا تو یہ مجھے فلاں   فلاں   چیز سے زیادہ محبوب تھا۔ ‘‘  ([1])

سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس کی حوصلہ افزائی:

ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خود ہی لوگوں   سے ایک آیت مبارکہ کی تفسیر کے متعلق استفسار فرمایا تو لوگوں   نے انکار کیا لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگرد رشید حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا کہ اس کے متعلق میرے ذہن میں   کچھ ہے۔تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے ارشاد فرمایا:   ’’  یَا ابْنَ اَخِیْ قُلْ وَلَا تَحْقِرْ نَفْسَكَ یعنی اے میرے بھتیجے! اگر تمہیں   معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر (یعنی چھوٹا) نہ سمجھو۔ ‘‘   ([2])

فاروقِ اعظم اور علم الافتاء

فاروقِ اعظم زمانۂ نبوی کے مفتی تھے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا:  ’’ مَنْ كَانَ یُفْتِی النَّاسَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں   کون فتوے دیا کرتا تھا؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا:  ’’ اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُمَا اَعْلَمُ غَیْرَھُمَایعنی میں   صرف دوشخصیات حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے علاوہ کسی کو نہیں   جانتا جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں  فتوی دیاکرتاہو۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم جامع شرائط مفتی تھے:

حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں  :   ’’ اِنَّمَا  یُفْتِی النَّاسَ ثَلاَثۃٌ رَجُلٌ اِمَامٌ اَوْ وَالِیٌ اَوْ رَجُلٌ یَعْلَمُ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنَ الْمَنْسُوخِ یعنی لوگوں   کو صرف تین لوگ فتویٰ دے سکتے ہیں  :  یا تو امام المسلمین یا حکومتی عہدے داریا وہ شخص جو قرآن پاک کے ناسخ ومنسوخ کا علم جانتا ہو۔ ‘‘   لوگوں   نے عرض کیا:   ’’ حضور! ایسا کون شخص ہے جس میں   یہ شرائط پائی جاتی ہوں  ؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم اور کتابت وحی

علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کئی اصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایسے ہیں   جو کاتب وحی تھےبعض کے اسماء یہ ہیں  : (۱) حضرت سیِّدُنا ابو بكر صدیق (۲) حضرت سیِّدُنا عمرفاروق (۳) حضرت سیِّدُنا عثمان غنی (۴) حضرت سیِّدُنا علي المرتضی (۵) حضرت سیِّدُنا ابي بن كعب (۶) حضرت سیِّدُنا زيد (۷) حضرت سیِّدُنا امیرمعاويہ (۸) حضرت سیِّدُنا حنظلہ بن ربيع (۹) حضرت سیِّدُنا خالد بن سعيد بن عاص (۱۰) حضرت سیِّدُنا ابان بن سعيد (۱۱) حضرت سیِّدُنا علاء بن حضرمي ۔رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  ۔([5])

فاروقِ اعظم رسول اللہ کے بائیں   طرف بیٹھتے تھے:

حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد حضرت سیِّدُنا امام محمد باقر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اور وہ اپنے دادا حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں   :

٭ …  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جب تشریف فرما ہوتے تو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کے دائیں   جانب بیٹھتے اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بائیں   جانب بیٹھتے تھے اور حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سامنے بیٹھتے تھے۔ ‘‘

٭ … ’’ یہ تینوں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سربستہ راز(یعنی وحی وغیرہ) لکھا کرتے تھے۔ ‘‘ 

٭ … ’’ جب رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچا حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لاتے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی جگہ خالی کردیتے اور وہ ان کی جگہ تشریف فرما ہوتے۔ ‘‘  ([6])

 



[1]     ترمذی ،  کتاب الامثال ،  ما جاء فی مثل المؤمن۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۳۹۶ ،  حدیث: ۲۸۷۶۔

[2]     بخاری ،  کتاب تفسیر القرآن ،  قولہ ایود احدکم۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۱۸۵ ،  حدیث: ۴۵۳۸۔

[3]     اسد الغابۃ ، عبد اللہ بن عثمان ابوبکر  ،  ج۳ ،  ص۳۳۰۔

[4]     دارمی ، باب فی الذی یفتی۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۷۳ ،  حدیث: ۱۷۱۔

[5]     کشف المشکل من حدیث الصحیحین ،  ج۱ ،  ص۳۷۲۔

[6]     کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  عباس بن عبد المطلب ،  الجزء: ۱۳ ،  ج۷ ،  ص۲۲۴ ،  حدیث: ۳۷۳۴۸۔



Total Pages: 349

Go To