Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

!میرے قریب آجائو ،  تم مجھ سے ہو اور میں   تم سے ہوں   ،  حق میرے بعد تمہارے ساتھ ہوگا۔([1])

فاروقِ اعظم کی زبان پر فرشتہ بولتا ہے:

امیر المؤمنین حضرت مولا علی مشکل کشا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ  ’’   كُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ مَلَكًا یَنطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ یعنی ہم کہا کرتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبان پر فرشتہ بولتاہے۔  ‘‘  ([2])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں  :  ’’  ہم اصحاب نبی کا یہی گمان تھا کہ عمر کی زبان پر فرشتہ بولتا ہے۔ ‘‘  ([3])

حق وصداقت فاروقِ اعظم کے ساتھ ہے:

حضرت سیِّدُنا فضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلصِّدْقُ وَالْحَقُّ بَعْدِیْ مَعَ عُمَرَ حَیْثُ كَا نَ یعنی حق وصداقت میرے بعد عمر کے ساتھ ہے وہ جہاں   بھی رہیں  ۔ ‘‘  ([4])

حق وصداقت کے امین کا جنتی محل:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے بھی بتائیے کہ معراج کی رات آپ نے جنت میں   کیا کیا دیکھا؟ ‘‘  سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر بن خطاب! اگر میں   تمہارے درمیان اتنا عرصہ رہوں   جتنا عرصہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم میں   (ایک ہزار سال تک)  رہے اور پھر میں   تمہیں   وہ جنتی واقعات ومشاہدات بتاؤں   توبھی وہ ختم نہ ہوں  ۔لیکن اے عمر! جب تم نے مجھے یہ بول ہی دیا ہے کہ مجھے جنت کی باتیں   بتائیے تو پھر میں   تمہیں   وہ بات بتاتا ہوں   جو تمہارے علاوہ میں   نے کسی کو نہ بتائی۔ (اور وہ یہ ہے کہ )میں   نے جنت میں   ایک ایسا عالیشان محل دیکھا جس کی چوکھٹ جنتی زمین کے نیچے تھی اور اس کا بالائی حصہ جوف عرش میں   تھا۔میں   نے جبریل سے پوچھا :  اے جبریل! کیا تم اس عالیشان محل کے بارے میں   جانتے ہوجس کی چوکھٹ جنتی زمین کے نیچے اور بالائی حصہ عرش کے درمیان میں   ہے۔؟ تو جبریل نے عرض کیا:  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   نہیں   جانتا۔ میں   نے پھر پوچھا:  اے جبریل! اس محل کی روشنی توایسی ہے جیسے دنیا میں   سورج کی روشنی ،  چلو یہی بتادو کہ اس تک کون پہنچے گا اور اس میں   کون رہائش اختیار کرے گا؟ تو جبریل امین نے عرض کیا:  یَسْكُنُھَا وَ یَصِیْرُ اِلَیْھَا مَنْ یَّقُوْلُ الْحَقَّ وَیَھْدِیْ اِلَی الْحَقِّ وَاِذَا قِیْلَ لَہُ الْحَقُّ لَمْ یَغْضِبْ وَمَاتَ عَلَی الْحَقِّ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس محل میں   وہ رہے گا جو صرف حق بات کہتاہے اور حق بات کی ہدایت دیتاہےاور جب اسے کوئی حق بات کہتاہے تو وہ غصہ نہیں   کرتااور اس کا حق پر ہی انتقال ہوگا۔ ‘‘  میں   نے پوچھا:  اے جبریل! کیا تمہیں   اس کا نام معلوم ہے؟ عرض کیا:  جی ہاں   یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ ایک ہی شخص تو ہے۔ میں   نے پوچھا:  اے جبریل! وہ ایک کون ہے؟ عرض کیا:  عمر بن خطاب۔ ‘‘ 

یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر رقت طاری ہوگئی اور آپ غش کھا کر زمین پر تشریف لے آئے۔ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں  :   ’’ اس واقعے کے بعد ہم نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے چہرے پر کبھی ہنسی نہ دیکھی حتی کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم کے حق میں   درستی کی دعا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی کلام فرماتے توآپ کا کلام حق و صداقت پر ہی مبنی ہوتا اور آپ جوبھی کلام فرماتے اس میں   مُصِیْب یعنی درست ہی ہوتے کہ خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اصابت (درستی)کی دعا دی۔چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا ازرق بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار ہمیں   کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز پڑھائی جن کی کنیت اَبُوْ رِمْثَہ تھی۔نماز پڑھانے کے بعد وہ ہماری طرف منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگےکہ ایک بار میں   نے اسی طرح رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نماز ادا کی ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی صف اول میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں   جانب تشریف فرماتھے۔ حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے نماز مکمل فرماتے ہوئے دائیں   بائیں   اس طرح سلام پھیرا کہ ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے رخ روشن کی زیارت کی۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی طرف اسی طرح چہرہ اقدس پھیرکر بیٹھ گئے جس طرح میں   آپ لوگوں   کے سامنے بیٹھا ہوں  ۔ایک شخص دو رکعت نفل پڑھنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔جیسے ہی وہ کھڑا ہوا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلدی سے اٹھے اور اس کے قریب جاکر اس کے کندھے کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا:   ’’ بیٹھ جاؤ ،  کیونکہ اہل کتاب اسی بات سے تو ہلاک ہوئے ہیں   کہ انہوں   نے فرائض اور نوافل کے مابین فاصلہ نہ رکھا۔ ‘‘   حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:  ’’ اَصَابَ اللہُ بِكَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ یعنی اے عمر بن خطاب اللہ عَزَّ وَجَلَّ  تجھے ہمیشہ مُصِیْب  (یعنی درست بات کرنے والا )رکھے۔ ‘‘  ([6])

فاروقِ اعظم  ’’ صدیق ‘‘   ہیں 

 



[1]     تاریخ واسط ،  ذکر ولاۃ عمر بن الخطاب ،  ص۱۳۲ ،  ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۲۹۸۔

[2]     حلیۃ الاولیاء ، عمر بن الخطاب ، ج۱ ، ص۷۷ ، الرقم: ۹۶۔

[3]     مسند امام احمد  ، مسند علی بن ابی طالب  ، ج۱ ،  ص۲۲۶ ،  حدیث: ۸۳۴۔

[4]     معجم کبیر ، عطاء بن ابی۔۔۔الخ ، ج۱۸ ، ص۲۸۱ ، حدیث: ۷۱۸ملتقطا۔

[5]     کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضل الفاروق ،  الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۶۴ ،  حدیث: ۳۵۸۳۳۔

[6]     ابو داود ،  کتاب الصلوۃ ،  باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الذی صلی فیہ المکتوبۃ ،  ج۱ ،  ص۳۷۶ ،  حدیث: ۱۰۰۷۔



Total Pages: 349

Go To