Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حصول علم دین سے متعلق کئی اقوال موجود ہیں  ۔ چنانچہ ،

حکمرانوں   کو علم دین سیکھنے کی نصیحت:

حضرت سیِّدُنا احوص بن حکیم بن عمیر عنسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگی لشکروں   کے سپہ سالاروں   کے نام مکتوب لکھا اور ارشاد فرمایا:  ’’ تَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ فَاِنَّہُ لَا یُعْذَرُ اَحَدٌ بِاتِّبَاعِ بَاطِلٍ وَھُوَیَرٰى اَنَّہُ حَقٌّ وَلَا یُتْرَكُ حَقٌّ وَھُوَ یَرٰى اَنَّہُ بَاطِلٌ یعنی دین میں   سمجھ بوجھ پیدا کرو ،  کیونکہ جہالت کے سبب باطل کو حق سمجھ کر اس کی اتباع کرنے اور حق کو باطل سمجھ کر اسے ترک کرنے کا عذر قبول نہیں   کیا جائے گا۔ ‘‘  ([1])

سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری کو مکتوب:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ایک مکتوب لکھا اور حمد وصلاۃ کے بعد ارشاد فرمایا:   ’’ تَفَقَّهُوْا فِی السُّنَّۃِ وَتَفَقَّهُوْا فِی الْعَرَبِیَّۃِ وَاَعْرِبُوا الْقُرْآنَ فَاِنَّہُ عَرَبِیٌّ وَتَمَعَّدَدُوْافَاِنَّكُمْ مَّعْدِیُّوْنَ یعنی سنت میں   سمجھ بوجھ پیدا کرو اور عربی زبان کو اچھی طرح سیکھو اور قرآن پاک کو عربی لہجے میں   پڑھو کہ وہ عربی ہے اور اپنے آپ کو طاقتور بناؤ کہ تم معد بن عدی کی اولاد ہو۔ ‘‘  ([2])

عام لوگوں   کو حصول علم دین کی ترغیب:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:

٭…  ’’ تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوْ ہُ النَّاسَ علم خود بھی حاصل کرو اور لوگوں   کو بھی علم سکھاؤ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَتَعَلَّمُوا لَہُ الْوَقَارَ وَالسَّكِیْنَۃَاور علم کے لیے وقار اور سکینہ سیکھو۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَتَوَاضَعُوْا لِمَنْ تَعَلَّمْتُم مِّنْہُ الْعِلْمَ اور جس سے تم علم سیکھو اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ عَلَّمْتُمُوْہُ الْعِلْمَ اور جنہیں   تم علم سکھاؤ ان کے سامنے بھی عاجزی اختیار کرو۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا تَكُوْنُوْاجَبَابِرَةَالْعُلَمَاءِ فَلَایَقُوْمُ عِلْمُكُمْ بِجَھْلِكُم اور متکبر عالم نہ بنو کہ تمہارا علم جہالت کے ساتھ قائم نہیں   رہ سکتا۔ ‘‘   ([3])

قرآن کے حافظ اور علم کے چشمے بن جاؤ:

حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ كُوْنُوْا اَوْعِیَۃَ  الْكِتَابِ ویَنَابِیْعَ الْعِلْمِ ،  وَعُدُّوْا اَنْفُسَكُم مِّنَ الْمَوْتٰى ،  وَاسْاَلُوْا اللہَ رِزْقاً یَوْماً بِیَوْمٍ ،  وَلَا یَضُرُّكُمْ اِنْ یَكْثُرُ لَكُمْ یعنی قرآن کے حافظ اور علم کے چشمے بنو ،  اپنے آپ کو مردوں   میں   شمار کرواور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے ہر دن نیا رزق مانگو  ،  پھر اگر تمہیں   زیادہ مل جائے تو تمہیں   نقصان نہیں   دے گا۔ ‘‘   ([4])

فاروقِ اعظم کا اپنے اصحاب سے علمی مذاکرہ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ اپنے اصحاب سے علمی مذاکرات ومناظر ے کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ شاہ ولیُّ اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ کَانَ مِنْ سِیْرَۃِ عُمَرَ اَنَّہُ کَانَ یُشَاوِرُ الصَّحَابَۃَ وَیُنَاظِرُھُمْ حَتّٰی تَنْکَشِفُ الْغُمَّۃُ وَیَاْتِیْہِ الثَّلْجُ فَصَارَ غَالِبُ قَضَایَاہُ وَفَتَاوَاہُ مُتَّبَعَۃٌ فِیْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَمَغَارِبِھَایعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ میں   سے یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے اصحاب کے ساتھ علمی مذاکرے ومناظرے فرمایا کرتے تھے یہاں   تک کہ معاملہ بالکل واضح اور صاف ہوجاتا یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فیصلوں   اور فتاویٰ کی مشرق ومغرب میں   دھوم تھی۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم کم سن اصحاب کا حوصلہ بڑھاتے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف علمی مباحثے کو پسند فرماتے اور علمی مناظرے فرماتے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حلقۂ احباب میں   جو اصحاب حصول علم میں   دلچسپی لیتے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے۔خصوصاً حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ دونوں   ہمہ وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زیر تربیت رہتے تھے۔چنانچہ ،

سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر کی حوصلہ افزائی:

ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت میں   حاضر تھے  ، ساتھ ہی آپ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی بارگاہِ رسالت میں   حاضر تھے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو مخاطب کرکے ایک سوال پوچھااور ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَایَسْقُطُ وَرَقُهَا وَھِیَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ حَدِّثُونِیْ مَاھِیَ یعنی اے میرے صحابہ! بیشک ایک درخت ہے ،  جس کے پتے نہیں   گرتے اور وہ مومن کی مثل ہے ،  بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟ ‘‘ 



[1]     کنزالعمال ،  کتاب العلم ،  فی فضلہ والتعریض علیہ ،  الجزء: ۱۰ ،  ج۵ ،  ص۱۱۱ ،  حدیث: ۲۹۳۳۵۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب فضائل القرآن  ، ما جاء فی اعراب القرآن  ، ج۷ ، ص۱۵۰ ، حدیث: ۳۔

[3]     شعب الایمان للبیھقی ، باب فی نشر العلم ، ج۲ ، ص۲۸۷  ،  حدیث: ۱۷۸۹۔

[4]     الزھد للامام احمد ،  زھد عمر بن الخطاب ،  ص۱۴۸ ،  الرقم:  ۶۳۲۔

[5]     حجۃ اللہ البالغۃ ، باب کیفیۃ تلقی۔۔۔الخ ،  ص۱۳۲۔



Total Pages: 349

Go To