Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ کو کفن دے دیا گیا تھا ،  تمام لوگ آپ کے ارد گرد کھڑے ہوکر دعا مانگ رہے تھے ،  آپ کے اوصاف بیان کررہے تھے اور آپ کے لیے رحمت کی دعا کررہے تھے کہ اچانک پیچھے سے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ،  میں   نے مڑ کر دیکھا تو وہ مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   تھے ،  انہوں   نے بھی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے رحمت کی دعا اور آپ کی طرف دیکھ کر فرمانے لگے:   ’’ اے امیر المؤمنین!  آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا نہ چھوڑا جو مجھے آپ سے زیادہ محبوب ہو کہ میں   اُس کے نامۂ اَعمال کےساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملوں   ،  اورخدا کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو آپ کے دونوں   دوستوں   یعنی سید المرسلین ،  رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم و امیرالمومنین صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی رفاقت نصیب فرمائے گا۔کیونکہ میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اکثر یہ فرماتے سنا کرتا تھاکہ میں    ، ابوبکر اور عمر آئے ،  میں    ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ،  میں    ، ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔ ‘‘  ([1])

مولاعلی کی پسندیدہ شخصیت:

جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کفن دینے کے بعد چارپائی پر رکھ دیا گیا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   تشریف لائے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدح سرائی کی اور ارشاد فرمایا:   ’’ مَا اَحَدٌ اَلْقَى اللّٰهَ بِصَحِيفَتِهِ اَحَبَّ اِلَيَّ مِنْ هٰذَا الْمُسَجَّى بَيْنَكُمْ یعنی روئے زمین پر مجھے ان چادر اوڑھے ہوئے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے زیادہ کوئی شخص اتنا محبوب نہیں   ہےکہ جس کے نامۂ اعمال کے ساتھ میں   رب عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کروں  ۔ ‘‘  ([2])

رسول اللہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب:

حضرت سیِّدُنا عون بن حجیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کفنایا گیا تو میں   وہیں   موجود تھا ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمتشریف لائے اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرۂ مبارکہ سے کپڑا ہٹایا اور ارشاد فرمایا:   ’’ رَحِمَكَ اللّٰهُ اَبَا حَفْصٍ مَا اَحَدٌ اَحَبَّ اِلَيَّ بَعْدَ النَّبِيِّیعنی اے ابوحفص!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ،  رسول  اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد آپ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں  ۔ ‘‘([3])

 فاروقِ اعظم کا غسل مبارک

فاروقِ اعظم کو کس نے غسل دیا؟

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بڑے بیٹے اور جلیل القدر صحابیٔ رسول حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے غسل دیا۔  ([4])

کتنی بار اور کس پانی سےغسل دیا گیا؟

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ:   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بیری کے پتوں   والے پانی سے تین بار غسل دیا گیا۔ ‘‘  ([5])

مشک سے غسل کی ممانعت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن معقل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وصیت کی کہ میرے جسم پر مشک نہ ملی جائے۔ ‘‘  ([6])

فاروقِ اعظم کا کفن مبارک

کن کپڑوں   میں   تکفین کی گئی؟

حضرت سیِّدُنا مطلب بن عبد اللہ بن حنطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا انہی کپڑوں   میں   جنازہ پڑھایا گیا جن میں   آپ کو زخمی کیا گیا تھا۔ ‘‘  ([7])

کتنے کپڑوں   میں   تکفین کی گئی؟

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تین کپڑوں   میں   کفن دیا گیا۔ ‘‘   سیِّدُنا وکیع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ  ’’ آپ  کو دو سوتی کپڑوں   میں   کفن دیا گیا۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا محمد بن عبد اللہ اسدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ  ’’ آپ کو دو کتھی رنگ کے کپڑوں   اور جو قمیص



[1]   بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۷ ،  حدیث:  ۳۶۸۵۔

                                                 مسلم ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  باب من فضائل عمر۔۔۔الخ ،  ص۱۳۰۲ ،  حدیث:  ۱۴۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۲۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۳۔

[4]   اسدالغابۃ ، عمر بن الخطاب ، ج۱ ، ص۱۹۰۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۹۔

[6]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۹۔

[7]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۶۔



Total Pages: 349

Go To