Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کرکے ایک گنجان جزیرے میں   بھیج دیا۔([1])

(13)…سب سے پہلے اہل عرب کی عدم غلامی کا قاعدہ مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے یہ اُصول بنایا کہ اہل عرب کبھی غلام نہیں   بنیں   گے۔اگرچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے غلامی کو معدوم نہیں   کیا لیکن اِس میں   کوئی شک شبہ نہیں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مختلف طریقوں   سے اِس کے رَوَاج کو کم کردیا۔ عرب میں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِس کا اِستیصال (خاتمہ) فرمادیا اور اِرشاد فرمایا:   ’’ لَا یُسْتَرَقُّ عَرِبِیٌّ یعنی عربی کوغلام نہیں   بنایا جائے گا۔ ‘‘   ([2])

(14)…سب سے پہلے یہود کو عرب سے نکالنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے یہودیوں   کو جزیرۂ عرب سے مُلکِ شام کی طرف نکال دیا۔ محمد بن سعد بصری زہری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  :   ’’ ھُوَ اَخْرَجَ الْيَهُوْدَ مِنَ الْحِجَازِ وَاَجْلَاهُمْ مِنْ جَزِيْرَةِ الْعَرَبِ اِلَى الشَّامِ وَاَخْرَجَ اَهْلَ نَجْرَانَ وَاَنْزَلَهُمْ نَاحِيَةَ الْكُوْفَةَیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہودیوں   کو حجاز (جزیرۂ عرب) سے نکال کر ملک شام کی طرف اور اہل نجران کو کوفہ بھیج دیا۔ ‘‘   ([3])

(15)…سب سے پہلے وارث بننے والے دادا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَوّلیات میں   سے یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام میں   سب سے پہلے وارث ہیں   جنہوں   نے اپنے پوتے کی وراثت پائی۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد الرحیم بن غنم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْاِسْلاَمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام میں   پہلے دادا ہیں   جنہوں   نے اپنے پوتے (حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی وراثت پائی ۔ ‘‘  ([4])

(16)…سب سے پہلے وارث بننے والے آقا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَوّلیات میں   سے یہ بھی ہے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام میں   سب سے پہلے وارث ہیں   جنہوں   نے اپنے غلام کی وراثت پائی۔چنانچہ سیِّدُنا کثیر بن ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے امام زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے استفسار کیا:   ’’ مَنْ أَوَّلُ مَنْ وَرَّثَ الْعَرَبُ مِنَ الْمَوَالِي یعنی وہ پہلا شخص کون ہے جسے عربوں  نے اُس کے غلام کا وارث بنایا؟ ‘‘  تو امام زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا:   ’’ وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔ ‘‘  ([5])

سن ۲ ہجری میں   جنگِ بدر میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم کے غلام حضرت سیِّدُنا مِھْجَع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے پہلے شہید ہوئے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی اُن کے وارث ہوئے۔([6])

(17)…سب سے پہلے امام جنہوں   نے شہادت پائی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَوّلیات میں   سے یہ بھی ہے کہ اسلام میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے امام ہیں   جنہوں   نے شہادت پائی۔ایک مجوسی غلام  ’’ ابولؤلؤ ‘‘   نے نمازِ فجر میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو زہر آلود خنجر سے زخمی کیاجس کے سبب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت واقع ہوئی۔بعد ازاں   اُس غلام نے خود کُشی کرلی۔([7])

فاروقِ اعظم کی مذہبی اَوّلیات

(18)…سب سے پہلے جمع قرآن کا مشورہ دینے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ لڑی گئی جسے جنگِ یمامہ کہتے ہیں   ،  اِس جنگ میں   کثیر تعداد میں   حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  شہید ہوئے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو سب سے پہلے اِس بات کا مشورہ دیا کہ جو حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  حیات ہیں   اُن کی معاونت سے متفرق قرآنی صحائف کو جمع کرلیا جائے ،  چنانچہ سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِس مشورہ پرعمل کرکے قرآن جمع فرمادیا۔([8])

(19)…سب سے پہلے جماعتِ تراویح قائم کرانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے باقاعدہ تراویح کی جماعت قائم کروائی۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عبدالقاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]   اسد الغابۃ  ،  ابومحجن الثقفی ،  ج۶ ،  ص۲۹۱ملتقطا۔

[2]   سنن کبری  ،  کتاب السیر ،  باب من یجری علیہ الرق ،  ج۹ ،  ص۱۲۵ ،  حدیث: ۱۸۰۶۸ ملتقطا۔

[3]   طبقات کبریٰ ،   ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۴ ملتقطا۔

[4]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الاوائل ،  باب  اول ما فعل ومن فعل ،  ج۸ ،  ص۳۳۱ ،  حدیث: ۵۵ ملتقطا۔

[5]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الاوائل ،  باب  اول ما فعل ومن فعل ،  ج۸ ،  ص۳۳۰ ،  حدیث: ۴۹۔

[6]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الاوائل ،  باب اول ما فعل مؤمن فعلہ ،  ج۸ ،  ص۳۲۹ ،  حدیث: ۳۹۔

[7]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۶۔

[8]   بخاری ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب جمع القرآن ، ج۳ ،  ص۳۹۸حدیث: ۴۹۸۶۔

                                                اِس مسئلے کی تفصیل کے لیے تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۷۲۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’ فیضانِ صدیقِ اکبر ‘‘   ص۴۱۵ کا مطالعہ کیجئے۔



Total Pages: 349

Go To