Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کاتب نصرانی تھا ،  اس نے تمام معاملات لکھ دیے اور سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ فاروقی میں   پیش کردیا۔ آپ کو اس کی لکھائی کی مہارت دیکھ کر بہت تعجب ہوا مگر آپ کے علم میں   نہ تھا کہ وہ کاتب عیسائی ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:   ’’  تمہارا کاتب کہاں   گیا ،  اسے اندر لاؤ تاکہ وہ مسجد میں   لوگوں   کے سامنے یہ تحریر پڑھ کر سنائے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض کرنے لگے:   ’’ یا امیر المومنین! وہ مسجد میں   نہیں   آسکتا۔ ‘‘   فرمایا:  ’’ کیوں  ؟ وہ جنبی ہے کیا؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ نہیں  !وہ کاتب عیسائی ہے ۔ ‘‘   یہ سننا تھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  جلال میں   آگئے اور سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بہت ڈانٹا اور فرمایا:   ’’ تم انہیں   اپنے قریب نہ کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں   دور کیا ہے۔ تم انہیں   عزت نہ دو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں   ذلت دی ہے اور تم انہیں   امن دے رہے ہو جب کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر خوف ڈالا ہے۔ میں   نے تمہیں   اہل کتاب یعنی غیر مسلموں   کو عہدے دینے سے روکا ہے ،  کیونکہ وہ رشوت لیناجائز سمجھتے ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

بے دین شخص ہمارا امانت دار نہیں   ہوسکتا:

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے فرمایا:   ’’ کوئی حساب کتاب کا ماہر آدمی لائیں   جو ہماری مدد کیا کرے۔  ‘‘  وہ ایک عیسائی کو لے آئے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا:   ’’ اے ابو موسیٰ! اس سے تو بہتر ہے ہم دونوں   مل کر حساب کتاب کرلیا کریں  ۔میں   نے تم سے وہ شخص مانگا تھا کہ جو ہماری امانت میں   شریک ہو(یعنی حساب کتاب بالکل درست کرے اس میں   کسی قسم کی خیانت نہ کرے) اور تم ایسے شخص کو لے آئے جس کا دین میرے دین کا مخالف ہے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم اورشرعی احکام کی پاسداری

امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  شرعی احکاما ت کی پاسدار ی میں   اس چاند کی مانند ہیں    جس کی چمکتی دمکتی روشنی گمراہی میں   بھٹکے لوگوں   کی راہنمائی کرتی ہے  ، احکام شریعت کا پابند بنا تی ہے ، نیکی کی دعوت دینے میں   اعانت کرتی ہے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  جس طرح خود احکام شریعت کی پابند ی فرماتے ایسے ہی اپنے ماتحت افراد کو بھی نیکی کی دعوت دے کرشریعت کا پابند بناتے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی انفرادی واجتماعی کوشش سے کئی لو گ فرائض  ونوافل پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ سنتوں   کے بھی عامل بن جاتے۔چنانچہ

چاندی کی انگوٹھی پہنو:

ایک مرتبہ دو شخص امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ میں   حاضرہوئے ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ان میں   سے ایک کے ہا تھ میں   سونے کی انگوٹھی دیکھی تو ارشاد فرمایا:   ’’ کیا تم لوگ سونے کی انگوٹھیاں   پہنتے ہو؟ ‘‘  تودوسرے شخص نے جواب دیا:  ’’ میری انگوٹھی تو لوہے کی ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ناگواری کااظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ یہ لوہے کی انگوٹھی تو اس سے زیادہ بدبودار اور خبیث ہے ، پھر دونوں   کومخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ اگر تمہیں   انگوٹھی پہننی ہی ہے تو چاند ی کی انگوٹھی پہنو۔ ‘‘  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صدر الشریعہ بدرالطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے ،  صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے ،  جو وزن میں   ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔([4])

مسجد کا ادب واحترام کرو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے مسجد میں   ایک شخص کی بلند آواز سنی  ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو مسجد میں   اس کا چلانا بہت معیوب لگا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے سرزنش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ کیا تجھے معلوم ہے کہ تواس وقت کہاں   ہے؟ ‘‘  (یعنی تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر مسجد میں   ہے اور مسجد کا ادب واحترام یہ ہے کہ یہاں   آواز پست رکھی جائے۔)([5])

مسجد میں   آواز بلند کرنا منع ہے:

حضرت سائب بن یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   :  ’’ میں   مسجد میں   موجود تھا اور وہیں   دو شخص بلند آواز سے گفتگو کررہے تھے۔اچانک کسی نے مجھےکنکری ماری  ، جب میں   نے کنکری مارنے والے کی طرف دیکھا تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  تھے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا:  ’’ جائو اور ان دونوں   کو میرے پاس لے آئو۔ ‘‘  میں   نے فوراًحکم کی تعمیل کی اور ان دونوں   کو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگا ہ میں   پیش کردیا ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان دونوں   سے ارشاد فرمایا:   ’’ تم کون ہواور کہاں   سے آئے ہو؟ ‘‘  انہوں   نے جواب دیا:   ’’ ہمارا تعلق طائف سے ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا:  ’’ تم حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد میں   آوازیں  بلند کرتے ہو ، اگر مدینے کے رہائشی ہوتے تومیں   تمہیں   ضرور سزا دیتا۔ ‘‘  ([6])

مساجد کا ادب واحترام کیجئے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مساجد کا ادب واحترام ہر شخص پر لازم ہے ،  مساجد خالصتاً دینی امور ،  نماز ،  اعتکاف ذکر اللہ ،  تلاوتِ قرآن وغیرہ کے لیے بنائی گئی ہیں  ۔ان میں   شورو غل



[1]     سنن کبری   ، کتاب الجزیۃ ، لایدخلون مسجدابغیر اذن ، ج۹ ،  ص۳۴۳ ،  حدیث: ۱۸۷۲۷ ،  ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۶۲۔

[2]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۶۲۔

[3]     طبقات کبری ، ابوموسی الاشعری ، ج۴ ، ص۸۶۔

[4]     بہارشریعت ،  ج۳ ،  حصہ۱۶ ،  ص۴۲۶۔

[5]     مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الصلاۃ ، فی رفع الصوت فی المساجد ، ج۲ ، ٓص۳۰۹ ، حدیث: ۲۔

[6]     بخاری  ، کتاب الصلوۃ  ، باب رفع الصوت فی المساجد ، ج۱ ،  ص۱۷۸ ،  حدیث: ۴۷۰۔



Total Pages: 349

Go To