Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عہد میں   انہیں   ویسی ہی قربت حاصل تھی جیسی بعد وفات ان دونوں   کے مزار کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مزار سے قربت ہے۔ ‘‘  ([1])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا شقیق

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی محبت سنت ہے:

حضرت سیِّدُنا شقیق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں    ،  فرمایا:   ’’ حُبُّ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَمَعْرِفَۃُ فَضْلِھِمَا مِنَ السُّنَّۃِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرنا اور ان کی فضیلت کی معرفت رکھنا دونوں   باتیں   سنت ہیں۔ ‘‘  ([2])

 

شان فاروقِ اعظم بزبان امام حسن

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی محبت فرض ہے:

حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن جعفر لؤلؤی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا:   ’’ حُبُّ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ سُنَّۃٌ؟ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا:   ’’ لَا فَرِیْضَۃٌ یعنی سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی محبت سنت نہیں   بلکہ فرض ہے۔ ‘‘  ([3])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا زید بن علی

سیِّدُنا ابوبکر وعمر سے براءت مولا علی سے براءت ہے:

حضرت سیِّدُنا زید بن علی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَلْبَرَاءَۃُ مِنْ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ اَلْبَرَاءَۃُ مِنْ عَلِیٍّ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے براءت کا اظہار کرنا مولاعلی شیرخدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے براءت کا اظہار کرنا ہے۔ ‘‘  ([4])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مالک بن مغول

سیِّدُنا ابوبکر وعمر کی محبت کی وصیت:

حضرت سیِّدُنا شعیب بن حرب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا مالک بن مغول رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں   عرض کی:   ’’ حضور کچھ وصیت ارشاد فرمائیے۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ اُوْصِیَنَّکَ بِحُبِّ الشَّیْخَیْنِ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ یعنی میں   تمہیں   شیخین یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی محبت کی وصیت کرتاہوں  ۔ ‘‘  ([5])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مالک بن انس

حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ کَانَ صَالِحُوالسَّلْفِ یُعَلِّمُوْنَ

 

 اَوْلَادَھُمْ حُبَّ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ کَمَا یُعَلِّمُوْنَ السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یعنی بزرگان دین اپنی اولاد کو شیخین یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی محبت اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے۔ ‘‘  ([6])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا جبریل امین

فاروقِ اعظم کی رضاحکم اورجلال عزت ہے:

حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   حاضر ہوکر عرض کیا:   ’’  اَقْرِئْ عُمَرَ السَّلاَمَ وَاَخْبِرْهُ اَنَّ رِضَاهُ حُكْمٌ وَغَضَبَهُ عِزٌّیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! عمر کو سلام کہیے اور اُنہیں   یہ بھی بتا دیجئے کہ اُن کی رضا مندی کو حکم کا درجہ حاصل ہے اور اُن کا جلال باعث عزت ہے۔ ‘‘  ([7])

شان فاروقِ اعظم بزبان حضور داتا گنج بخش

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے اوصاف حمیدہ:

حضور داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شان اقدس میں   مدح سرائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

 ’’ دوسرے خلیفہ راشد ،  سرہنگ اہل ایمان ،  مقتدائے اہل احسان ،  امام اہل تحقیق ،  دریائے محبت کے غریق سیِّدُنا ابو حفص عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔ آپ کے فضائل



[1]   مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب ، الباب العشرون ، ص۴۳۔

[2]   مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب ، الباب العشرون ، ص۴۲۔

[3]   مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب ، الباب العشرون ، ص۴۲۔

[4]   مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب ، الباب العشرون ،  ص۴۳۔

[5]   مناقب امیر المومنین عمربن الخطاب ، الباب العشرون ، ص۴۳۔

[6]   تاریخ ابن عساکر ، ج۴۴ ، ص۳۸۳۔

[7]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۶ ،  الحدیث: ۵۲۔



Total Pages: 349

Go To