Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کی وفات پر ایک جن کے اشعار:

حضرت سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک جن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت سے قبل تین ۳بار رویا اور پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:

اَبَعْدَ قَتِيلٍ بِالْمَدِينَةِ اَصْبَحَتْ ... لَهُ الاَرْضُ تَهْتَزُّ الْعِضَاهُ بِاَسْوُقِ

ترجمہ:   ’’ کیا مدینہ منورہ میں   ایک شہید (یعنی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کے بعد بھی زمین اپنی شاخوں   کے ساتھ ہلے گی۔ ‘‘ 

جَزَى اللہ خَيْرًا مِنْ اَمِيرٍ وَبَارَكَتْ  ...  يَدُ اللہ فِي ذَاكَ الاَدِيمِ الْمُمَزَّقِ

ترجمہ:   ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اپنے دست قدرت سے اس ذات میں   برکت عطا فرمائے جو عنقریب ٹوٹ پھوٹ کا شکار (یعنی شہید)ہونے والی ہے۔ ‘‘ 

مَنْ يَسْعٰی اَوْ يَرْكَبْ جَنَاحَيْ نَعَامَةٍ ... لِيُدْرِكَ مَا اسْدَيْتَ بِالْاَمْسِ يُسْبَقِ

ترجمہ:   ’’ کون ہے ایسا شخص جو شتر مرغ کے پروں   پر سوار ہو کر ان اُمور کو حاصل کرلے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خلافت میں   انجام دیے۔ ‘‘ 

قَضَيْتَ اُمُورًا ثُمَّ غَادَرْتَ بَعْدَهَا ... بَوَائِقَ فِيْ اَكْمَامِهَا لَمْ تُفَتَّقْ

ترجمہ:   ’’ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بے شمار امور سر انجام دیے ،  پھر مصیبتوں   اور پریشانیوں   کو ان کی گھٹلیوں   میں   ایسے رکھ دیا کہ وہ کھل ہی نہ سکیں  ۔ ‘‘ 

وَمَا كُنْتُ اَخْشٰى اَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ  ...   بِكَفَّيْ سَبَنْتى اَخْضَرِ الْعَيْنِ مُطْرِقِ

ترجمہ:   ’’ پس مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں   ہے کہ ان (یعنی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کی شہادت ایک سبز رنگ کی آنکھوں   والے شخص کے ساتھ ہوگی ۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی وفات پردو غیبی اَشعار:

حضرت سیِّدُنا معروف بن ابومعروف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ جس دن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت ہوئی اس دن یہ دو غیبی اشعار سنے گئے:

لِيَبْكِ عَلَى الاسْلاَمِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا  ...  فَقَدْ اَوْشَكُوا هَلْكَى وَمَا قَدُمَ الْعَهْدُ

ترجمہ:   ’’ جو رو رہا ہے اسے چاہیے کہ وہ اسلام پر روئے کیونکہ اسلام کی آزمائش کا وقت قریب آچکا ہے حالانکہ ابھی اسلام کو تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے۔ ‘‘ 

وَاَدْبَرَتِ الدُّنْيَا وَاَدْبَرَ خَيْرُهَا ... وَقَدْ مَلَّهَا مَنْ كَانَ يُوقِنُ بِالْوَعْدِ

ترجمہ:   ’’ دنیا اور اس کی بھلائیاں   منہ پھیر کے چلی گئیں   کیونکہ اب اسے ان لوگوں   نے بھر دیا ہے جو جھوٹے وعدے کرتے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

تدفین کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہ کاپردہ کرنا:

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں   کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تدفین سے قبل میں   اپنے حجرے میں   یعنی جہاں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدفون ہیں   بغیر پردے کے آیا کرتی تھی (کیونکہ ایک تو میرے سرتاج و زوج اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتھے جبکہ دوسرے میرے والد گرامی تھے) لیکن جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وہاں   دفن کیا گیا تو میں   (آپ سے شرم وحیا کی وجہ سے) کبھی بغیر پردے کے وہاں   نہ آئی ،  پھر میری رہائش اور تینوں   مزارات کے درمیان ایک دیوار قائم کردی گئی تو میں   اپنے حجرے میں   بغیر پردے کے رہا کرتی تھی۔ ‘‘    ([3])

سیدہ عائشہ صدیقہ کا عقیدۂ حیات النبی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   تدفینِ فاروقِ اعظم سے پہلے بغیر پردے کے جایا کرتی تھیں   لیکن آپ کی تدفین کے بعد پردہ کیا کرتی تھی ،  آپ کے اس مبارک عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا عقیدہ تھا کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ،  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تینوں   اپنے اپنے مزارات میں   زندہ ہیں   ،  کیونکہ پردہ کرنے یا نہ کرنے کا تعلق زندوں   کے ساتھ ہے نہ کہ مردوں   کے ساتھ۔ آپ کے اس مبارک عمل کو کئی محدثین وشارحین ومؤرخین اور سیرت نگاروں   نے بیان کیا ہے لیکن کسی نے بھی اس عمل کو غلط نہیں   قرار دیا جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ اُمت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ اور قرآن وسنت کے بالکل مطابق ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آج بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عشاق  ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو چاہنے والے ،  اُن کی مدح سرائی کرنے والے یہی عقیدہ رکھتے ہیں  اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فضل وکرم ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے فیضان سے فیضیاب ہوتے ہیں   اور قیامت تک فیضیاب ہوتے رہیں   گے۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی عمر اور زمانۂ خلافت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ۲۶ذی الحجۃ الحرام بروز بدھ زخمی ہوئےاور یکم محرم الحرام کی شب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تدفین کی گئی۔ آپ کی عمر مبارک ۶۳



[1]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۳ ،  حدیث:  ۳۹۔

[2]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۵ ،  حدیث:  ۴۷۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۷۔



Total Pages: 349

Go To