Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

گے۔ ‘‘   یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:   ’’ اس غلام نے مجھے ابھی دھمکی دی ہے۔ ‘‘   بہرحال ابولؤلؤ نے وہاں   سے جانے کے بعد ایک دو۲ منہ اورتیز دھار والا خنجر تیار کیا ،  پھر اسے زہر آلود کرکے رکھ لیا۔

بعض روایات میں   یوں   ہےکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر سے جب نماز فجر کے لیے نکلتے تو صدائے مدینہ لگاتے ہوئے نکلتے یعنی راستے میں   لوگوں   کو نماز کے لیے جگاتے ہوئے آتے ،  ابولؤلؤ راستے میں   ہی چھپا ہواتھا اور اس نے موقع دیکھ کر آپ پر خنجر کے تین قاتلانہ وار کردیے جو مہلک ثابت ہوئے۔ جبکہ بعض روایات میں   یوں   ہے کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادت مبارکہ تھی کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اعلان فرماتے:   ’’ اَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ یعنی اپنی صفیں   سیدھی کرلو۔ ‘‘  پھر نماز شروع کرتے۔ابولؤلؤ بھی صف میں   موجود تھا ،  جیسے ہی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز شروع کی تو اس نے آپ پر اس خنجر سے حملہ کیا اور تین ۳شدید وار لگائے۔ آپ زخمی حالت میں   نیچے تشریف لے آئے۔([1])

قاتل نے خود کشی کرلی:

 ابولؤلؤ آپ کو زخمی کرکے بھاگ کھڑا ہوا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اس کتے کو پکڑو ،  اس نے مجھے قتل کردیا ہے۔ ‘‘   پوری مسجد میں   شور برپا ہوگیا ،  لوگ اس کے پیچھے بھاگے تو اس نے تقریباً بارہ افراد کو زخمی کردیا ،  جن میں   سے چھ ۶ افراد بعد میں   شہید ہوگئے ،  ایک صاحب نے اس پر کپڑا ڈال کر اسے دبوچ لیا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ اب میں   فرار نہیں   ہوسکتا تو اس نے اسی خنجر سے اپنے آپ کو قتل کردیا۔([2])

امیر کی اطاعت میں   ہی بہتری ہے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام حکمرانوں   کو حکم دے دیا تھا کہ  ’’ ہمارے پاس مایوس کن عجمی کافروں   کو نہ لایا کرو۔ ‘‘  جب ابولؤلؤ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی کردیا تو آپ نے پوچھا:   ’’ یہ کون ہے؟ ‘‘   بتایا گیا کہ سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا غلام ابولؤلؤ ہے۔ فرمایا:   ’’ اَلَمْ اَقُلْ لَكُمْ لاتَجْلِبُوا عَلَيْنَا مِنَ الْعُلُوجِ اَحَدًا فَغَلَبْتُمُونِيْ یعنی میں   نہ کہتا تھا کہ مایوس کن عجمی غلاموں   کو ہمارے پاس نہ لایا کرو ،  لیکن افسوس تم لوگ مجھ پر غالب آگئے۔ ‘‘  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ اپنے حاکم کی اطاعت ہی میں   بھلائی ہے ،  جبکہ اس کا حکم شریعت کے مطابق ہو ،  بلا وجہ شرعی فقط ذاتی ونفسانی خواہشات کی بنا پر حاکم یا نگران کی بات نہ ماننے میں   بہت سی خرابیاں   پیدا ہونے کا امکان ہے ،  اگر ہرشخص اپنی مرضی چلائے گا تو یقیناً سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کو گھر لایا گیا:

جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شدید زخمی ہوگئے تو سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختصر سورتیں   پڑھ کر تمام لوگوں   کو نماز فجر پڑھادی اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گھر لایا گیا۔آپ نے فرمایا:   ’’ میرے لیے کسی طبیب کو لاؤ۔ ‘‘   ایک طبیب کو لایا گیا اس نے پوچھا:  ’’ آپ کو کیا چیز پسند ہے؟ ‘‘  فرمایا:   ’’ نبیذ۔ ‘‘   جب آپ کو نبیذ پلایا گیا تو وہ زخموں   کے ذریعے باہر آگیا ،  لوگوں   نے یہ سمجھا کہ شاید زخموں   سے خون وغیرہ نکلا ہے۔ لہٰذا انہوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دودھ پلایا تو وہ بھی زخموں   سے باہر آگیا۔ طبیب نے کہا:   ’’ میرے خیال میں   یہ شام تک زندہ نہ رہ سکیں   گے ،  آپ لوگوں   نے جو معاملات کرنے ہیں   کرلیں  ۔ ‘‘   ([4])

فاروقِ اعظم کا قاتل کون تھا؟

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کرنے والے شخص کا نام ابولؤلؤ فیروز تھا ،  جلیل القدر صحابی حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ غلام تھا ،  جنگ نہاوند کے قیدیوں   میں   سے تھا ،  اس کے بارے میں   مختلف اقوال ہیں   البتہ یہ بات متحقق ہے کہ یہ مسلمان نہیں   تھا بلکہ غیر مسلم تھا۔ علامہ طبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی   فرماتے ہیں   کہ ابولؤلؤ نصرانی تھا جبکہ علامہ ذہبی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی روایت کے مطابق وہ مجوسی تھا۔([5])

فاروقِ اعظم کاشکر ادا کرنا:

زخمی ہونے کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گھر لایا گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیجا تاکہ وہ پتا کرکے آئیں   کہ ان کا قاتل کون ہے؟وہ گئے اور لوگوں   سے معلوم کرنے کے بعد آکر عرض کیا کہ :  ’’ آپ کا قاتل سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابولؤلؤ ہے اور اس نے دیگر لوگوں   کو بھی زخمی کیا ہے اور بالآخر اپنے آپ کو مار کر خود کشی کرلی۔ ‘‘  یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ جس نے میرے قاتل کو اپنے بارگاہ کا کبھی ساجد نہ بنایا۔ ‘‘  ([6])

سیِّدُنا کعب کی شہادت کی یاددہانی:

جب طبیب نے اس بات کی تصدیق کردی کہ آپ شہید ہوجائیں   گے تو وہاں   موجود حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اُن کی



[1]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۴۱۱ ،  طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۶۲۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استٰخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۹۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلا ف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۶۵۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۹۔

[5]   طبقات کبری ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳ ، ص۲۶۴ ، تاریخ طبری   ، ج۲ ، ص۵۵۹۔

                                                سیر اعلام النبلاء ، عمر بن الخطاب ،  ج۱ ، ص۵۲۹ ،  الرقم:  ۳۔

[6]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۶۳۔



Total Pages: 349

Go To