Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میں   اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کر چکا ہوں  ۔ ‘‘  جو بھی ان تینوں   باتوں   میں   سے کوئی بھی بات کہے تو سمجھ لینا کہ بلاشبہ وہ جھوٹا ہے۔

یہ فرمانے کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  زار وقطار رونے لگے ۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ جب میں   نے اس گریہ و زاری کا سبب دریافت کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ مجھے آخرت میں   پیش آنے والا معاملہ رُلارہا ہے۔ ‘‘  میں   نے عرض کی:   ’’ اے امیرالمومنین!آپ میں   تین خصلتیں   ایسی ہیں   جن کی وجہ سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو کبھی عذاب نہیں   دے گا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا:  ’’ وہ کون سی خصلتیں   ہیں  ؟ ‘‘   میں   نے عرض کی:  ’’ (۱) آپ بات کرتے ہیں   تو سچ بو لتے ہیں  ۔(۲)فیصلہ کرتے ہوئے عد ل کرتے ہیں۔(۳) رحم کی اپیل کی جاتی ہے تو رحم کرتے ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی عاجزی وانکساری

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب کسی شخص میں   لا تعداد ایسے اوصاف موجود ہوں   جو اس کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کرتے ہوں   اور لوگوں   میں   ان کا چرچہ بھی ہو تو بسا اوقات ایسا شخص اپنے نفس کے مکرو فریب میں   آکر تکبراور خود پسندی جیسے امراض میں   مبتلا ہو جاتاہے ،  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بے شمار اوصاف کی حامل ہونے کے باوجود بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی ان باطنی امراض سے پاک اور مبراء تھے۔

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرتِ طیبہ پر کئی کتب لکھی جاچکی ہیں   اور تقریباً تمام لوگوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اخلاق ،  عادات واطوار کو بیان کرتے ہوئے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عاجزی وانکساری اور تواضع کو ایک مستقل باب میں   بیان کیا ہے ،  حقیقت یہ ہے کہ آپ جیسے عالم اسلام کے عظیم حکمران کا حقوقاللہ ،  حقوق الرسول ،  حقوق اہل بیت ،  حقوق العباد کی پاسداری ،  عدل وانصاف  ،  امن وامان قائم کرنے  ،  علم دین کی نشرو اشاعت وغیرہ جیسے جواہرات سے مرصع تاج پر عاجزی وانکساری ایک خوشنما طرہ معلوم ہوتی ہے۔ اسی عاجزی وانکساری کے سبب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو وہ عزت اور مقام ومرتبہ عطا فرمایا کہ آج تک چہار دانگ عالم میں   آپ کے ذکر کی دھوم ہے اور تا قیامت تمام مسلمان آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اَوصاف حمیدہ کو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ بیان کرتے اور ان پر عمل کرتے رہیں   گے۔

عاجزی وانکساری سے رفعت ملتی ہے:

 حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار ،  دو عالَم کے مالک و مختار ،  حبیبِ پروردگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مَا زَادَ اللہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللہُ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کے عفو ودرگزر کی وجہ سے اس کی عزت میں   اضافہ فرما دیتا ہے اور جو شخص   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ ‘‘  ([2])

حسنِ اخلاق کے پیکر ، نبیوں   کے تاجور ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ اَلتَّوَاضُعُ لَا یَزِیْدُ الْعَبْدَ اِلَّا رِفْعَۃً فَتَوَاضَعُوْا یَرْفَعَكُمُ اللہُ وَالْعَفْوُ لَا یَزِیْدُ الْعَبْدَ اِلَّا عِزًّافَاعْفُو یَعِزُّکُمُ اللہُ یعنی تواضع سے بندے کی رفعت میں   اضافہ ہوتاہے ،  لہٰذا تواضع اختیار کرو ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں   بلندی عطا فرمائے گا اور درگزرسے کام لیناعزت میں   اضافہ کرتاہے لہٰذا عفو ودرگزرسے کام لیا کرو ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں   عزت عطا فرمائے گا۔ ‘‘   ([3])

فاروقِ اعظم زمین پر آرام فرماتے :

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں  :  ’’ لَمَّا نَفَرَ عُمَرُ كَوَّمَ كَوْمَۃً مِنْ تُرَابٍ  ثُمَّ بَسَطَ عَلَیْھَا ثَوْبَہُ وَاسْتَلْقَى عَلَیْھَایعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب شہر سے باہر کہیں   سفر وغیرہ پر جاتے تو راستے میں   استراحت کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا کر اس پر کپڑا بچھاتے اور پھر آرام فرماتے۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم کا سفر حج عام مسلمانوں   کی طرح:

حضرت سیِّدُنا عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   فرماتے ہیں   کہ ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حج کے لیے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے تو پورے سفر حج میں   جہاں   کہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پڑائو کیا ،  نہ وہاں   خیمہ لگایا نہ قنات ،  صرف یہ کہ کسی درخت پر چادر یا چٹائی ڈال لیتے اور اس کے سائے میں   بیٹھ جاتے۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم کی عاجزی وانکساری کی انتہا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ملک شام تشریف لے گئے  ،  حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بھی آپ کے ساتھ تھے۔دونوں   ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں   گھٹنوں   تک پانی تھا ،  آپ اپنی اونٹنی پرسوارتھے  ،  اونٹنی سے اترے اور اپنے موزے اتار کر اپنے کندھے پررکھ لئے ،  پھر اونٹنی کی لگام تھام کرپانی میں   داخل ہو گئے تو حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :  ’’ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ اَھْلَ الْبَلَدِ اِسْتَشْرَفُوْكَ یعنی اے امیرالمؤمنین! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  یہ کام کررہے ہیں   مجھے یہ پسند نہیں   کہ یہاں   کے باشندے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو نظر اٹھا کر دیکھیں  ۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عاجزی وانکساری سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ اَوَّہْ لَمْ یَقُلْ ذَا غَيْرِكَ اَبَا عُبَیْدَۃَ جَعَلْتُہُ نَكَالًا لِّاُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اِنَّا كُنَّا اَذَلُّ قَوْمٍ فَاَعَزَّنَا اللہُ بِالْاِسْلَامِ فَمَھْمَا نَطْلُبُ الْعِزَّ بِغَيْرِ مَا اَعَزَّنَا اللہُ بِہٖ اَذَلَّنَا اللہُ یعنی افسوس اے ابوعبیدہ! اگریہ بات



[1]     موسوعۃ آثار الصحابۃ ، مسند آثار الفاروق  ،  ج۱ ،  ص۱۲۷ ،  الرقم: ۵۸۲۔

[2]     مسلم ،  کتاب البر ، باب استحباب العفووالتواضع ،  ص۱۳۹۷ ،  حدیث: ۶۹ مختصرا۔

[3]     جمع الجوامع ، حرف التاء ، ج۴ ، ص۱۲۵ ، حدیث: ۱۰۶۹۷ملتقطا۔

[4]     مصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۱۵۰ ،  حدیث: ۲۱۔

[5]     تاریخ ابن عساکر  ، ج۴۴ ، ص۳۰۵۔



Total Pages: 349

Go To