Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنامحمد بن سیرین

فاروقِ اعظم کی شان گھٹانے والامحب نبی نہیں  :

حضرت سیِّدُنا محمد بن سیرین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ مَا اَظُنُّ رَجُلًا يَنْتَقِصُ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان گھٹا تا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت نہیں   کرتا۔ ‘‘  ([1])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناسفیان ثوری

تمام مہاجرین وانصار صحابہ کو خطاوار ٹھہرانے والا:

حضرت سیِّدُنا محمد فریابی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو یہ فرماتے سنا:   ’’ مَنْ زَعَمَ اَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ اَحَقَّ بِالْوِلَايَةِ مِنْهُمَا فَقَدْ خَطَّاَ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْاَنْصَارَیعنی جس نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بنسبت مولاعلی شیرخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو خلافت کا زیادہ مستحق جانااس نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وتمام مہاجرین وانصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو خطاوار ٹھہرایا۔ ‘‘  ([2])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا شریک

مولاعلی کو شیخین پر مقدم کرنے والے میں   کوئی خیر نہیں  :

حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن  سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا شریک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَيْسَ يُقَدِّمُ عَلِيًّا عَلَى اَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ اَحَدٌ فِيْهِ خَيْرٌ یعنی جس شخص میں   تھوڑی سے بھی خیر وبھلائی ہوگی وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو شیخین یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر مقدم نہیں   کرے گا۔ ‘‘  ([3])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا اسامہ

سیِّدُنا ابوبکر وعمر اسلام کے ماں   باپ ہیں  :

حضرت سیِّدُنا محمد بن عاصم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا اسامہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   :   ’’ اَتَدْرُوْنَ مَنْ اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللہ عَنْهُمَا هُمَا اَبُوْ الْاِسْلَامِ وَاُمُّهُ یعنی اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکون ہیں  ؟ وہ دونوں   تو اسلام کے ماں   باپ ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مجاہد

فاروقِ اعظم کی رائے کے مطابق نزول قرآن:

حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن مہاجر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا مجاہد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ كَانَ عُمَرُ اذَا رَاَى الرَّأْيَ نَزَلَ بِهِ الْقُرْآنُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب کوئی رائے دیتے تو اسی کے مطابق قرآن پاک نازل ہوجاتا۔ ‘‘  ([5])

 

شیاطین کو بیڑیاں   لگی ہوئی تھیں  :

حضرت سیِّدُنا واصل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا مجاہد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ كُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ الشَّيَاطِينَ كَانَتْ مُصَفَّدَةً فِي زَمَانِ عُمَرَ  فَلَمَّا اُصِيبَ بُثَّتْ یعنی ہم یوں   کہا کرتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب تک حیات رہے تمام شیاطین کو بیڑیاں   لگی رہیں   اور جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا شیاطین آزاد ہوگئے۔ ‘‘  ([6])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام مالک

سیِّدُنا ابوبکر وعمر کا مقام قرب:

حضرت سیِّدُنا عتکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے پوچھا:   ’’ کَیْفَ کَانَتْ مَنْزِلَۃُ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنْ رَّسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟یعنی پیارے آقا کی بارگاہ میں   آپ دونوں   کاکیا مقام تھا؟ ‘‘  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا:   ’’  کَقُرْبِ قَبْرَیْھِمَا مِنْ قَبْرِہٖ بَعْدَ وَفَاتِہٖ یعنی



[1]   ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۴ ، الحدیث: ۳۷۰۵۔

[2]   ابو داود ،  کتاب السنۃ ،  باب فی التفضیل ،  ج۴ ،  ص۲۷۳ ،  الحدیث: ۴۶۳۰۔

[3]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۸۵ ،  تاریخ الاسلام  ،  ج۳ ،  ص۲۷۴۔

[4]   تاریخ الخلفاء ،  ص۹۶۔

[5]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۷۹ ،  حدیث: ۱۳۔

[6]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۱۵۔



Total Pages: 349

Go To