Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ نے پہنی ہوئی تھی اس میں   کفن دیا گیا۔ ‘‘   جبکہ حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ آپ کو کرتے اور حلے میں   کفنایا گیا۔([1])

فاروقِ اعظم کی نماز جنازہ

رسول اللہ کی چارپائی پر جنازہ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسد مبارک تجہیز وتکفین کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک چارپائی پر رکھاگیا اور اسی پر جنازہ پڑھاگیا۔([2])

چار تکبیروں   کے ساتھ نماز جنازہ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی وصیت کے مطابق آپ  کا جنازہ حضرت سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چار تکبیروں   کے ساتھ پڑھایا۔   ([3])

فاروقِ اعظم کا جنازہ پڑھانے والے صحابی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نمازِ جنازہ حضرتسیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھائی ،  آپ قدیم الاسلام اور مہاجرین اَوّلین صحابہ میں   سے تھے ،  تمام غزوات میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ کے نماز جنازہ پڑھانے کی وجہ یہ تھی کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے انتقال سے قبل نیا خلیفہ منتخب ہونے تک آپ ہی کو نمازیں   پڑھانے کی وصیت فرمائی تھی یہی وجہ ہے کہ جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جسد مبارک کو غسل وکفن دینے کے بعد نماز جنازہ کے لیے چارپائی پر رکھا گیا تو حضرت سیِّدُنا عثمان غنی وسیِّدُنا مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس سعادت کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھے لیکن حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دونوں   کو منع فرمادیا کیونکہ ابھی نئے خلیفہ کا انتخاب نہ ہوا تھا  ، اگر ان دونوں   میں   سے کوئی نماز جنازہ پڑھاتا تو ہوسکتا تھا کہ لوگ اسی کو خلیفہ سمجھتے اسی لیے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی وصیت کے مطابق سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نماز جنازہ پڑھانے کا حکم دیا۔([4])

قبر ومنبر کے درمیان جنازہ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نماز جنازہ جب ادا کی گئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسد مبارک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار ومنبر رسول کے درمیان تھا۔([5])

جنازے کے بعد مدح وثناء:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جنازے کے بعد تشریف لائے تو آپ نے وہاں   موجود لوگوں   سے فرمایا:   ’’ اِنْ كُنْتُمْ سَبَقْتُمُوْنِيْ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَلَا تَسْبِقُوْنِيْ بِالثَّنَاءِیعنی اگر چہ تم لوگ نماز کی ادائیگی میں   مجھ سے سبقت لے گئے ہو لیکن ان کی مدح وثناء یعنی تعریف کرنے میں   سبقت نہ کرنا۔ ‘‘  پھر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر! یقیناً آپ اسلام کے بہترین بھائی تھے ،  حق وسچ بات کہنے میں   سخی اور باطل وجھوٹی بات کہنے میں   بخیل تھے  ،  نہ تو کسی کی جھوٹی تعریف کرتے اور نہ ہی کسی کی سچی تعریف سے رکتے تھے ،  نہایت ہی اعلی ظرف اور عفو ودرگزر سے کام لینے والے تھے۔ ‘‘   ([6])

فاروقِ اعظم کی تدفین

سیدہ عائشہ سے تدفین کی اجازت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا:   ’’ اے بیٹے! جاؤ اور اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے اس بات کی اجازت لے کر آؤ کہ عمر اپنے دونوں   ساتھیوں   کے ساتھ دفن ہوناچاہتا ہے۔ ‘‘  میں   اُمّ المؤمنین کی بارگاہ میں   حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ بیٹھی ہوئی رو رہی ہیں  ۔میں   نے آپ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ  ’’ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دونوں   دوستوں   کے ساتھ تدفین کی اجازت مانگ رہے ہیں  ۔ ‘‘   انہوں   نے فرمایا:   ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ جگہ میں   نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن آج میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں   اور انہیں   یہاں   تدفین کی اجازت دیتی ہوں  ۔ ‘‘   میں   واپس آیا اور امیر المؤمنین کو بتایا کہ اُمّ المؤمنین نے تدفین کی اجازت عطا فرمادی ہے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ مَا كَانَ شَيْءٌ اَهَمَّ اِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ یعنی اے عبداللہ! میرے نزدیک اس جگہ سے زیادہ کوئی جگہ مبارک نہیں   ہے۔ ‘‘  پھر فرمایا:   ’’ اے عبد اللہ!جب میرا انتقال ہوجائے تو میری میت کو چارپائی پر رکھ کر اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے دروازے پر رکھ دینا اور پھر عرض کرناکہ:   ’’ عمر بن خطاب اجازت طلب کرتا ہے ،  اگر اجازت مل جائے تو مجھے وہیں   دفنا دینا ورنہ مسلمانوں   کے قبرستان جنت البقیع میں   دفنادینا۔ ‘‘  چنانچہ اجازت مل گئی اور آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلو میں   دفن کردیا



[1]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۹۔

[2]   اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۹۰۔

[3]   اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۸۹۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۰ ،  ۱۷۲۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۱۔

[6]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۲۔



Total Pages: 349

Go To