Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَنْہ فرماتے ہیں  کہ میں   رمضان المبارک میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ مسجد میں   آیاتو لوگ وہاں   مختلف اَنداز میں   نمازِ تراویح اَدا کررہے تھے۔ کوئی اپنی نماز انفرادی طور پرپڑھ رہا تھااور بعض نے جماعت قائم کی ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِرشاد فرمایا:   ’’ إِنِّي اَرَى لَوْجَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ اَمْثَلَیعنی میرا خیال ہے اگر میں   اِن سب کو ایک ہی اِمام کے پیچھے جمع کر دوں   تو بہت اچھا رہے گا۔ ‘‘   چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قاریٔ قرآن حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اِمام مقرر فرما کرتمام لوگوں   کو اُن کی اِقتداء میں   نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔ پھر ایک رات میں  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ مسجد میں   جانے کے لیے نکلا مسجد پہنچنے پر دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کے ساتھ نماز میں   مشغول ہیں  ۔ یہ منظر دیکھ کرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبہت خوش ہوئے اور اِرشاد فرمایا:   ’’ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِیعنی یہ نیا طریقہ کتنا اچھا ہے۔‘‘([1])

علامہ ابو بكر عبد الله بن محمد بن ابي شيبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الصَّلاَةِ فِي رَمَضَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي اللّٰهُ عَنْهُ جَمَعَهُمْ عَلَى اُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ یعنی رمضان المبارک میں   باجماعت نمازِ تراویح میں   تمام لوگوں   کو ایک اِمام حضرت سیِّدُنا اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے جس نے سب سے پہلے جمع فرمایا وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔  ‘‘  ([2])

حضرت سیِّدُنا ابو عبد اللہ محمد بن سعد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  واِمام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ هُوَ اَوَّلُ مَنْ سَنَّ قِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے شخص ہیں   جنہوں   نے رمضان المبارک کے مہینے میں   راتوں   کو قیام (باجماعت نمازِ تراویح ) کا اِہتمام فرمایا۔ ‘‘  ([3])

(20)…سب سے پہلے نمازجنازہ کی چار تکبیرات پر اجماع قائم کرانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے نماز جنازہ کی چار تکبیرات پر اِجماع قائم کرایا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو وائل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دورِ خلافت میں   تمام اَصحاب کو جمع فرمایا اور اُن سے اِسْتِفْسَار فرمایا کہ  ’’ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نمازِجنازہ میں   کتنی تکبیرات کہتے تھے؟  ‘‘  بعض نے کہا:   ’’ پانچ ‘‘   بعض نے کہا:   ’’ سات ‘‘   بعض نے کہا:   ’’ چار ‘‘   جس نے جو جو سنا تھا وہ اس نے بتادیا۔لیکن خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے چونکہ آخری جنازہ حضرت سیِّدُنا سہیل بن برصاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا پڑھایا تھا اور اُن کی نمازِ جنازہ میں   چار تکبیرات کہی تھیں   اِس لیے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا چار تکبیرات پر اِجماع ہوگیا۔([4])

اِمام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ جَمَعَ النَّاسَ فِي صَلَاةِ الْجَنَائِزِ عَلٰى اَرْبَعِ تَكْبِيْرَاتٍ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہی نماز جنازہ میں   چار تکبیرات پر لوگوں   کو جمع فرمایا۔ ‘‘  ([5])

(21)…سب سے پہلے اذان کے الفاظ میں   اضافہ کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے اَذان کے کلمات میں   عہدِ نبوی ہی میں   اِضافہ فرمایا۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ مؤذنِ رسول حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہابتداء ًاذان میں    ’’ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ‘‘   کے بعد  ’’ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ‘‘   کہا کرتے تھے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اے بلال! اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہکے بعداَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہ کہا کرو۔ ‘‘  یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو حکم ارشاد فرمایا:   ’’ قُلْ كَمَا اَمَرَكَ عُمَر یعنی اے بلال!جیسا عمر نے تمہیں   حکم دیا ہے ویسا ہی کہو۔ ‘‘  ([6])

(22)…سب سے پہلے اصحابِ فرائض میں   مسئلۂ عَول ایجاد کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے اصحابِ فرائض میں   مسئلۂ عَول ایجاد کیا۔ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ اَعَالَ الْفَرَائِضَ عُمَرُ یعنی اصحاب فرائض میں   جس نے سب سے پہلے مسئلۂ عَول ایجاد کیا وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔ ‘‘  ([7])

علمِ میراث کی اِصطلاح میں    ’’ مخرجِ مسئلہ جب وُرَثاء کے حصوں   پر پورا نہ ہوتا ہو یعنی حصے زائد ہوں   اور مخرج کا عدد حصوں   کے مجموعی اَعداد سے کم ہوتومخرجِ مسئلہ کے عدد میں   اِضافہ کردیاجاتا ہے اِسے عَول کہا جاتاہے۔ ‘‘  ([8])

(23)…سب سے پہلے شراب پر اَسی کوڑے لگانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے شراب کی حد قائم کرتے ہوئے شرابی کو اَسی کوڑے لگوائے۔ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی



[1]   بخاری  ، صلاۃ التراویح ، فضل من قام رمضان  ، ج۱ ،  ص۶۵۸ ،  حدیث: ۲۰۱۰۔

[2]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الاوائل ،  باب اول ما فعل ومن فعلہ ،  ج۸ ،  ص۳۳۵ ،  حدیث: ۹۲۔

[3]   الاوائل للعسکری ،  ص۱۵۲ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸۔

[4]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الجنائز ،  باب من کان یکبر علی الجناز ۃخمسا ،  ج۳ ،  ص۱۸۶ ،  حدیث: ۳۰ ،  الاوائل للعسکری ،  ص۱۶۴۔

[5]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸۔

[6]   صحیح ابن خزیمۃ ،  کتاب الصلوۃ ،  باب فی بدء الاذان والاقامۃ ،  ج۱ ،  ص۱۸۸ ،  حدیث: ۳۶۲۔

[7]   مستدرک حاکم ،   کتاب الفرائض ،  اول من اعال الفرائض عمر ،  ج۵ ،  ص۴۸۶ ،  حدیث: ۸۰۵۲ ملتقطا۔

[8]   بہارشریعت ،  ج۳ ،  حصہ۲۰ ،  ص۱۱۳۸۔



Total Pages: 349

Go To