Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

نے جن سے کہا:  ’’ اب بتاؤ تم مجھے کیا بات بتانا چاہتے تھے؟ ‘‘  جن نے کہا:   ’’  تمہیں   آیت الکرسی آتی ہے؟ ‘‘   صحابی نے جواب دیا:  ’’ جی ہاں  ۔ ‘‘   جن کہنے لگا:  ’’  رات کو اگرکسی گھر میں   آیت الکرسی پڑھ لی جائے تو صبح تک کوئی شیطان جن اس گھر میں   داخل نہیں   ہوسکے گابلکہ وہ اس گھر سے شریر گدھے کی طرح دور بھاگ جائے گا۔ ‘‘ 

یہ واقعہ سُن کرکسی نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا :  ’’ وہ صحابی کون تھے؟ کہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  تو نہیں   تھے؟ ‘‘  فرمایا:  ’’ اُن کے سوا اور کون ہوسکتا ہے؟ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور نیکی کی دعوت

امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے بارے میں   منقول ہے کہ ايک دفعہ کچھ کھانا مسجد کے دروازے کے پاس رکھا ہوا تھا ،  جب امير المؤمنين حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  باہر نکلے توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے دریافت فرمایا:  ’’ يہ کھانا کيسا ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عرض کی:  ’’ يہ کھانا شہر کے باہر سے ہمارے

 پاس لايا گيا ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کھانے میں   اور اس کو ہمارے شہر میں   لانے والے دونوں  میں   برکت عطافرمائے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے ساتھ موجود کسی شخص نے کہا:  ’’ اے امير المؤمنين رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! يہ ذخيرہ کيا گيا ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے دریافت فرمایا:   ’’ کس نے ذخيرہ کيا ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عرض کی:  ’’ فَرُّوخ(حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے آزاد کردہ غلام ) اور فلاں   نے ،  جوآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا غلام ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے دونوں   کو بلا بھيجا ،  وہ دونوں   حاضر ہوئے تو فرمایا:  ’’ تمہيں   مسلمانوں   کے کھانے کو روکنے کا اختيار کس نے ديا ہے؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کی:  ’’ اے امير المؤمنين رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ !ہم اپنے اموال سے خريدتے اور بيچتے ہيں  ۔ ‘‘   حضرت سيدنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا: ميں   نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو يہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ جس نے مسلمانوں   پر ان کا کھانا روک ليا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کوڑھ اور افلاس ميں   مبتلا کردے گا۔ ‘‘   پس اسی وقت حضرتِ سیِّدُنا فروخ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:  ’’ اے امير المؤمنين رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! ميں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آپ سے عہد کرتا ہوں   کہ آئندہ کبھی بھی کھانے کو ذخیرہ نہ کروں   گا۔ ‘‘   لہٰذا انہوں   نے اسے مصر کی طرف بھيج ديا جبکہ حضرت سيدنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے آزاد کردہ غلام نے کہا:  ’’ ہم اپنے اموال سے خریدتے اور بیچتے ہیں  ۔ ‘‘   بہرحال حضرت سیِّدُنا ابو یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (اس روایت کے راوی) فرماتے ہیں   :  ’’ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سيدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے اس غلام کو کوڑھ کی بیماری میں   مبتلا دیکھا ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم اورقبر کے احوال

