Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

گیا۔([1])

چار صحابہ نے قبر میں   اتارا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نماز جنازہ کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلو میں   دفن کیا گیا  ،  آپ کے بڑے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا صہیب بن سنان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِن چار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے قبر میں   اتارا۔بعض روایات میں   حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام بھی آیا ہے۔([2])

قبر میں   فاروقِ اعظم کا جسد مبارک:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قبر میں   اس طرح رکھا گیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سر مبارک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کندھے کے برابر تھا اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سرمبارک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کندھے مبارک کے برابر تھا۔([3])

فاروقِ اعظم کا پاؤں   مبارک ظاہر ہوگیا:

حضرت سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ولید بن عبد الملک کے زمانے میں   مزارات ثلاثۃ کی تعمیر نو کے درمیان ایک پاؤں   ظاہر ہوگیا ،  تمام لوگ گھبرا گئے کہ کہیں   یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقدس پاؤں   تو نہیں   ہے۔ کوئی ایسا شخص نہ ملا جس سے اس بات کی تصدیق کی جاتی ،  بالآخر حضرت سیِّدُنا عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ملے جنہوں   نے اس بات کی وضاحت کی کہ یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقدس پاؤں   نہیں   بلکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مبارک پاؤں   ہے۔([4])

شہادت کے بعد آپ کے اصحاب کے تاثرات

مسلمانوں   پر سب سے بڑی مصیبت:

حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ لَمَّا حُمِلَ فَكَاَنَّ الْمُسْلِمِيْنَ لَمْ تُصِبْهُمْ مُصِيبَةٌ اِلَّا يَوْمَئِذٍیعنی جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی میت کو تدفین کے لیے اٹھایا گیا تو تمام مسلمانوں   پر ایسی شدید غم کی کیفیت طاری تھی گویا اس سے پہلے مسلمانوں   پر کبھی بڑی مصیبت آئی ہی نہیں   ہے۔ ‘‘  ([5])

آپ کی شہادت میں   بدترین مخلوق کا ہاتھ :

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی بدترین مخلوق کے ہاتھوں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہاد ت دی ۔ ‘‘  ([6])

فاروقِ اعظم ،  اسلام کا مضبوط قلعہ:

حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار ہم حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر خیر ہوا تو آپ زاروقطار رونے لگے یہاں   تک کہ آپ کے آنسوؤں   سے چٹائی تر ہوگئی۔ پھر ارشاد فرمایا:   ’’ بے شک سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلام کے لیے ایک ایسا مضبوط اور محفوظ قلعہ تھے جس میں   لوگ داخل تو ہوسکتے تھے لیکن نکل نہ سکتے تھے۔لیکن جیسے ہی آپ کا انتقال ہوا تو لوگ اسلام سے باہر نکلنے لگے۔ ‘‘  ([7])

فاروقِ اعظم کے چاہنے والے کتے سے محبت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ فلاں   کتا سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت کرتا ہے تو میں   اس کتے سے محبت کروں   ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   سمجھتا ہوں   کہ خاردار درخت بھی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال پر غمزدہ ہیں  ۔ ‘‘  ([8])

اِسلام آج کمزور ہوگیا:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے انتقال کے دن حضرت سیدتنا اُمّ اَیمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے فرمایا:   ’’ اَلْيَوْمَ وَهِيَ الْاِسْلَامُ یعنی آج اِسلام کمزور ہوگیا۔ ‘‘  ([9])

حق واہل حق دور نہ ہوتے تھے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے ،  جب اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا:   ’’ سیِّدُنا



[1]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۷۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۱ ،  اسدالغابۃ ،  ج۴ ،  ص۱۹۰۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۱۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۱۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۸ملتقطا۔

[6]   معجم اوسط  ، من اسمہ الھیثم ،  ج۶ ،  ص۴۶۸ ،  حدیث:  ۹۴۳۰ ملتقطا۔

[7]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۳۔

[8]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۴۔

[9]   معجم کبیر ،  ام ایمن۔۔۔الخ ،  ج۲۵ ،  ص۸۶ ،  حدیث:  ۲۲۱۔



Total Pages: 349

Go To