Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)) (پ۹ ،  الاعراف: ۱۹۹) ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں   سے منہ پھیر لو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے یہ آیت مبارکہ سنی اور اس میں   غور کیا تو اُسے معاف فرمایادیا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی عادت مبارکہ تھی کہ قرآن پاک سن کراپنے فیصلے سے رُک جاتے اور اس سے تجاوز نہ فرماتے تھے۔ اس معاملہ میں   حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے بھی حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی پیروی کی یوں   کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک شخص کو کوڑے مارنے کا حکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:  (وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ )  (پ۴ ،   اٰل عمران: ۱۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ اور غصہ پینے والے۔  ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے بھی اسے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔([1])

غصہ زائل کرنے کے مختلف طریقے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن  نے غصے کو زائل کرنے کے مختلف طریقے بیان فرمائے ہیں  ۔ علامہ ابن حجر ہیتمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے غصہ زائل کرنے کے درج ذیل پانچ طریقے بیان فرمائے ہیں   :

(1) پہلا طریقہ یہ ہے کہ انسان   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں   غور کرے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی اس پر غضب فرمائے گا کیونکہ انسان قیامت میں   عفوودرگزرکا زیادہ محتاج ہوگا ،  اسی لئے حدیثِ قدسی میں   آیا ہے :  ’’ اے ابن آدم! جب تجھے غصہ آئے تو مجھے یاد کر لیا کر میں   تجھے اپنے غضب کے وقت یاد رکھوں   گا اور ہلاک ہونے والوں   کے ساتھ تجھے ہلاک نہ کروں   گا۔ ‘‘ 

(2) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بندہ خود کو سامنے والے کے انتقام لینے سے ڈرائے کہ اگر کوئی شخص اس سے انتقام لینے پر مسلط ہو جائے ، اس کی عزت دَری کرے ،  اس کے عیوب کو ظاہر کرے اور اس کی مصیبت پر خوشی کے اِظہار وغیرہ جیسے دشمنانہ افعال کرے (تو اس پر کیا گزرے گی) یہ وہ دنیوی مصیبتیں   ہیں   جس سے آخرت پرکامل بھروسہ نہ کرنے والے کو بھی چاہیے کہ ان سے غفلت نہ برتے ۔

(3) تيسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان حالت غصہ کی بری صورت میں   غور کرے اور اپنے نزدیک غصے کی قباحت اور غضب ناک شخص کی کاٹنے والے کتے سے مشابہت کا تصور وخیال کرے اور بردبار شخص کی اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام و اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  سے مشابہت میں   غور کرے اور پھر ان دونوں   مشابہتوں   کے فرق میں   غور وفکر کرے۔

(4) چوتھا طریقہ یہ ہے کہ انسان غصہ کو ابھارنے والے شیطانی وسوسہ پر کان ہی نہ دھرے کیونکہ اگر وہ اسے چھوڑ دے تو وہ اسے لوگوں   کے سامنے عاجز ظاہر کر دے گا اور یہ سوچے کہ اس کا غصہ اور انتقام   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب اور اس کے انتقام سے کمتر ہے کیونکہ غضب ناک شخص کسی چیز کو اپنی چاہت کے مطابق دیکھنا چاہتاہے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِرادے پر نظر نہیں   رکھتا۔ اور جواس آفت میں   مبتلا ہوجائے تو وہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب اور اس کے عذاب سے بے خوف نہیں   ہوسکتا جو کہ بندے کے غصہ اور انتقام سے بہت بڑا اور سخت ہے۔

(5) پانچواں   طریقہ یہ ہے کہ وہ یہ عمل کرے کہ شیطا ن مردود سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہے اور اپنی ناک پکڑ کر یہ دعا مانگے:   ’’ اَللّٰھُمَّ رَبِّ النَّبِیِّ مُحَمَّدٍ اِغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَاَذْھِبْ غَیْظَ قَلْبِیْ وَاَجِرْنِیْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ یعنی اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! اے حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رب عَزَّ وَجَلَّ ! میرے گناہ بخش دے اور میرے دل کے غصے کو دور فرما اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں   سے نجات عطا فرما۔ کیونکہ یہ دعا حدیث مبارکہ میں   وارد ہوئی ہے ،  پھر اسے چاہے کہ بیٹھ جائے پھر بھی غصہ ختم نہ ہو تو لیٹ جائے تاکہ اسے جس زمین سے پیدا کیا گیا ہے اس کے قریب ہو جائے حتی کہ وہ اپنی اصل کے حقیر ہونے اور اپنے نفس کی ذلت کوپہچان لے اور غصہ سے پیدا ہونے والی حرکت اور حرارت سے پیدا ہونے والا غضب سکون پالے ۔([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غصے پر قابو پانے کے مزید طریقے جاننے کے لیے شیخ طریقت ،  امیر اہلسنت ،  بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ  ’’ غصے کا علاج ‘‘   کا مطالعہ کیجئے۔

فاروقِ اعظم کے غصہ ٹھنڈا کرنے کا مدنی انداز:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک مرتبہ غصے کے وقت ناک میں   پانی چڑھایا اور ارشاد فرمایا:   ’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور یہ عمل غصہ کو دور کردیتا ہے۔ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:   ’’ اے ابو ذر! نظر اٹھا کر آسمان اور اس کے خالق عَزَّ وَجَلَّ  کی عظمت کی طرف دیکھو ،  پھر یہ یقین کر لو کہ تم کسی سرخ یاسیاہ سے افضل نہیں   ،  مگریہ کہ تم علم میں   اس سے افضل ہو جاؤ۔جب تمہیں   غصہ آیا کرے تو اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اور اگر بیٹھے ہو تو ٹیک لگا لو اور اگر ٹیک لگا کر بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔ ‘‘  ([3])

آیت مبارکہ سن کر رک گئے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ حربن قیس بن حصن نے اپنے چچا عُیینہ بن حصن کے لیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجازت دے دی۔ وہ اندر آیا اور کہنے لگا:   ’’ اے خطاب کے بیٹے ! خدا کی قسم! تم نہ ہمیں   صلہ دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ ‘‘  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جلال آگیا اور قریب تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے پکڑ لیتے۔ حر بن قیس کہنے لگا:   ’’  اے امیر المومنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فرمایا ہے :  (خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)) (پ۹ ،  الاعراف: ۱۹۹) ترجمۂ کنز الایمان:  اے محبوب



[1]     الزواجر  ، الکبیرۃ الثالثۃ ،   ج۱ ،  ص۱۲۲۔

[2]     الزواجر عن اقتراف الکبائر ،  ج۱ ،  ص۱۰۶۔

[3]     اتحاف السادۃ المتقین ، کتاب ذم الغضب والحقدوالحسد ، باب بیان علاج الغضب بعدھیجانہ ، ج ۹ ، ص۴۲۷۔



Total Pages: 349

Go To