ہمیں   قبر کیا نقصان دے گی؟

حضرتِ سیِّدُنا عَطاء بن یَسَار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  : رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیرُالمؤ منین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے فرمایا:   ’’  اے عمر! جب آپ کا انتقال ہو گا تو کیا حال ہو گا! آپ کی قوم آپ کو لے جائے گی اور آپ کے لئے تین گز لمبی اور ڈیڑھ گز چوڑی قَبْر تیار کریں   گے۔ پھر واپَس آکر آپ کو غسل دیں   گے اور کفن پہنائیں   گے اور پھر خوشبو لگا کر آپ کو اُٹھا ئیں   گے حتی کہ آپ کو قَبْر میں  رکھ دیں   گے پھر آپ (کی قبر) پرمِٹّی برابر کر دیں   گے اور آپ کو دفْن کر دیں   گے اور جب وہ واپَس لوٹیں   گے تو آپ کے پاس امتحان لینے والے دو فرِشتے مُنکَر و نکیر آئیں   گے  ، ان کی آواز بجلی کی کڑک جیسی اور ان کی آنکھیں   اُچکنے والی بجلی کی طرح ہوں   گی وہ اپنے بالوں   کو گھسیٹتے ہوئے آئیں   گے اور اپنے دانتوں  سے قَبْر کو کھود کر آپ کو جھنجھوڑ دیں   گے۔ اے عُمر! اُس وقْت کیا کیفیَّت ہو گی؟ ‘‘   حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:   ’’ کیا اُس وقْت میری عَقْل آج کی طرح میرے ساتھ ہو گی؟ ‘‘   فرمایا ،   ’’ ہاں   ۔ ‘‘  عرض کی :   ’’  پھر اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں   ان کو کافی ہوں   گا۔ ‘‘  ([3])

امام غزالی کی تشریح:

حُجّۃُ الْاسلام حضرتِ سیِّدُناامام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی یہ حدیثِ پاک نَقْل کرنے کے بعد فرما تے ہیں  :   ’’ موت کی وجہ سے عَقْل میں   کوئی تبدیلی نہیں   آتی صِرف بدن اور اَعضاء میں   تبدیلی آتی ہے۔ لہٰذا مُردہ اُسی طرح عَقْل مند  ، سمجھدار اور تکالیف و لذّات کو جا ننے والا ہوتا ہے ،  عقْل باطِنی شے ہے اور نَظَر نہیں   آتی۔ انسان کا جسم اگر چہ گل سڑ کر بِکھر جائے پھر بھی عقْل سلامت رہتی ہے۔ ‘‘  ([4])

  سخت تشویش اور خوف کا معاملہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خدا کی قسم ! تشویش ،  تشویش اور سخت تشویش خوف ،  خوف اور سخت ترین خوف کامُعامَلہ ہے  ،  جانور کی تو مرتے ہی قوّتِ مَحسُوسہ خَتم ہو جاتی ہے مگر انسان کی عقْل اور محسوس کرنے کی طاقت جُوں   کی تُوں   باقی رَہتی بلکہ دیکھنے اور سُننے کی قوّت کئی گُنا بڑھ جاتی ہے ۔ ہائے ! ہائے! اگر ہماری بد اعمالیوں   کے سبب تَبَارَکَ وَ َتَعَالیٰ ہم سے ناراض ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا ! ذرا سوچئے تو سَہی ! اگر ہمیں   خوبصورت اور آسائشوں   سے بھر پور کوٹھی میں  تنہا قید کر دیا جائے تب بھی گھبرا جا ئیں   ! اور ہم میں  سے شاید قبرِستان میں   تو کوئی بھی اکیلا ایک رات گزارنے کی ہمت نہ کر سکے ! آہ !اُس وقت کیا ہو گا جب مَنوں   مِٹّی تَلے ہمیں   اکیلا چھوڑ کر ہمارے اَحباب پلٹ جائیں   گے  ،  جسم اگرچہ ساکِن ہو گا  ، مگر عقل سلامت ہو گی  ،  لوگوں   کو جاتا



[1]     معجم کبیر ، عبداللہ بن مسعودالھذلی ،  ج۹ ،  ص۱۶۶ ،  حدیث: ۸۸۲۶۔

[2]     مسند امام احمد   ، مسند عمر بن الخطاب ، ج۱ ،  ص۵۵ ،  حدیث: ۱۳۵۔

 

[3]     احیاء العلوم ،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  بیان سوال منکر۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۲۵۸۔

[4]     احیاء العلوم ،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  بیان سوال منکر۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۲۵۸۔

 



Total Pages: 349

Go To