Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

شاہ  عبدالرحیم دہلوی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

حضرت شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی۱۱۳۱ھ)حضرت شمس الدین فاروقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی اولاد میں   سے ہیں  ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ۱۰۵۴ہجری کو پیدا ہوئے ،  علوم عقلیہ ونقلیہ کے جامع تھے۔ساری زندگی درس و تدریس سے وابستہ رہے ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ۷۷ سال کی عمر میں   وفات پائی۔([1])

شاہ ولیاللہ محدث دہلوی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی کنیت  ’’ ابو الفیاض  ‘‘  لقب  ’’ قطب الدین ‘‘  ہے۔آپ کا سلسلۂ نسب ۲۹واسطوں   سے امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے جا ملتاہے ۔([2])

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  میلاد النبی کے شیدائی تھے۔جس مقدس مکان میں   خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ولادت ہوئی ، تاریخ اسلام میں   اس مقام کا نام  ’’ مولد النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ‘‘   (رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی پیدائش کی جگہ) ہے  ، یہ بہت ہی متبرک مقام ہے۔ سلاطین اسلام نے اس مبارک یادگار پر بہت ہی شاندار عمارت بنا دی تھی ، جہاں   اہل حرمین شریفین اور تمام دنیا سے آنے والے مسلمان دن رات محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور صلوٰۃ و سلام پڑھتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے اپنی کتاب  ’’ فیوض الحرمین ‘‘   میں   تحریر فرماتے ہیں  :

٭… ’’ کُنْتُ قَبْلَ ذٰلِکَ بِمَکَّۃَ الْمُعَظَّمَۃِ فِیْ مَوْلِدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ یَوْمِ وِلَادَتِہٖ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یعنی اس سے قبل میں   مکہ معظمہ میں   میلاد شریف کے دن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جائے ولادت پر حاضر تھا ،  سب لوگ حضور نبی کریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود وسلام پڑھ رہے تھے۔ ‘‘ 

٭… ’’ یَذْکُرُوْنَ اِرْھَاصَاتِہِ الَّتِیْ ظَھَرَتْ فِیْ وِلَادَتِہٖ وَمَشَاھِدَہُ قَبْلَ بِعْثَتِہٖ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت کے وقت جو ارہاصات([3])ظاہر ہوئے تھے اور بعثت سے قبل جو واقعات رونما ہوئے تھے ان کا ذکر خیر کررہے تھے۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَرَاَیْتُ اَنْوَاراً سَطَعَتْ دَفْعَۃً وَاحِدَۃًلَا اَقُوْلُ اِنِّیْ اَدْرَکْتُھَا بِبَصَرِ الْجَسَدِ وَلَا اَقُوْلُ اَدْرَکْتُھَا بِبَصَرِ الرُّوْحِ فَقَطْ اَللہُ اَعْلَمُ  میں   نے ان انوار کو دیکھا جو یکبارگی اس محفل میں   ظاہر ہوئے اور میں   نہیں   کہہ سکتا کہ یہ انوار میں   نے اپنی ظاہری آنکھوں   سے دیکھے یا روح کی آنکھوں   سے دیکھے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّہی بہتر جانتا ہے۔  ‘‘ 

٭… ’’ کَیْفَ کَانَ الْاَمْرُ بَیْنَ ھٰذَا وَذَاکَ فَتَاَمَّلْتُ تِلْکَ الْاَنْوَارَ فَوَجَدْتُّھَا مِنْ قِبَلِ الْمَلَائِکَۃِ الْمُؤَکِّلِیْنَ بِاَمْثَالِ ھٰذِہِ الْمَشَاھِدِ وَبِاَمْثَالِ ھٰذِہِ الْمَجَالِسِ بہرحال جو بھی معاملہ ہوا جب میں   نے ان انوار وتجلیات میں   غور کیا تو پتہ چلا کہ یہ انوار ان ملائکہ کی طرف سے ظاہر ہورہے ہیں   جو اس طرح کی نورانی اور بابرکت محافل میں   شریک ہوتے ہیں   ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَرَاَیْتُ یُخَالِطُ اَنْوَارُ الْمَلَائِکَۃِ اَنْوَارَ الرَّحْمَۃِاور میں   نے یہ بھی دیکھا کہ ان ملائکہ سے ظاہر ہونے والے انوار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کے اَنوار سے مل رہے ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت شاہ ولی اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے فرزنداکبر ہیں  ۔آپ کی بے شمار تصانیف میں   سے  ’’ تفسیر فتح العزیز  ‘‘  المعروف  ’’ تفسیر عزیزی ‘‘   ،   ’’ تحفہ اثنا عشریہ ‘‘   ،   ’’ بستان المحدثین ‘‘   ،   ’’ فتاویٰ عزیزیہ ‘‘   اور  ’’ سرالشہادتین  ‘‘  سرفہرست ہیں  ۔

شاہ مخصو ص اللہ محدث دہلوی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت شاہ ولی اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے پوتے ہیں  ۔جید عالم اور صوفی بزرگ تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اُمت مسلمہ میں   افتراق ڈالنے والی فرقہ ورانہ کتاب  ’’ تقویۃ الایمان ‘‘  کا پہلا رد  ’’ مُعِیْدُ الْاِیْمَان ‘‘   کے نام سے لکھا ،  بعد ازاں   ہردور میں   علماء نے اس کتاب کے رد لکھے جن میں   اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے کئی رسائل فتاوی رضویہ میں   موجود ہیں   نیزاس سلسلے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے خلیفہ صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کی کتاب  ’’ اطیب البیان فی ردتقویۃ الایمان ‘‘   بھی ایک لا جواب کتاب ہے۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ ہندوستان کے مشہور عالم دین ہیں  ۔ ۱۲۳۳ھ ہجری میں   سہارنپور کے نواحی علاقے میں   پیدا ہوئے ، نہایت ہی قلیل الطعام یعنی کم کھانے والے تھے ،  تقوی وپرہیزگاری میں   اپنی مثال آپ تھے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد سے ہیں  ۔۱۳۱۷ھ ہجری میں   مکہ مکرمہ میں   انتقال فرمایا۔

شیخ الاسلام علامہ انواراللہ فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۱۲۶۴ھ میں   پیدا ہوئے ،  جامعہ نظامیہ (حیدرآباد دکن)کے بانی ہیں   ،  علوم وفنون میں   حاجی امداد اللہ مہاجر مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے شرف تلمذ حاصل کیا ،  آج بھی آپ کا فیض پاک وہند میں   جاری ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے دائرہ معارف قائم کیا ،  اعلی حضرت عظیم البرکت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے آپ کے لیے زبردست القابات استعمال



[1]     تذکرۂ علماء ہند ، ص۲۹۶ ،  المسویٰ شرح الموطا ، ج۱ ص۵۔

[2]     اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج۱ ، ص۳۱ ، المسویٰ شرح الموطا ، ج۱ ، ص ۵۔

[3]     حاشیہ:   ’’ نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہر ہو ،  اُس کو اِرہاص کہتے ہیں  ۔ ‘‘  بہارشریعت ،  ج۱ ،  حصہ۱ ،  ص۵۸۔

[4]     فیوض الحرمین ،  ص۲۶۔



Total Pages: 349

Go To