Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا تو میں   اسے اس اُمت کے لئے نشان عبرت بنا دیتا۔کیا تمہیں   یاد نہیں   ہم ایک بے سرو سامان قوم تھے ،  پھر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   اسلام کے ذریعے عزت بخشی ،  جب بھی ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ عزت کے علاوہ عزت حاصل کرنا چاہیں   گے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   رسوا کردے گا۔ ‘‘  ([1])

عید گاہ کی طرف ننگے پاؤں   تشریف لے جانا:

حضرت سیِّدُنا زر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں   :   ’’ رَاَیْتُ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ یَمْشِیْ حَافِیاً یعنی میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (نماز عید کے لیے) ننگے پاؤں   ہی تشریف لیے جارہے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

عاجزی کے متعلق فرمان فاروقِ اعظم:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَ اللہُ حَكَمَتَہُ یعنی بندہ جب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی قدر ومنزلت کو بڑھا دیتا ہے۔ ‘‘   ([3])

 میرے عیب بتانے والامیرا محبوب :

حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ مَنْ رَفَعَ اِلَیَّ عُیُوْبِیْ یعنی مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو مجھے میرے عیب بتائے۔ ‘‘  ([4])

اپنے نفس سے عاجزی کا اقرار :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ فَمِنْ سَعَادَۃِ الْمَرْءِ اَنْ یُقِرَّ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْعِجْزِ وَالتَّقْصِیْرِ فِی جَمِیْعِ اَفْعَالِہٖ وَاَقْوَالِہٖ یعنی آدمی کی خوش بختی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے نفس سے عا جزی اور اپنے تمام افعال واقوال میں   کوتاہی کا اقرار کرائے۔ ‘‘  ([5])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بھی یہ عادت مبارکہ تھی کہ نہایت ہی عاجزی اونکساری کرنے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے نفس سے بھی عاجزی کا اقرار کرواتے۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا ابن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہیں   باہر نکلے تو میں   بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑا ،  کیا دیکھتا ہوں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک باغ میں   داخل ہوئے ۔میرے اور ان کے درمیان ایک دیوار تھی ،  میں   نے سنا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے آپ کو مخاطب کرکے بطور عاجزی ارشاد فرمارہے تھے:   ’’ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِینَ! وَاللہِ لَتَتَّقِیْنَ اللہَ اَوْ لَيُعَذِّبَنَّكَ یعنی اے مسلمانوں   کے خلیفہ! قسم بخدا تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہو ورنہ   وہ تمہیں   ضرور عذاب دے گا۔ ‘‘  ([6])

نفس کو ذلیل کرنے کا عزم:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر بن حفص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک بار امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی پشت پر مشکیزہ اٹھالیا۔ آپ سے عرض کی گئی کہ حضور آپ مت اٹھائیں   ،  ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ نَفْسِیْ اَعْجَبَتْنِیْ فَاَرَدْتُّ اَنْ اُذِلَّهَا یعنی میرے نفس نے مجھے عجب پسندی میں   مبتلا کردیا تو میں   نے اسے ذلیل کرنے کی ٹھان لی ۔ ‘‘  ([7])

فاروقِ اعظم کی تکبر کی نحوست سے پاکیزگی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عاجزی وانکساری کو پڑھ کر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں   ہوجاتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جہاں   عاجزی وانکساری کے پیکر تھے وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تکبر جیسی نحوست سے پاک وصاف تھے۔کیونکہ تکبر یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں   سے بڑا سمجھے اور دوسروں   کو اپنے آپ سے حقیر جانے۔ تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے جو تکبر کرے گا یقیناً ذلیل ہوگا۔

تکبر عزازیل را خوار کرد

بزندان لعنت گرفتار کرد

یعنی  ’’ تکبر نے عزازیل (شیطان)کو ذلیل وخوار کردیا اور اس کو لعنت کے جیل خانہ میں   گرفتار کردیا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد سب سے افضل وبہتر ہونے کی بارگاہِ رسالت سے سند عطا ہوئی لیکن آپ نے کبھی تفاخرانہ انداز اختیار نہ کیا اور نہ ہی کسی مسلمان کو حقیر جانا۔ بلکہ بسا



[1]     مستدرک حاکم  ،  کتاب الایمان ،  قصۃ خروج عمر الی الشام ،  ج۱ ،  ص۲۳۶ ،  حدیث: ۲۱۴۔

[2]     مستدرک حاکم  ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، ومن مناقب امیر ۔۔۔الخ ، ج۴ ، ص۳۲ ، حدیث: ۴۵۳۵۔

[3]     احیاء العلوم ،  کتاب ذم الکبر والعجب ،  بیان فضیلۃ التواضع ،  ج۳ ،  ص۴۱۹۔

[4]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۲۲۔

[5]     بحرالدموع  ،  ص۲۰۰۔

[6]     موطا امام مالک ،  باب ما جاء فی التقی ،  کتاب الکلام ،  ج۲ ،  ص۴۶۹ ،  حدیث: ۱۹۱۸۔

[7]     تاریخ الاسلام  ،   ج۳ ، ص۲۷۰۔



Total Pages: 349

Go To