Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(3)  …ابوبکر بن سودہ بنت  عبد اللہ بن عمر بن خطاب           (4)  …اسید بن سودہ بنت عبد اللہ  بن عمر بن خطاب

(5)  …ابراہیم بن سودہ بنت عبد اللہ بن عمر بن خطاب  (6)عبد اللہ بن حفص بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

(7)…  ابوبکر بن حر بن عبید اللہ بن عمر بن خطاب       (8)…  عمر بن اُمّ عاصم بنت عاصم بن عمر بن خطاب (یہی مسلمانوں   کے خلیفہ  ’’ عمرِثانی ‘‘  سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔)

فاروقِ اعظم کی تین پرپوتیوں   کے نام:

 (1) …اسماء بنت سودہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب          (2)…اُمّ سلمہ بنت ابوبکر بن حر بن عبید اللہ بن عمر بن خطاب                                                          (3) …فاطمہ بنت عمر بن عاصم بن عمر بن خطاب۔([1])

فاروقِ اعظم کے نواسے

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی صرف دو بیٹیوں   سے آپ کی اولاد کا سلسلہ آگے چلا  ،  اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نواسے  ،  نواسیوں   کاذکر بہت کم ملتا ہے۔

فاروقِ اعظم کے دو نواسوں   کے نام:

 (1) عبد اللہ بن زینب بنت عمر بن خطاب       (2) عبد اللہ بن فاطمہ بنت عمر بن خطاب([2])

فاروقِ اعظم کے بھائیوں   کا تعارف

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فقط دو بھائیوں   کا تذکرہ کتب میں   ملتا ہے ،  تعارف پیش خدمت ہے:

پہلے بھائی:  سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

حضرت سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے علاتی یعنی باپ شریک بھائی ہیں   کہ ان دونوں   کے والد ایک اوروالدہ جداجدا ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے یہ بھائی آپ سے عمر میں   بڑے تھےاور ان کا قد مبارک بھی کافی لمبا تھا ۔انہوں   نے اسلام بھی آپ سے پہلے قبول کیا تھا ،  اوّلین مہاجرین میں   سے ہیں  ۔ غزوۂ بدر ،  غزوۂ احد ،  غزوۂ خندق ،  غزوۂ حدیبیہ وغیرہ تمام غزوات میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک ہوئے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ کا رشتۂ مواخات حضرت سیِّدُنا معد بن عدی انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ قائم فرمایا تھا۔امام بخاری  ،  امام مسلم اور امام ابوداود رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی روایات لی ہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عہدِ خلافت میں   جنگ یمامہ میں   ربیع الاول سن گیارہ یا بارہ ہجری میں   شہید ہوئے۔اس جنگ کا جھنڈا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی کے ہاتھ میں   تھا۔آپ کے شہید ہونے کا سب سے زیادہ افسوس آپ کے چھوٹے بھائی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو تھا۔جنگ اُحد میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   اپنی زِرہ دینا چاہی تو آپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ:  ’’ اِنِّیْ اُرِیْدُ مِنَ الشَّھَادَةِمَا تُرِیْدُ یعنی میں   بھی آپ ہی کی طرح راہِ خدا میں   شہادت حاصل کرنا چاہتا ہوں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت پر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ رَحِمَ اللہُ اَخِیْ سَبَقَنِیْ

۔۔۔۔۔نقشہ شجرۂ فاروقِ اعظم ۔۔۔۔۔

 



[1]     طبقات کبری ، عبد الرحمن بن زید ،  ج۵ ،  ص۳۷ ،  انساب الاشراف ،  ولد عبید اللہ بن عمر ،  ج۱۰ ،  ص۴۵۸ ،  طبقات کبری ،  عبد اللہ بن عمر ،  ج۵ ،  ص۴۳۳۔

[2]     الاصابۃ  ،  عبد اللہ بن عبد اللہ بن سراقۃ ،  ج۵ ،  ص۱۵ ، الرقم:  ۶۱۹۶ ،   تاریخ ابن عساکر ،  ج۷۰ ،  ص۲۲۵۔



Total Pages: 349

Go To