Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(۱)ذاتی اوّلیات:                اُن اَوّلیات کا ذکر جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذاتی اُمور سے تعلق رکھتی ہیں  ۔

(۲)مذہبی اوّلیات:            اُن اَوّلیات کا ذکر جو مذہبی اُمور سے تعلق رکھتی ہیں  ۔

(۳)فلاحی اوّلیات:            اُن اَوّلیات کا ذکر جو رَفاہ عامہ اور فلاحی اُمور سے تعلق رکھتی ہیں  ۔

(۴)اِدارتی اوّلیات:            اُن اَوّلیات کا ذکر جو شعبہ جات کے قیام سے تعلق رکھتی ہیں  ۔

(۵)معاشی اوّلیات:          اُن اَوّلیات کا ذکر جو سلطنت کے معاشی اُمور سے تعلق رکھتی ہیں  ۔

(۶)جنگی اوّلیات:            اُن اَوّلیات کا ذکر جو جنگی وفوجی اُمور سے تعلق رکھتی ہیں  ۔

(۷)اخروی اوّلیات:           اُن اَوّلیات کا ذکر جوروزقیامت آپ کو حاصل ہوں   گی۔

فاروقِ اعظم کی ذاتی اَولیات

(1)…سب سے پہلے کفار کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے مسلمان ہیں   جنہوں   نے اسلام قبول کرتے ہی کفار کے سامنے جاکر اپنا اسلام ظاہر فرمادیا۔حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ  ’’ اَوَّلُ مَنْ جَھَرَ بِالْاِسْلَامِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی جس شخص نے سب سے پہلے اپنے اسلام کو ظاہر کیا وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔ ‘‘  ([1])

قبول اسلام کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبڑے بڑے کفار مکہ کے گھروں   میں   جاجا کر انہیں   اپنے اسلام پر آگاہ کرتے رہے بالآخر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کعبۃ اللہ شریف گئے اور ایک ایسے شخص کے سامنے اپنے اسلام کا اظہار کیا جس نے تمام کفار کو آپ کے اسلام پر مطلع کردیانیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا قبول اسلام دیکھ کر کفار مکہ نے آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں   بھی دی لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی ان سے ڈٹ کر مقابلہ فرمایا۔([2])

(2)…سب سے پہلے صدیق اکبر کی بیعت کرنے والے:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد جب سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کا معاملہ آیاتو اَنصار ومُہاجِرین میں   اختلاف ہوا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے تمام مسلمانوں   کو جمع کرنے کے لیے سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کی۔ چنانچہ علامہ ابن حَجر عَسْقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں   جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اَنصار ومہاجرین کے مابین تقریر فرمائی اور سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بیعت کے لیے پیش کیا تو انہوں   نے آگے بڑھ کر عرض کیا:   ’’ بَلْ نُبَايِعُكَ؛ اَنْتَ سَيِّدُنَا ،  وَخَيْرُنَا ،  وَاَحَبُّنَا إلَى رَسُولِ اللّٰهِ یعنی یہ لوگ میری نہیں   بلکہ ہم سب آپ کی بیعت کرتے ہیں   کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہمارے سردار ہیں   ،  ہم میں   سب سے بہتر ہیں   اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نزدیک ہم میں   سب سے زیادہ محبوب ہیں  ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ پکڑا اور آپ کی بیعت کرلی ۔پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھ کر سب لوگوں   نے بیعت کرلی۔علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَنَّ عُمَرَ اَوَّلُ مَنْ بَايَعَ اَبَا بَكْرٍ یعنی حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے شخص ہیں   جنہوں   نے سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کی۔ ‘‘  ([3])

(3)…سب سے پہلے امیر المؤمنین کا لقب پانے والے:

علامہ نور الدين علي بن ابي بكرهيثمي عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ فِيْ مَنَاقِبِ عُمَرَ اَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مناقب میں   سے یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے خلیفہ ہیں   جنہیں   امیر المؤمنین کہا گیا۔ ‘‘   

 حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے وایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تو  ’’ خلیفۂ رسولِ خدا ‘‘   کہا جاتا تھا ،  جب کہ مجھے یہ نہیں   کہا جاسکتاکیونکہ میں   تو سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خلیفہ ہوں   اور(اگر مجھے  ’’ خلیفۂ خلیفۂ رسولِ خدا ‘‘   کہا جائے تو) یوں   بات طویل ہوجائے گی۔ ‘‘  یہ سن کر حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےعرض کیا:   ’’ آپ ہمارے امیر ہیں   اور ہم مؤمنین  ،  تو آپ ہوئےامیر المومنین۔ ‘‘  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ یہ صحیح ہے۔ ‘‘  ([4])

(4)…سب سے پہلے قاضی بننے والے:

حضرت سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ وُلِیَ شَیْئاً مِنْ اُمُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَلَّاہُ اَبُوْبَکْر الْقَضَاءَ فَکَانَ اَوَّلَ قَاضٍ فِی الْاِسْلَامِ یعنی امیر



[1]   معجم کبیر ،  طاوس عن ابن عباس ،  ج۱۱ ،  ص۱۳ ،  حدیث: ۱۰۸۹۰۔

[2]   صحیح ابن حبان  ، ذکر وصف اسلام عمر۔۔۔الخ ،  الجزء: ۹ ،  ج۶ ،  ص۱۶ ،  حدیث: ۶۸۴۰ ملخصا۔

[3]   التلخیص الحبیر ، کتاب الامامۃ وقتل البغاۃ ،  ج۴ ،  ص۱۲۷۔

                                                 بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  ج۲ ،  ص۵۲۱ ،  حدیث: ۳۶۶۸ ملتقطا۔

[4]   مجمع الزوائد ،  کتاب الخلافۃ ،  باب کیف یدعی الامام  ،  ج۵ ،  ص۲۳۹ ،  حدیث: ۹۰۱۳۔

                                                 الاستیعاب ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۹۔



Total Pages: 349

Go To